اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیاخرم سہیل20 ستمبر 2026غزل0133اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیا تھی قیدِ تا حیات، جہاں سے نکل گیا بھایا نہ پھر کسی کو مرا بولنا وہاں دل میں دبایا سچ جو زباں سے نکل گیا دل کو کرے گا چار یقمزید »
ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دیخرم سہیل17 ستمبر 2026غزل0175ٹک کر کہیں نہ بیٹھے سو وحشت میں کاٹ دی جتنی ملی تھی زندگی ہجرت میں کاٹ دی سب کامیاب لوگ تھے مصروفِ کار اور ہم نے ترے جہان میں فرصت میں کاٹ دی اک اجنبی دیار میمزید »
اُلجھتی سانس کا اب کوئی اِعتبار نہیںخرم سہیل09 جون 2026غزل0520اُلجھتی سانس کا اب کوئی اِعتبار نہیں تمہارے بعد کوئی میرا غم گسار نہیں چلیں، رکیں یا پل بھر میں چل کے تھم جائیں دھڑکتی دھڑکنوں کا اب تو اعتبار نہیں تو جس سفر مزید »
ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورتخرم سہیل02 جون 2026غزل0125ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت ہر لمحہ نکلتی ہے یہاں پیار کی صورت صورت ہے بھلی یا نہ بھلی بعد کی ہے بات سیرت ہو بھلی نکلے گی اظہار کی صورت گر مل کے نکالیںمزید »
رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہےخرم سہیل26 مئی 2026غزل0148رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے میخانے میں پھر ساقی ترا کام نہیں ہے پڑ جائے گا اک دن ترے مہ خانے پہ تالا عشاق کا گر در پہ ہی ہنگام نہیں ہے گزرے جو شب ہجرمزید »
ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیاخرم سہیل19 مئی 2026غزل0143ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا گھر کی ہر ایک بات وہ اخبار کر گیا جس کا سرے سے دوستو امکان ہی نہ تھا ایسی خبر کو زینتِ دیوار کر گیا عزت کا اپنے گرد بنایا تھمزید »
جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیاخرم سہیل12 مئی 2026غزل0147جو بولا پیار سے اس کو ہی اپنا مان لیا خسارہ کرکے حقیقت کو ہم نے جان لیا میں کیسے بچتا کہ بچنے کا راستہ ہی نہیں جو تیر حسن نظر اس نے مجھ پہ تان لیا ہر ایک بات مزید »
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والاخرم سہیل05 مئی 2026غزل0123دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا ہو نا امیدِ بہمزید »
کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گیخرم سہیل31 دسمبر 2025غزل1304کہیں تو خیر کہیں یہ بھی شر سے گزرے گی یہ زندگی تو ہر اک رہ گزر سے گزرے گی ہیں جب سے پہرے بٹھائے گئے سماعت پر ہر ایک بات ہی اب اپنے سر سے گزرے گی مجھے جو چھوڑ مزید »
یہ ضبط کا پشتہ ہے جو اک ضد پہ اڑا ہےخرم سہیل24 دسمبر 2025غزل1292یہ ضبط کا پشتہ ہے جو اک ضد پہ اڑا ہے یوں گریہ مری آنکھ کے اس پار کھڑا ہے آزار بھی کٹ جائیں گے مشکل کے کسی دن دشمن گو یہ قسمت کا مقابل میں کڑا ہے لب بستہ ہو جومزید »