1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی
Khurram Sohail

کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی

کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی
یہ زندگی تو ہر اک رہ گزر سے گزرے گی

ہیں جب سے پہرے بٹھائے گئے سماعت پر
ہر ایک بات ہی اب اپنے سر سے گزرے گی

مجھے جو چھوڑ گئی ماں، میں ہوگیا تنہا
مری تو رات ترے بعد ڈر سے گزرے گی

بڑے دنوں سے دم گھٹ رہا تھا وحشت میں
ہوائے خیر مرے آج گھر سے گزرے گی

مجھے بھی دیکھنا ہے آج حوصلہ اس کا
ملن کی پیاس ترے ہجر تھر سے گزرے گی

مرے سخن کو خدائےِ سخن جلا بخشے
یہ جھولی فکر کی جب اسکے در سے گزرے گی

مجھے یقین ہے آنکھوں سے چوم لے گا وہ
مری غزل جب اس کی نظر سے گزرے گی

سہیل بانہیں پسارے وصال ہوگا کھڑا
شبِ فراق مری جب سحر سے گزرے گی