1. ہوم/
  2. غزل/
  3. صفحہ 1

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیں

Shahid Kamal

کبھی خوشی کبھی نفرت سے لڑتے رہتے ہیںہم اپنی اپنی سہولت سے لڑتے رہتے ہیں کہاں کسی کو ہے فرصت کسی سے لڑنے کییہاں سب اپنی ضرورت سے لڑتے رہتے ہیں مداخلت نہیں کرتی

مزید »

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

Akhtar Shumar

اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چ

مزید »

چاند جب اس نے زمیں پر ہے اتارا، سارا

Syed Dilawar Abbas

چاند جب اُس نے زمیں پر ہے اتارا، ساراتب فلک کو بھی ہُوا یہ نہ گوارا، سارا وقت کی بھیڑ میں چلتے وہ کہیں کھو ہی گیاتیرے بِن ہوتا نہ تھا جس کا گزارا، سارا تیرا ک

مزید »

دن ترے ہجر میں رو کر ہی گزارے اکثر

Syed Dilawar Abbas

دن ترے ہجر میں رو کر ہی گزارے اکثررات بستر پہ پڑے گنتے تھے تارے اکثر جب کبھی حلقۂ یاراں میں کوئی بات چلےچھیڑ دیتے ہیں ترا ذکر یہ سارے اکثر عمر ساری تو شجر تن

مزید »

تم کہاں کے پارسا، معلوم ہے

Azra Yasmin

تم کہاں کے پارسا، معلوم ہے داعیِ مہرو وفا، معلوم ہے فلسفہ جینے کا، اے دُنیا بتا زندگی کیا، موت کیا، معلوم ہے بیچ دریا میں سفینہ زیست کا کون اس کا نا خُدا، مع

مزید »

اشک آنکھوں سے بہاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

Syed Dilawar Abbas

اشک آنکھوں سے بہاتے ہوئے تھک جاتا ہوںمیں ترا عکس بناتے ہوئے تھک جاتا ہوں تیری جانب سے شب و روز جو غم ملتے ہیںاپنے کاندھوں پہ اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں ہے مرے س

مزید »

حسین شخص تجھی کو اگر دکھائی دیا

Syed Dilawar Abbas

حسین شخص تجھی کو اگر دکھائی دیاتو یہ بتا کہ وہ کیونکر کدھر دکھائی دیا ادھر جو زلف دم صبح گال پر آئیشب سیاہ کا منظر اُدھر دکھائی دیا خوشا نصیب کہ وہ ہم پہ مہرب

مزید »

ہوا ہے اس قدر ناپید پیار دنیا سے

Sahar Malik

ہوا ہے اس قدر ناپید پیار دنیا سے کہ اٹھ گیا ہے سکون و قرار دنیا سے تمام عمر کا حاصل بنا یہی فقرہصورتِ موت ہے واحد فرار دنیا سے کل اک شہید کا چہرہ نظر سے گزرا

مزید »

کوئی بھی بات ہو، چمن کو بہار دی ہم نے

Sahar Malik

کوئی بھی بات ہو، چمن کو بہار دی ہم نےخون دل دے کے ہر کلی نکھار دی ہم نے جہاں پہ سانس بھی لینا محال ٹھہرا تھاوہیں پہ ساری جوانی، گزار دی ہم نے تمہارے نام سے جو

مزید »

کیوں اُٹھی ہے قصیدے کی صدا تیرے بعد

Syed Tanzeel Ashfaq

کیوں اُٹھی ہے قصیدے کی صدا تیرے بعدرُک گیا چَرخ کُہن، بادِ صبا تیرے بعد اپنا سر اپنے ہی ہاتھوں پہ لئے پھرتے ہیںسربکف کون جیئے جانِ وفا تیرے بعد لُٹ گیا میرا ج

مزید »