اُلجھتی سانس کا اب کوئی اِعتبار نہیں
تمہارے بعد کوئی میرا غم گسار نہیں
چلیں، رکیں یا پل بھر میں چل کے تھم جائیں
دھڑکتی دھڑکنوں کا اب تو اعتبار نہیں
تو جس سفر پہ اکیلا نکل کیا ہمدم
میں کیسے جاوں وہاں میرا اختیار نہیں
زہے نصیب، تری یاد ہے مری ہمدم
الگ یہ بات کہ دنیا پہ آشکار نہیں
نبھائیں گے تیری یادوں سے تا دم آخر
بھلا دوں بیتے وہ لمحے، مرا شعار نہیں
ابھی بھی تازہ ہیں یادوں کے تیرے سارے پھول
خزاں کی رت ہے اور دور تک بہار نہیں
یہ عشق نقد کا سودا ہے غور سے سن لو
ادھار وعدے پہ اب کوئی کاروبار نہیں
بدل گیا ہے چلن دوستی کا اب لوگو
یہی وجہ ہے کوئی اب وفا شعار نہیں
نقاب اوڑھے ہوئے ہر کوئی نفاق کا ہے
یوں اصل چہرہ کسی پر بھی آشکار نہیں
جمی ہے عیش کی یہ دھول تیری آنکھوں پر
یوں تیرے یاروں کی فہرست میں شمار نہیں
گواہ میری اذیت کی ہے یہ خاکِ سفر
غبار عشق سے دامن کیا داغ دار نہیں
نباہ دنیا سے ممکن بھی ہو تو کیسے ہو
یہ سادہ لوگ ہیں، دنیا سے ہوشیار نہیں
خزاں کے ساتھ بڑھائی ہے دوستی جب سے
درِ نصیب پہ اب دستکِ بہار نہیں
چھپائے پھرتا ہوں دامن کو اپنے آپ سے میں
زمانہ اب بھی سمجھتا ہے داغدار نہیں
گزر رہی ہے مزے سے حیات میری سہیل
خیالِ یار جو اب ذہن پر سوار نہیں