خرم سہیل17 دسمبر 2025غزل32280
اَشک سے آنکھ تر نہیں کرتے ہم یوں صحرا کو گھر نہیں کرتے
کام ابلیس کے جو ہوتے ہیں با خدا وہ بَشر نہیں کرتے
گل جو ہوتے ہیں بیچ راتوں کے دیپ وہ پھر سحر نہیں کرتے
مزید »خرم سہیل10 دسمبر 2025غزل4353
دکھ نہ کر، موسمِ غم ہے یہ بدلنے والا رات کی کوکھ سے سورج ہے نکلنے والا
قحط ہے آخری دم پر یہ ہوا یوں معلوم سوکھے پیڑوں پے یہ باراں ہے برسنے والا
ہو نا امیدِ بہ
مزید »خرم سہیل03 دسمبر 2025نعت1349
مدینہ ہے، مدینے کی گلی ہے ہوا ہر سمت بخشش کی چلی ہے
یہیں پر دیکھنا دم توڑ دے گی مرے اندر جو زندہ بے کلی ہے
مجھے اس راہ پے رکھنا خدایا وہی اک راہ جو سب سے بھلی
مزید »خرم سہیل26 نومبر 2025غزل1266
دنیا کے خارو خس میں بہت دیر تک رہا سچ ہے میں اسکے بس میں بہت دیر تک رہا
نایاب ہو چکا ہوں تو اب پوچھتے ہیں وہ میں جن کی دسترس میں بہت دیر تک رہا
اک دور تھا میں
مزید »خرم سہیل19 نومبر 2025غزل2239
ملا جواب نہ کوئی گماں سے پوچھ لیا پتہ غموں نے مرا بھی وہاں سے پوچھ لیا
سراغ جب نہ ملا کوئی مرنے والے کو نشاں رقیب کا اس نے کماں سے پوچھ لیا
تلاش تجھ کو کروں گ
مزید »خرم سہیل12 نومبر 2025غزل21274
فراق اس کی عنایت تھا سو قبول کیا الگ یہ بات بچھڑ کر بہت ملول کیا
بُلا تو پاس مرے معجزوں کے منکر کو دکھا قران اسے، رب نے جو نزول کیا
بتا اے خاک کے پتلے تجھے یہ
مزید »خرم سہیل12 ستمبر 2025غزل18380
اشکوں سے عیاں درد کے ہونے کی دیر تھی ہلکا یہ دل ہوا، مرے رونے کی دیر تھی
اس سے تو پہلے غم یا خوشی کا نہ تھا وجود مٹی کے بت میں سانس پرونے کی دیر تھی
نا کردہ پ
مزید »خرم سہیل30 اگست 2025غزل1319
فسوں گر کا جادو اثر کر گیا وہ تکنا مرے دل میں گھر کر گیا
نہ جانے اسے بھا گئی کیا ادا جو جاتے ہوئے دل میں در کر گیا
ہوئی مستیِ عشق میں سجدہ ریز جبیں کا یہ سجدہ
مزید »خرم سہیل26 جولائی 2025غزل2367
کب یہ چاہا تھا شب غم میں بسر ہو جائے اب کسی طور مرے غم کی سحر ہو جائے
جلوہِ یار کو ترسی ہیں نگاہیں کب سے کیا ہو گر میری دعاوں میں اثر ہو جائے
شب بیداری میں کر
مزید »خرم سہیل19 جولائی 2025غزل0404
ڈھونڈا مگر میں خود کو کہیں پر نہیں ملا مجھ کو سکوں کہیں بھی زمیں پر نہیں ملا
ویسے تو مانتے ہیں تجھے یہ زباں سے ایک لیکن مجھے تو ایک بھی دیں پر نہیں ملا
جو دل
مزید »