1. ہوم
  2. افسانہ
  3. ڈاکٹر تہمینہ عباس
  4. فرسٹ پوزیشن

فرسٹ پوزیشن

وہ جب بھی اپنی پھوپھی کے گھر جاتی، گھر کے سامنے بنی کچرا کنڈی پر ضرور نظر پڑتی۔ اس علاقے میں ابھی گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا نظام نہیں آیا تھا، اس لیے صبح ہوتے ہی گلیوں کے مکین اپنے گھروں کا کچرا وہاں پھینک جاتے۔

دو روز پہلے وہ پھوپھی کے گھر رہنے آئی تھی کہ پھوپھی کی بڑی بہونے اچانک اس سے پوچھا:

"گل بانو، تم نے کبھی گدھ دیکھے ہیں؟"

"نہیں۔ "

"آؤ، میں دکھاتی ہوں"۔

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر کی پہلی منزل پر لے گئیں۔

چھت سے نیچے کا منظر عجیب تھا۔ کچرا کنڈی کے بیچوں بیچ گوشت کا ایک بڑا سا لوتھڑا پڑا تھا۔ شاید کسی نے صدقے یا اتارے کا گوشت وہاں پھینکا تھا۔ ایک گدھ اپنی نوکیلی چونچ سے اسے نوچ نوچ کر کھا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دو تین اور گدھ بھی نیچے اتر آئے۔ وہ گردنیں آگے بڑھائے، ادھر ادھر دیکھتے ہوئے، اپنے پنجوں اور چونچوں سے گوشت ادھیڑنے لگے۔

گل بانو بے اختیار پیچھے ہٹ گئی۔

"تمہیں پتا ہے، میں نے پہلی بار گدھ کب دیکھے تھے؟" بھابھی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

گل بانو نے نفی میں سر ہلا دیا۔

"ایک ہفتہ پہلے۔ صبح کپڑے پھیلانے چھت پر آئی تو دیکھا، تین گدھ ایک پلاسٹک کی تھیلی کو نوچ رہے تھے۔ اتنے میں ایک کچرا چننے والا لڑکا وہاں آیا۔ اس نے گدھوں کو پتھر مار کر بھگایا اور تھیلی کھولی تو"، بھابھی چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئیں۔

"اس میں ایک نوزائیدہ بچہ تھا"۔

گل بانو نے انہیں دیکھا۔

"زندہ؟"

"ہاں، جب تک لوگ اور پولیس پہنچے، بچہ زندہ تھا۔ مگر گدھ اس کے گالوں کا گوشت نوچ چکے تھے۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے وہ دم توڑ گیا"۔

گل بانو کے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔

وہ سارا دن اسی بچے کے بارے میں سوچتی رہی۔ کس نے اسے جنم دیا ہوگا؟ کس نے اسے اس تھیلی میں بند کیا ہوگا؟ اور کس طرح اسے کچرا کنڈی پر پھینک کر چلا گیا ہوگا؟

پھر اس کے ذہن میں بار بار ایک ہی منظر آتا۔

گدھ۔

وہ بچے کے جسم کو نوچ رہے ہیں۔

اور بچہ، زندہ ہے۔

***

انٹر کا نتیجہ آیا تو یونیورسٹی میں داخلے شروع ہوگئے۔ گل بانو نے بھی شعبۂ جرمیات میں داخلہ لے لیا۔

اسے لگتا تھا کہ وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہو رہی ہے۔ جرائم کی دنیا۔ انسان کے اندر چھپی ہوئی تاریکی کی دنیا۔

یونیورسٹی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے دل میں عجیب سا جوش تھا۔ وہ سوچتی تھی کہ وہ دنیا کے ان رازوں تک پہنچے گی جنہیں عام لوگ دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔

مگر کچھ ہی عرصے بعد اسے محسوس ہونے لگا کہ اس دنیا میں داخل ہو کر شاید وہ کسی ایسی گلی میں آگئی ہے جس کا کوئی سرا نہیں۔

کبھی لیکچر کے دوران اچانک اس کے ذہن میں وہی سوال ابھرتا:

گدھ مردار کو کیسے نوچتے ہیں؟

اور انسان؟

کیا انسان بھی کسی دوسرے انسان کو اسی طرح نوچ سکتا ہے؟

ایک دن نازش نے کلاس میں آتے ہی کہا:

"گل بانو، تمہیں پتا ہے آسیہ قتل کیس کا اصل قاتل کون نکلا؟"

"نہیں"۔

"تم نے آج کی خبریں نہیں دیکھیں؟"

"نہیں۔ صبح سے ڈیٹا ختم ہے"۔

نازش نے ادھر ادھر دیکھا، پھر قدرے دھیمی آواز میں بولی:

"آسیہ کی قاتل اس کی اپنی ماں نکلی"۔

گل بانو نے چونک کر اسے دیکھا۔

"ماں؟"

"ہاں۔ سدرہ"۔

"لیکن، ایک ماں اپنی بیٹی کو کیسے قتل کرسکتی ہے؟"

"کہانی لمبی ہے"۔ نازش نے سانس لیا۔ "تفتیش میں پتا چلا کہ سدرہ کی زندگی میں ایک شخص تھا۔ وہ آسیہ کو اپنی بیٹی کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سدرہ کے لیے آسیہ رکاوٹ بن گئی تھی۔ پھر اس نے ایک آدمی کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا اور ایسا ظاہر کیا جیسے کسی نے اسے بلیک ویب کے لیے قتل کیا ہو"۔

گل بانو کچھ دیر خاموش رہی۔

اسے اچانک وہ بچہ یاد آگیا۔

وہ بچہ جسے کچرا کنڈی میں پھینک دیا گیا تھا۔

وہ بھی تو کسی کی رکاوٹ رہا ہوگا۔

اور اسے بھی تو کسی نے جنم دیا تھا۔

***

"گل بانو!"

میڈم نزہت کی آواز پر وہ چونکی۔

"جی میڈم؟"

"تم کچھ بدل گئی ہو"۔

گل بانو نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

"میں؟"

"ہاں، تم۔ جب فرسٹ ایئر میں آئی تھیں تو ہر وقت ہنستی رہتی تھیں۔ کلاس میں بحث کرتی تھیں، دوستوں کے ساتھ شور مچاتی تھیں۔ اب تمہاری آواز سنائی ہی نہیں دیتی"۔

گل بانو نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"بس، کچھ معمے سمجھ نہیں آ رہے"۔

میڈم نزہت نے اسے غور سے دیکھا۔

"گل بانو، ہر معمہ حل کرنے کے لیے نہیں ہوتا"۔

گل بانو خاموش رہی۔

"کچھ دروازے بند ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے"۔

"مگر میڈم۔۔ "

"جو بات سمجھ نہیں آ رہی، اس کے پیچھے مت جاؤ"۔ میڈم نزہت نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ "کچھ راستوں پر جانے والے واپس نہیں آتے اور اگر واپس آ بھی جائیں تو اپنے اندر کا کچھ حصہ وہیں چھوڑ آتے ہیں"۔

گل بانو نے ان کے چہرے کو دیکھا۔

وہ سمجھ نہیں پائی کہ میڈم اسے نصیحت کر رہی ہیں یا خبردار۔

اس دن کے بعد اس نے اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز کردی۔

***

"گل بانو!"

نازش کی آواز میں غیر معمولی جوش تھا۔

"کیا ہوا؟"

"فرسٹ پوزیشن کا اعلان ہوگیا ہے"۔

گل بانو نے فوراً پوچھا:

"افراسیاب کی؟ اس کے نمبر سب سے زیادہ تھے نا؟"

نازش کے چہرے کا جوش ماند پڑ گیا۔

"نہیں"۔

"پھر؟"

"نمرہ نوید کی"۔

گل بانو چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔

"نمرہ؟ مگر وہ تو تھرڈ تھی"۔

"تھی"۔ نازش نے تلخی سے کہا۔ "اس نے اپنا مقالہ سر وحید کی نگرانی میں کیا تھا۔ انہیں اس کا کام بہت پسند آیا۔ نمبر بڑھتے بڑھتے اس کی پوزیشن پہلی ہوگئی"۔

گل بانو نے کچھ نہیں کہا۔

پھر اچانک اٹھ کھڑی ہوئی۔

"چلو"۔

"کہاں؟"

"میڈم نزہت کے پاس"۔

نازش نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

"گل بانو، نہیں"۔

"کیوں؟"

"تم جانتی ہو کیوں"۔

گل بانو نے اسے دیکھا۔

"میں صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسے ہوا"۔

نازش نے دھیرے سے کہا:

"تم پھر اسی معمہ کے پیچھے جا رہی ہو"۔

گل بانو نے کوئی جواب نہیں دیا۔

وہ دونوں میڈم نزہت کے کمرے تک گئیں۔

دروازے کے باہر پہنچ کر گل بانو رک گئی۔

اندر سے کسی کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔

اس نے دروازے پر ہاتھ اٹھایا، پھر روک لیا۔

نازش نے اس کی طرف دیکھا۔

"چلو واپس چلتے ہیں"۔

گل بانو نے دروازے کو دیکھا۔

پھر آہستہ سے ہاتھ نیچے کر لیا۔

وہ دونوں واپس آگئیں۔

***

اس کے بعد گدھ اس کے ذہن سے کبھی نہیں نکلے۔

کبھی اسے محسوس ہوتا، کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

کبھی لگتا، کسی کی نظریں اس پر جمی ہوئی ہیں۔

جیسے کوئی گدھ کسی مردار کے گرد بیٹھا ہو اور صرف موقع کا انتظار کر رہا ہو۔

فائنل سیمسٹر کے امتحانات کے بعد ایک دن میڈم نزہت نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔

"اکیلی آنا"۔

بس اتنا کہا تھا۔

گل بانو کمرے میں داخل ہوئی تو میڈم نے دروازہ بند کر دیا۔

کافی دیر تک اندر کوئی آواز نہیں آئی۔

جب وہ باہر نکلی تو اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔

نازش نے کئی بار پوچھا:

"کیا ہوا؟"

گل بانو ہر بار خاموش رہی۔

نتائج کا اعلان اس وقت تک نہیں ہوسکتا تھا جب تک تمام اساتذہ اپنے اپنے نمبرز جمع نہ کرا دیتے۔

ایک ماہ بعد نتیجہ آگیا۔

فرسٹ پوزیشن سعدیہ حبیب کی تھی۔

گل بانو کا نام تینوں پوزیشنز میں کہیں نہیں تھا۔

نازش نے نتیجے کی فہرست دوبارہ دیکھی۔

پھر گل بانو کی طرف مڑی۔

"یہ کیسے ہوسکتا ہے؟"

گل بانو خاموش رہی۔

"تمہارے نمبر تو سب سے زیادہ تھے"۔

گل بانو نے کچھ نہیں کہا۔

نازش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"میڈم نزہت نے تم سے کیا کہا تھا؟"

گل بانو نے دیر تک اسے دیکھا۔

پھر اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

ایسی مسکراہٹ جس میں شکست بھی تھی اور عجیب سا سکون بھی۔

"انہوں نے کہا تھا"، وہ رک گئی۔

"کیا؟"

گل بانو نے آہستہ سے کہا:

"گل بانو، بند کمرے میں مت جانا"۔

نازش کے چہرے پر سوال ابھرا۔

"میں نہیں گئی تھی"۔

گل بانو نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

یونیورسٹی کی عمارت کے عقب میں کچرے کا ایک ڈھیر تھا۔

اس کے اوپر چند گدھ منڈلا رہے تھے۔

"میں نہیں گئی تھی، نازش"، اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔

"مگر"، "مگر کیا؟"

گل بانو نے کھڑکی سے نظریں نہیں ہٹائیں۔

"مگر گدھ"، وہ آہستہ سے مسکرائی۔

"گدھوں نے اپنا کام کر دیا"۔

باہر منڈلاتے ہوئے گدھ اچانک نیچے اترنے لگے۔

اور گل بانو کو لگا، برسوں پہلے پھوپھی کے گھر کی چھت سے نظر آنے والی وہ کچرا کنڈی آج پھر اس کے سامنے ہے۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار وہاں گوشت کا کوئی لوتھڑا نہیں پڑا تھا۔

اس بار کچرا کنڈی میں۔

اس کی فرسٹ پوزیشن پڑی تھی۔