1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. نہ کوئی قطب نہ ابدال نظر آئے مجھے
Khurram Sohail

نہ کوئی قطب نہ ابدال نظر آئے مجھے

نہ کوئی قطب نہ ابدال نظر آئے مجھے
ہر طرف جھوٹ کے قوال نظر آئے مجھے

میں ولی ہوں نہ قلندر نہ کوئی پیر میاں
دیکھ کر کل یہ ترا حال نظر آئے مجھے

ہضم ہوتا ہی نہیں پیار یہ دکھلاوے کا
دل کے آئینے میں جب بال نظر آئے مجھے

مجھ سے ڈرتے رہے گیدڑ کی طرح ابتک جو
شیر کی پہنے ہوئے کھال نظر آئے مجھے

میں تو واقف ہوں ترے بول کے پیچ و خم سے
میٹھا گفتار بھی اک چال نظر آئے مجھے

کل اچانک جو پڑی گل پے نظر گلشن میں
پھول کب تھے وہ ترے گال نظر آئے مجھے

حرص بڑھ جائے تو پھر بھوک کہاں مٹتی ہے
لحم بھی تھالی میں اب دال نظر آئے مجھے

ان پے چلتا ہوا اک شخص دکھائی نہ دیا
ہر جگہ شہر میں اقوال نظر آئے مجھے

ویسے کہنے کو جدائی کا یہ اک پل خرم
کاٹنے بیٹھوں تو اک سال نظر آئے مجھے