خرم سہیل09 جون 2026غزل0110
اُلجھتی سانس کا اب کوئی اِعتبار نہیں تمہارے بعد کوئی میرا غم گسار نہیں
چلیں، رکیں یا پل بھر میں چل کے تھم جائیں دھڑکتی دھڑکنوں کا اب تو اعتبار نہیں
تو جس سفر
مزید »خرم سہیل02 جون 2026غزل069
ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت ہر لمحہ نکلتی ہے یہاں پیار کی صورت
صورت ہے بھلی یا نہ بھلی بعد کی ہے بات سیرت ہو بھلی نکلے گی اظہار کی صورت
گر مل کے نکالیں
مزید »خرم سہیل26 مئی 2026غزل094
رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے میخانے میں پھر ساقی ترا کام نہیں ہے
پڑ جائے گا اک دن ترے مہ خانے پہ تالا عشاق کا گر در پہ ہی ہنگام نہیں ہے
گزرے جو شب ہجر
مزید »خرم سہیل19 مئی 2026غزل0102
ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا گھر کی ہر ایک بات وہ اخبار کر گیا
جس کا سرے سے دوستو امکان ہی نہ تھا ایسی خبر کو زینتِ دیوار کر گیا
عزت کا اپنے گرد بنایا تھ
مزید »خرم سہیل12 مئی 2026غزل0107
جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا خسارہ کرکے حقیقت کو ہم نے جان لیا
میں کیسے بچتا کہ بچنے کا راستہ ہی نہیں جو تیر حسن نظر اس نے مجھ پہ تان لیا
ہر ایک بات
مزید »خرم سہیل05 مئی 2026غزل094
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا
قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا
ہو نا امیدِ بہ
مزید »خرم سہیل31 دسمبر 2025غزل1261
کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی یہ زندگی تو ہر اک رہ گزر سے گزرے گی
ہیں جب سے پہرے بٹھائے گئے سماعت پر ہر ایک بات ہی اب اپنے سر سے گزرے گی
مجھے جو چھوڑ
مزید »خرم سہیل24 دسمبر 2025غزل1257
یہ ضبط کا پشتہ ہے جو اک ضد پہ اڑا ہے یوں گریہ مری آنکھ کے اس پار کھڑا ہے
آزار بھی کٹ جائیں گے مشکل کے کسی دن دشمن گو یہ قسمت کا مقابل میں کڑا ہے
لب بستہ ہو جو
مزید »خرم سہیل17 دسمبر 2025غزل32226
اَشک سے آنکھ تر نہیں کرتے ہم یوں صحرا کو گھر نہیں کرتے
کام ابلیس کے جو ہوتے ہیں با خدا وہ بَشر نہیں کرتے
گل جو ہوتے ہیں بیچ راتوں کے دیپ وہ پھر سحر نہیں کرتے
مزید »خرم سہیل10 دسمبر 2025غزل4301
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا
قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا
ہو نا امیدِ بہ
مزید »