1. ہوم/
  2. غزل/
  3. صفحہ 1

کچھ سیلِ بلاخیز سے ڈرتا نہیں ہوتا

Hamid Ateeq Sarwar

کچھ سیلِ بلاخیز سے ڈرتا نہیں ہوتاوہ، جس کا گھروندا، لبِ دریا نہیں ہوتا ڈوبی ہوئی بستی میں غریبوں ہی کے گھر تھےدریا کا غضب، سوئے ثریا نہیں ہوتا بے نام شہیدوں ک

مزید »

جو کچھ نہیں کہا گیا جو کچھ نہیں سنا گیا

Dr. Sarwat Rizvi

جو کچھ نہیں کہا گیا جو کچھ نہیں سنا گیادست دعا پہ رکھ دیا رزقِ ھوا کیا گیا باقی تھی داستان بھی ملنے کو تھی امان بھیمنظر بدل دیا گیا پردہ گرا دیا گیا منصف تو غ

مزید »

ہاں اے حریمِ ناز، مرے جن نکل گئے

Hamid Ateeq Sarwar

ہاں اے حریمِ ناز، مرے جن نکل گئے عشووں سے احتراز، مرے جن نکل گئے سر میں جنونِ عشق کا سودا نہیں رہا اٹھتے نہیں ہیں ناز، مرے جن نکل گئے وہ بے وفا تھی چھوڑ کے لن

مزید »

ہر لطف پہ اب پیار کا دھوکا نہیں ہوتا

Hamid Ateeq Sarwar

ہر لطف پہ اب پیار کا دھوکا نہیں ہوتاہم جان گئے عشق میں کیا کیا نہیں ہوتا ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتا ہے چالان وہ قتل بھی کرتے ہیں تو پرچا نہیں ہوتا اک ہم ک

مزید »

رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے

Saud Usmani

رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستیکیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے ایک پل چھین کے انس

مزید »

اسی دربار میں سجدہ کریں گے

Hamid Ateeq Sarwar

وہی پر شور، کم ظرفوں سے دونوں خطابت اِس کی، اُس کی ہاو ہو بھی مرے اندر کی سرگوشی بھی چپ ہے مسلسل ہو کا عالم چار سو بھی بہ فضلِ جابراں، جاں پر بنی ہے اذیتِ خام

مزید »

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

Akhtar Shumar

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا اور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا وگرنہ کو

مزید »

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیں

Shahid Kamal

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیںہم اپنی اپنی سہولت سے لڑتے رہتے ہیں کہاں کسی کو ہے فرصت کسی سے لڑنے کییہاں سب اپنی ضرورت سے لڑتے رہتے ہیں مداخلت نہیں کرتی

مزید »

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

Akhtar Shumar

اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چ

مزید »