Thursday, 17 October 2019
/ آپ بیتی / معاذ صدیقی / اچانک‎

اچانک‎

یہ دن تھا 28 جون 2013 کا۔ امارات میں میرا پہلا ماہ رمضان شروع ہونے میں چند دن باقی تھے۔ دس گھنٹے ملازمت اور دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد میں اس قابل نہیں رہتا تھا کہ باہر جا کر چائے بھی پی سکوں لہٰزا رمضان شاپنگ کا اہتمام اسی چھٹی والے دن طے ہوا۔ میں عموماً IT Operations یا Implementations میں کام کرتا آیا ہوں لہٰزا موبائل کے 24 گھنٹے آن ہونے کے سلسلے میں بہت حساس تھا اور ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی سے اسی بات پہ لڑتا رہا کہ بھائی یہ موبائل ایمرجنسی میں استعمال ہو سکتا ہے اسے آن رکھا کرو۔ 28 جون کو البتہ میرا اپنا موبائل پہلی بار تین گھنٹے تک چارج نہ ہونے کی وجہ سے بند تھا۔ 

پھل سبزیاں، برتن، جوسر سے لے کر مائیکرو ویو اوون تک کی خریداری کر کے ہم لدے پھدے گھر پہنچے اور آتے ہی میں نے اپنا موبائل چارج پہ لگا ڈالا۔ موبائل چند منٹ میں آن جو ہوا تو درجنوں Missed Call Alerts موصول ہوے اور وہ بھی تمام پاکستان کے نمبر سے۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ایک کال آئی جس میں کوئی شخص پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ رونے کی آواز ہر گز مانوس نہ تھی البتہ جب رونے والا مجھ سے گویا ہوا تو میں اپنے بھائی کی آواز پہچان گیا جس کے اگلے فقرے نے مجھے دنیا و ما فیہا سے کلی طور پہ Disconnect کر کے مکمل عدم کی طرف دھکیل ڈالا: "بھائی جان Pappa کا انتقال ہو گیا ہے"۔ اس کے یہ الفاظ میرے موبائل میں ریکارڈ ہو گئے اور میں آج بھی شدید کرب کی حالت میں یہ کال سن کر خود کو یقین دلاتا ہوں کہ دکھ یا تکلیف جو بھی ہو اس کال سے بڑھ کر بہرحال کچھ نہیں ہو سکتا۔ 

کل اسی شدت کی نہ صحیح لیکن پھر بھی کافی تکلیف دہ خبر سننے کو ملی کہ ہمارے بچپن کا آئیڈیل، لڑکپن کا سٹار اور جوانی کا ہدایت پانے والا جنید جمشید اپنی اہلیہ سمیت طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گیا ہے۔ ان کی زندگی کے بارے میں لکھنے کی میرا نہیں خیال کہ مجھے کوئی ضرورت ہے ہاں ضرورت اگر ہے تو اس بات کی کہ میں اور آپ مل کر یہ فیصلہ کریں کہ ایسی ناگہانی سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں، اپنے طرز عمل کو ایسا کیسے رکھ سکتے ہیں جس کو اپناتے ہوے ہمیں اپنا آپ منافق نہ لگے، کیسے ہم شدت پسندی اور شدت پسندوں کو اگنور کر سکتے ہیں تاکہ آئیندہ کسی جنید جمشید کی وفات کے بعد ہمیں ان کے بارے میں اپنی پچھلی رائے سے آنکھیں نہ بچانی پڑیں۔ 

پہلی بات اس ضمن میں جو میں نے سیکھی وہ یہ کہ کسی کی ایک غلطی یا بظاہر غلط نظر آنے والے کسی اقدام پہ ہمیں اس شخص کے پچھلے اچھے کام بھاڑ چولہے میں نہیں ڈالنے چاہئیں۔ دو مثالیں اپنے ذاتی تجربے سے پیش کرنا چاہوں گا۔ بسلسلہ ملازمت میں نے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا۔ والد مرحوم نے بہت مخالفت کی اور سچ پوچھیے تو ان دنوں میں اس بات پر کافی نالاں رہا کہ میری تنخواہ 4 گنا بڑھنے پہ صدیقی صاحب کیوں خوش نہیں۔ ایسا سوچتے ہوے میں بھول گیا کہ یہ وہی باپ ہے جس نے مجھے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، جو مجھے سردی گرمی 10 سال یعنی 3650 دن پابندی کے ساتھ سکول لاتا لے جاتا رہا اور جس نے تمام زندگی گزار ڈالی میری چھوٹی چھوٹی خوشیوں پہ مسکراتے ہوے۔ میں چند لمحے بھول گیا تھا کہ ان کی بھلائیوں کا بدلہ تو میں مرتے دم تک نہ چکا سکوں گا۔ یہ تمام باتیں میں نے تب سمجھیں جب مجھے پچھلے سال اپنی اولاد کو چند ماہ کے لئے کراچی بھیجنا پڑا۔ مجھے احساس ہوا کہ کابل کے کراچی سے کہیں زیادہ خطرناک ہونے کی وجہ سے میرے والد پہ کیا گزری ہوگی۔ ایسی اور کئی باتیں تھیں جب پہ مجھے والد صاحب سے ان کی زندگی میں اختلاف ہوتا تھا مگر ان کی وفات کے بعد احساس ہوا کہ اس وقت اختلاف غلط تھا۔ 

ایک اور مثال جنید جمشید کی ہے۔ ڈالمن مال کراچی میں بیگم نے عبائے کی فرمائش کی۔ مجھے لگا جنید جمشید کی JJ پہ شاید عبائے موجود ہوں تاہم میرا خیال غلط تھا۔ امارات کے ہر مال میں عبائے کی کئی شاندار Outlets دیکھتے دیکھتے میں پاکستان سے بھی یہی امید لگائے بیٹھا تھا جو کہ غلط تھی۔ پورے ڈالمن مال میں 2 سے 3 دکانیں تھیں جہاں عبائے دستیاب تھے اور یہ دکانیں بھی اتنی اندر کر کے اور اتنی چھوٹی کہ نہ پوچھئے۔ تب میرے ذہن میں جنید جمشید کے لیے طنزیہ خیالات آئے کہ اتنا اسلامی بندہ اور عبائے نہیں رکھ سکتا۔ ایسا سوچتے ہوئے میں جنید کی تاریخ نظرانداز کر گیا تھا جو مجھے نہیں کرنی چاہئے تھی۔ میں بھول گیا تھا کہ اس شخص کو نہ دولت کی کمی تھی نہ شہرت کی مگر پھر بھی اس نے عیاشی کی زندگی چھوڑ کر ایک ایسی زندگی کا انتخاب کیا جس میں تبلیغ کے نام پر انسان دور دراز کے گاؤں دیہات میں مچھروں اور پانی کی قلت سے لی کر گھر بار کی یاد سبھی تجربات سے گزرتا ہے۔ ذاتی طور پہ میں تبلیغی نہیں البتہ ایک نہایت ہی شریف النفس عزیز کی دوران تبلیغ نصرت کے سلسلے میں چھوٹا لاہور صوابی میں ایک رات ایسی ہی مسجد میں گزار چکا ہوں جس کے بعد کم از کم تبلیغ کے عمل سے کئی اختلافات کے باوجود اس کی تعظیم ضرور رکھتا ہوں۔ 

ایسی موت سے ہمیں یہ بھی سیکھ لینا چاہئے کہ یہ زندگی بہرحال پانی کے بلبلے کی مانند ہے جسے بہت جلد ختم ہو جانا ہے۔ آپ کی تمام تر پلاننگ دھری کی دھری رہ جانی ہے اگر اس میں موت نامی "Unforeseen Event" یا "Act of God" کو شامل نہیں کیا گیا۔ 

عموماً ہماری روایات میں مرحومین ہر کیچڑ اچھالنا شامل نہیں البتہ ناجائز چونکہ کہیں بھی پائی جا سکتی ہے لہٰزا ایدھی مرحوم کی طرح جنید جمشید کی وفات کے بعد آپ کو بکواسات ضرور نظر آئینگی۔ سوشل میڈیا کے مضمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہاں نیچ اور گھٹیا پوسٹ کو اپنے تئیں برائی بنا کے شئیر کیا جاتا ہے لیکن شاید نہ چاہتے ہوے بھی ہم ایسی خرافات کو وائرل بنانے کا آلہ کار بن رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ کسی کے دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد اس کے بارے میں کوئی نیچ انسان کوئی گھٹیا بات کرتا بھی ہے تو اسے اگنور کیا جائے تاکہ ایسی بکواس اپنی غیر مقبولیت کی موت ماری جائے۔

جنید جمشید کا دار فانی سے کوچ کر جانا ایک بڑا غم ہے۔ سال 2016 اپنے ساتھ ایدھی، جنید جمشید، اور امجد صابری سمیت کئی نام لے گیا۔ ان تمام لوگوں کے ہوتے ہوئے ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا ہو گا۔ وقت بہرحال چلتا ہی رہے گا اور ہمیں بھی ایک دن ایسے ہی یہاں سے جانا ہی ہوگا۔ ہمارے جانے کے بعد جو چیز زندہ رہے گی وہ چند الفاظ ہونگے جن کے ذریعے ہمارا ذکر کیا جائے گا۔ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ ہم ان الفاظ کو مثبت کیسے بنا سکتے ہیں۔