آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہےکرن ہاشمی18 جون 2026غزل0101آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے چاندنی اوڑھ کے تاروں کی بہن اتری ہے شہرِ پندار کے خاموش سے انساں دیکھو ایسا لگتا ہے کوئی روحِ چمن اتری ہے کس کی آہٹ سے لہومزید »
سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیاکرن ہاشمی11 جون 2026غزل0106سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیا اُجڑنے والوں نے دیکھی ہیں حسرتیں کیا کیا شجر سے کٹ کے جو پنچھی ہوا کی زد میں ہے وہ جانتا ہے کہ ہوتی ہیں ہجرتیں کیا کیا مزید »
اُلجھتی سانس کا اب کوئی اِعتبار نہیںخرم سہیل09 جون 2026غزل0110اُلجھتی سانس کا اب کوئی اِعتبار نہیں تمہارے بعد کوئی میرا غم گسار نہیں چلیں، رکیں یا پل بھر میں چل کے تھم جائیں دھڑکتی دھڑکنوں کا اب تو اعتبار نہیں تو جس سفر مزید »
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنیاحمد فراز07 جون 2026غزل0138یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی کوئی خدا ہو کہمزید »
شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلےکرن ہاشمی04 جون 2026غزل0147شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلے ہم خود ہی اپنی یاد سے آزاد ہو چلے کتنے ہی لوگ شہر کی رونق میں کھو گئے بستی کے سارے رابطے نایاب ہو چلے صحرا کی دھوپ چاٹ گئی صبرمزید »
وہ راستے سے ہٹا گیا تھاعلی رضا احمد03 جون 2026غزل0207وہ راستے سے ہٹا گیا تھا دیے بھی سارے بُجھا گیا تھا صبا کی مٹھی میں وہ تو شاید تمام موسم تھما گیا تھا جو وقت گزرا اداسیوں میں وہ جانے کیا کیا سکھا گیا تھا عجیمزید »
ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورتخرم سہیل02 جون 2026غزل069ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت ہر لمحہ نکلتی ہے یہاں پیار کی صورت صورت ہے بھلی یا نہ بھلی بعد کی ہے بات سیرت ہو بھلی نکلے گی اظہار کی صورت گر مل کے نکالیںمزید »
ہم تو مصروفِ دعا گوشہء محراب میں تھےکرن ہاشمی28 مئی 2026غزل0116ہم تو مصروفِ دعا گوشہء محراب میں تھے جو بظاہر تو میسر تھے مگر خواب میں تھے خار ہی خار ملے راہِ محبت میں ہمیں ہم تو الجھے ہوئے اک رشتہءِ نایاب میں تھے تیرگی جنمزید »
رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہےخرم سہیل26 مئی 2026غزل093رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے میخانے میں پھر ساقی ترا کام نہیں ہے پڑ جائے گا اک دن ترے مہ خانے پہ تالا عشاق کا گر در پہ ہی ہنگام نہیں ہے گزرے جو شب ہجرمزید »
شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوںکرن ہاشمی21 مئی 2026غزل0123شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوں میں آئینے سے بغاوت کی بھینٹ لیتی ہوں پرندے لوٹ کے آتے ہیں رتجگوں کی طرف میں شام ہوتے ہی یادوں کی اوٹ لیتی ہوں وہ میرے پاؤںمزید »