1. ہوم
  2. غزل
  3. گل بخشالوی
  4. برہنہ پیڑوں کے پتے تلاش کرتا ہوں
Gul Bakhshalvi

برہنہ پیڑوں کے پتے تلاش کرتا ہوں

برہنہ پیڑوں کے پتے تلاش کرتا ہوں
گئی بہار کے خاکے تلاش کرتا ہوں

غموں کی بحر میں تنکے کا آسرا لے کر
میں حسرتوں کے کنارے تلاش کرتا ہوں

جہاں لُٹا تھا کبھی قافلہ محبت کا
اُسی نگر میں وہ رستے تلاش کرتا ہوں

مہک رہی ہے فضا آج جن کی خوشبو سے
میں کربلا کے وہ غنچے تلاش کرتا ہوں

کہاں گئی وہ محبت، کہاں گئے وہ لوگ
گئی رُتوں کے اثاثے تلاش کرتا ہوں

وہ جن کو دیکھ کے گل کو سکون ملتا تھا
بہت دنوں سے وہ چہرے تلاش کرتا ہوں