رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہےخرم سہیل26 مئی 2026غزل044رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے میخانے میں پھر ساقی ترا کام نہیں ہے پڑ جائے گا اک دن ترے مہ خانے پہ تالا عشاق کا گر در پہ ہی ہنگام نہیں ہے گزرے جو شب ہجرمزید »
شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوںکرن ہاشمی21 مئی 2026غزل084شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوں میں آئینے سے بغاوت کی بھینٹ لیتی ہوں پرندے لوٹ کے آتے ہیں رتجگوں کی طرف میں شام ہوتے ہی یادوں کی اوٹ لیتی ہوں وہ میرے پاؤںمزید »
ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیاخرم سہیل19 مئی 2026غزل067ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا گھر کی ہر ایک بات وہ اخبار کر گیا جس کا سرے سے دوستو امکان ہی نہ تھا ایسی خبر کو زینتِ دیوار کر گیا عزت کا اپنے گرد بنایا تھمزید »
وقت کٹ ہی جاتا ہے، بے خودی کے عالم میںکرن ہاشمی14 مئی 2026غزل061وقت کٹ ہی جاتا ہے، بے خودی کے عالم میں کیا سکون پاؤ گے، اب خوشی کے عالم میں وہ جو تیرے ماتھے پر، اک شکن سی آئی ہے کتنے دل دھڑکتے ہیں، برہمی کے عالم میں ہم نے مزید »
شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیںسعود عثمانی13 مئی 2026غزل093شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیں یہ جو حاسد ہیں یہ اونچا مرا قد کرتے ہیں کسی ماں باپ سے پوچھو کبھی بیٹی کا یہ دکھ دیکھنے والے جسے دیکھ کے رد کرتے ہیں بار مزید »
جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیاخرم سہیل12 مئی 2026غزل088جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا خسارہ کرکے حقیقت کو ہم نے جان لیا میں کیسے بچتا کہ بچنے کا راستہ ہی نہیں جو تیر حسن نظر اس نے مجھ پہ تان لیا ہر ایک بات مزید »
لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسیکرن ہاشمی07 مئی 2026غزل0108لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسی اب جو اٹھیں گی تڑپ کر وہ نگاہیں کیسی راہِ الفت میں ضرورت ہی نہیں مشعل کی خود جلاتی ہیں ہمیں تیری نگاہیں کیسی جب مقدر میں ہمزید »
عجب فراق تھا کیفیتِ وصال میں بھیسعود عثمانی06 مئی 2026غزل0112عجب فراق تھا کیفیتِ وصال میں بھی سلگ رہا تھا کوئی زخم اندمال میں بھی ابھی تو آنکھ کھلی بھی نہ تھی کہ در آئے ترے ہی خواب کے منظر ترے خیال میں بھی وہ ایک غم بڑیمزید »
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والاخرم سہیل05 مئی 2026غزل075دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا ہو نا امیدِ بہمزید »
کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہےسید علی قاسم03 مئی 2026غزل090کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے آدمی عشق کے دوران بدل سکتا ہے جس بھروسے پہ تو آئی ہے محل سے باہر شاہزادی ترا دربان بدل سکتا ہے وہ جسے چاہے اسے اپنے برابر کر لمزید »