خرم سہیل31 دسمبر 2025غزل171
کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی یہ زندگی تو ہر اک رہ گزر سے گزرے گی
ہیں جب سے پہرے بٹھائے گئے سماعت پر ہر ایک بات ہی اب اپنے سر سے گزرے گی
مجھے جو چھوڑ
مزید »کرن ہاشمی26 دسمبر 2025غزل464
چاند خاموش ہے آنکھوں میں شرر آتا ہے جب بھی تُو یاد کرے دل میں اثر آتا ہے
زندگی شیشہ ہے احساس کی کرچی جیسے کوئی لمحہ بھی چھوؤ تو یہ بکھر آتا ہے
ایک چہرہ ہے جو
مزید »خرم سہیل24 دسمبر 2025غزل188
یہ ضبط کا پشتہ ہے جو اک ضد پہ اڑا ہے یوں گریہ مری آنکھ کے اس پار کھڑا ہے
آزار بھی کٹ جائیں گے مشکل کے کسی دن دشمن گو یہ قسمت کا مقابل میں کڑا ہے
لب بستہ ہو جو
مزید »سید علی قاسم19 دسمبر 2025غزل1156
فریبِ بخیہ گری سے بھی کچھ ہوا کہ نہیں ہمارا سینہِ صد چاک ابھی سلا کہ نہیں
کمال دن تھے کہ وہ مجھ سے پوچھا کرتی تھی بتاؤ اچھی لگی ہاتھ پر حنا کہ نہیں
یہ دیکھنا
مزید »کرن ہاشمی19 دسمبر 2025غزل43117
خود سے ملنے کی آرزو باقی خواب ٹوٹے مگر وضو باقی
یاد کی دھند میں صدا گم ہے دل میں لیکن وہ گفتگو باقی
وقت ٹھہرا تو سانس رُکتی ہے ایک لمحہ ہے اور تُو باقی
خاک ہ
مزید »علی رضا احمد17 دسمبر 2025غزل1558
ہم پہ ہے گر یار اپنا مہرباں کون آئے گا بے چارہ درمیاں
ہے وہی محبوبِ فطرت بے مثل جس کے سینے میں ہے اک قلبِ تپاں
اپنے رب سے مانگ ذرہ عشق کا مانگ لیکن ساتھ ہی رب
مزید »خرم سہیل17 دسمبر 2025غزل094
اَشک سے آنکھ تر نہیں کرتے ہم یوں صحرا کو گھر نہیں کرتے
کام ابلیس کے جو ہوتے ہیں با خدا وہ بَشر نہیں کرتے
گل جو ہوتے ہیں بیچ راتوں کے دیپ وہ پھر سحر نہیں کرتے
مزید »فرحت عباس شاہ15 دسمبر 2025غزل1106
ہر کسی کو بڑا معصُوم نظر آتا ہے تو وہ ظالم ہے جو مظُلوم نظر آتا ہے
رکھ رکھاٶ جو اجاگر کبھی ہوتا تھا یہاں مجھ کو اس شہر میں معدُوم نظر آتا ہے
ڈھونڈتا پھرتا ہے
مزید »علی رضا احمد14 دسمبر 2025غزل1539
گزر جاتے ہو تم تیزی سے اب جانے نہیں دیں گے افق کے سرخ ماتھے پر شکن آنے نہیں دیں گے
بھلے اس میں چھپا ہے اپنا ماضی اور مستقبل پھڑکتی دھڑکنوں کو کچھ نیا بھانے نہی
مزید »کرن ہاشمی12 دسمبر 2025غزل0101
اے دل! ہم ایسے لوگ ہیں عادت کے باوجود رہتے ہیں خامشی میں شکایت کے باوجود
گفتار میں سکوت کی شدت کے واسطے دل پر رہی کسی کی حکایت کے باوجود
پھرتے ہیں تیری یاد کے
مزید »