خرم سہیل31 دسمبر 2025غزل171
کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی یہ زندگی تو ہر اک رہ گزر سے گزرے گی
ہیں جب سے پہرے بٹھائے گئے سماعت پر ہر ایک بات ہی اب اپنے سر سے گزرے گی
مجھے جو چھوڑ
مزید »خرم سہیل24 دسمبر 2025غزل188
یہ ضبط کا پشتہ ہے جو اک ضد پہ اڑا ہے یوں گریہ مری آنکھ کے اس پار کھڑا ہے
آزار بھی کٹ جائیں گے مشکل کے کسی دن دشمن گو یہ قسمت کا مقابل میں کڑا ہے
لب بستہ ہو جو
مزید »خرم سہیل17 دسمبر 2025غزل094
اَشک سے آنکھ تر نہیں کرتے ہم یوں صحرا کو گھر نہیں کرتے
کام ابلیس کے جو ہوتے ہیں با خدا وہ بَشر نہیں کرتے
گل جو ہوتے ہیں بیچ راتوں کے دیپ وہ پھر سحر نہیں کرتے
مزید »خرم سہیل10 دسمبر 2025غزل0148
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا
قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا
ہو نا امیدِ بہ
مزید »خرم سہیل03 دسمبر 2025نعت0110
مدینہ ہے، مدینے کی گلی ہے ہوا ہر سمت بخشش کی چلی ہے
یہیں پر دیکھنا دم توڑ دے گی مرے اندر جو زندہ بے کلی ہے
مجھے اس راہ پے رکھنا خدایا وہی اک راہ جو سب سے بھلی
مزید »خرم سہیل26 نومبر 2025غزل099
دنیا کے خارو خس میں بہت دیر تک رہا سچ ہے میں اسکے بس میں بہت دیر تک رہا
نایاب ہو چکا ہوں تو اب پوچھتے ہیں وہ میں جن کی دسترس میں بہت دیر تک رہا
اک دور تھا میں
مزید »خرم سہیل19 نومبر 2025غزل085
ملا جواب نہ کوئی گماں سے پوچھ لیا پتہ غموں نے مرا بھی وہاں سے پوچھ لیا
سراغ جب نہ ملا کوئی مرنے والے کو نشاں رقیب کا اس نے کماں سے پوچھ لیا
تلاش تجھ کو کروں گ
مزید »خرم سہیل12 نومبر 2025غزل21115
فراق اس کی عنایت تھا سو قبول کیا الگ یہ بات بچھڑ کر بہت ملول کیا
بُلا تو پاس مرے معجزوں کے منکر کو دکھا قران اسے، رب نے جو نزول کیا
بتا اے خاک کے پتلے تجھے یہ
مزید »خرم سہیل12 ستمبر 2025غزل0186
اشکوں سے عیاں درد کے ہونے کی دیر تھی ہلکا یہ دل ہوا، مرے رونے کی دیر تھی
اس سے تو پہلے غم یا خوشی کا نہ تھا وجود مٹی کے بت میں سانس پرونے کی دیر تھی
نا کردہ پ
مزید »خرم سہیل30 اگست 2025غزل1183
فسوں گر کا جادو اثر کر گیا وہ تکنا مرے دل میں گھر کر گیا
نہ جانے اسے بھا گئی کیا ادا جو جاتے ہوئے دل میں در کر گیا
ہوئی مستیِ عشق میں سجدہ ریز جبیں کا یہ سجدہ
مزید »