تری چاہت مرے دل کے لیے اک ذات رہتی ہےکرن ہاشمی02 اکتوبر 2026غزل0143تری چاہت مرے دل کے لیے اک ذات رہتی ہے فراقِ ہجر میں بھی اب طلب دن رات رہتی ہے کبھی آنکھوں میں ٹھہری ہے نمی بن کر تری صورت کبھی دل میں تری آواز کی برسات رہتی ہےمزید »
تاروں کی ہیں مجالس کہنے کو کہکشاں ہےعمران کھرل01 اکتوبر 2026غزل0162تاروں کی ہیں مجالس کہنے کو کہکشاں ہے ہیں جستجو میں نظریں وہ دلربا کہاں ہے جو لکھ رہے ہیں حاکم میرے لہو سے ہر پل شمر و یزید بن کر، کیسی یہ داستاں ہے لاشوں پہ چمزید »
ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہےکرن ہاشمی30 ستمبر 2026غزل0147ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہے مرے اندر ترا اک بے سبب امکان رہتا ہے میں اپنے آپ سے اکثر چھپاتی ہوں حقیقت کو مگر آنکھوں میں اک چہرہ عیاں ہر آن رہتا ہمزید »
جاتے ہوئے چمن کی فضا ساتھ لے گئےعمران کھرل29 ستمبر 2026غزل0111جاتے ہوئے چمن کی فضا ساتھ لے گئے صحرا نورد آب و ہوا ساتھ لے گئے زادِ سفر کے طور پہ ہم سے بچھڑ کے وہ اچھا ہوا ہماریِ دعا ساتھ لے گئے ویران کرکے چشمِ تمنا کو وہمزید »
شرر نگاہیں، سفر دعائیں، گداز جذبے، طلسمِ ہستیکرن ہاشمی28 ستمبر 2026غزل0116شرر نگاہیں، سفر دعائیں، گداز جذبے، طلسمِ ہستی حجاب چہرہ، کتابِ ماضی، نیاز دوری، طلب کی پستی سکوتِ لمحہ، درودِ تنہا، مآلِ دنیا، سوالِ گریہ جمالِ فطرت، وصالِ ممزید »
جب نقش تمہارا رخِ مہتاب سے ابھرےعمران کھرل27 ستمبر 2026غزل0116جب نقش تمہارا رخِ مہتاب سے ابھرے پھر میرا جنوں سینہِ گرداب سے ابھرے آ تجھ کو وہاں لے کے چلوں جانِ تمنا دھڑکن بھی جہاں قطرۂِ سیماب سے ابھرے وحشی کو ترے اذن ٹھہمزید »
خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہےشائستہ مفتی26 ستمبر 2026غزل0139خواب ٹوٹ جانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے عمر کو گنوانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے زندگی کے محور پر رقص میں ہیں پروانے اپنے پر جلانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے سرخ آنکھ جلمزید »
کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہےکرن ہاشمی25 ستمبر 2026غزل0203کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہے کبھی یہ زندگی خود کو نئی پرواز دیتی ہے خدا جانے یہ کیسی جو خلش ہے میرے سینے میں کبھی خاموش رہتی ہے، کبھی آواز دیتی ہے جو میمزید »
صبح خنداں سے نکل کر شبِ رقصاں میں چلوعمران کھرل22 ستمبر 2026غزل0131صبح خنداں سے نکل کر شبِ رقصاں میں چلو ساغر و بادہ بکف، محفلِ رنداں میں چلو سفرِ زیست میں ہر گام پہ یہ راز کُھلا تیشہِ علم اٹھا، عالمِ امکاں میں چلو عمر تھوڑی مزید »
عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہکرن ہاشمی21 ستمبر 2026غزل0125عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہ مری حیات میں کچھ یوں اتر گیا ہے وہ اب اس کی یاد بھی آئے تو وحشتیں ہوں گی کہ دل کی بزم سے کب کا گزر گیا ہے وہ میں اس کے ہجر مزید »