وہ میری کولیگ تھی، عمر میں مجھ سے بیس برس چھوٹی، میری بردبار اور متین شخصیت کی شیدائی۔ میرا بڑا بیٹا اس سے پانچ برس چھوٹا تھا۔ اس کی آنکھوں کی چمک، لچک دار کمر، جدید فیشن کے مطابق لباس اور میک اَپ ہر وقت میرا دل موہ لینے کو تیار رہتے۔ ہر روز نت نئے ملبوسات، نئے انداز کا میک اَپ اور ہر اسٹائل کے ساتھ اس کا پروفیشنل انداز بڑے بڑے کلائنٹس کو زیر ہونے پر مجبور کر دیتا۔ آنکھیں گول گول گھما کر ڈرامائی انداز میں گفتگو کرنا اس کی اضافی خوبی تھی۔ جب کبھی وہ میری آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرتی تو میں چند لمحوں کے لیے مبہوت ہوجاتا اور کچھ کہنے کے قابل ہی نہ رہتا۔
یہ نہیں تھا کہ میری بیوی کوئی عام سی عورت تھی۔ وہ اپنے زمانے کی حسین اور طرحدار عورت تھی۔ سماجی زندگی کا بھرپور شعور رکھتی تھی۔ پہننا، اوڑھنا، تہذیب، ادب، آداب اور شائستگی گویا میری بیوی مزنہ پر ختم تھے۔ وہ پہلے دن کی طرح مجھ سے شدید محبت کرتی تھی۔ میری ہر بات پر آمنا و صدقنا کہنا اس کا نصب العین تھا۔ وہ اپنی خواہشات پر میری خواہشات کو ترجیح دیا کرتی تھی۔ ہماری پسند کی شادی تھی۔ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ ہمارا خاندان مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میری زندگی میں کسی اور لڑکی کی گنجائش نہیں رہتی تھی۔
ایلیا کا ملکوتی حسن، اس کا التفات اور اس کی کم عمری میری نظر میں میری بیوی کی اہمیت تقریباً ختم کر چکے تھے۔ میری معاشرتی حیثیت اور ساکھ میں مزنہ کا بڑا اہم کردار تھا۔ اگر مزنہ کے والد مجھے اپنے کاروبار میں شامل نہ کرتے تو میں آج کسی دکان یا ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں سیلز مین کے فرائض انجام دے رہا ہوتا۔
میرے سسر، احتشام صاحب، نے نہ صرف مجھے کاروبار کی تربیت دی تھی بلکہ مختلف ذرائع کے ذریعے میری کاروباری صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ بڑے داماد کی حیثیت سے احتشام صاحب کے گھرانے میں مجھے مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ سسرال میں بھی میری رائے کو مقدم رکھا جاتا تھا۔ میری دونوں سالیاں اور چھوٹا سالا مزنہ کی وجہ سے میرا بہت احترام کرتے تھے۔
میرا سالا ارسلان میڈیسن کی تعلیم حاصل کرکے کینیڈا منتقل ہوگیا تھا۔ اس نے وہیں ایک پاکستانی لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ میرے سسر کے کاروبار کو سنبھالنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میری دونوں سالیوں کے شوہر بھی سسر کے کاروبار میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے اپنے پیشے اور محدود زندگی تھی۔ اس لیے سسر نے جائیداد تقسیم کرتے وقت تمام بچوں میں وراثت کے قانون کے مطابق جائیداد تقسیم کر دی تھی۔ میرے کاروبار میں سسر کا بھی حصہ شامل تھا اور میں پابندی سے ان سے مشورہ بھی لیتا تھا۔ کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی ہر ماہ ان کا حصہ ادا کیا کرتا تھا۔
ایلیا نے دفتر کے اوقات کے بعد مجھے فون کرنا شروع کر دیا تھا۔ اکثر وہ بے وقت فون کرتی تو میں مزنہ کی موجودگی محسوس کرکے خاموشی سے کمرے سے نکل جاتا۔ کبھی ٹیرس میں، کبھی لاؤنج میں اور کبھی لان میں بیٹھ کر آہستہ آواز میں ایلیا سے گفتگو کرتا تاکہ میری بیوی اور بچے یہ گفتگو سن نہ سکیں۔
ہر شادی شدہ مرد کی طرح میں نے بھی ایلیا سے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے آج تک ازدواجی زندگی کی کوئی حقیقی خوشی حاصل نہیں ہو سکی۔ تین بچوں کے بعد میری بیوی نے مجھے یکسر فراموش کر دیا تھا۔ وہ میرے جذبات اور احساسات کا خیال نہیں رکھتی، وغیرہ وغیرہ۔ اس پر ایلیا اپنی گفتگو سے مجھے جذباتی سہارا دیتی۔
جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سی چیزیں مردوں اور عورتوں کی دسترس میں آ چکی ہیں۔ ویڈیو کال پر مرد و عورت کا بات کرنا اب ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ پہلی مرتبہ ویڈیو کال پر ایلیا جذبات سے مغلوب ہوئی تو میری فرمائش پر اس نے بہت سے ایسے کام کیے جن سے مجھے عجیب سی مسرت محسوس ہوئی۔ ایلیا کی کم عمری اور منہ زور جذبات کے آگے مجھے اپنی وفادار بیوی نظر آنا بند ہوگئی تھی۔
یہ سچ ہے کہ عورت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مجھے مزنہ سے بلاوجہ چِڑ سی ہونے لگی تھی۔ اکثر اپنی کم مائیگی کا خیال آتا۔ اگر مزنہ اور بچوں کی زنجیر نہ ہوتی تو میں ایلیا کے حوالے سے زندگی کا صحیح لطف اٹھاتا۔
میں نے دفتر کے بعد زیادہ وقت گیسٹ ہاؤس یا پھر گھر کے اوپر بنے ہوئے اس کمرے میں گزارنا شروع کر دیا تھا جہاں میں دفتری کام کیا کرتا تھا۔ جب ہم کسی سے ذہنی طور پر دور ہونے لگتے ہیں تو جسمانی فاصلے بھی خودبخود پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مزنہ اور بچے اپنی لگی بندھی زندگی میں مگن تھے۔ مزنہ کو میرے رویّے میں آنے والی تبدیلی کا احساس تھا، مگر اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔
میری ایلیا سے ویڈیو کالز طویل ہونے لگی تھیں۔ تنہائی میں ملنے کی اس کی خواہش اب شدت اختیار کر چکی تھی۔ ویڈیو کال پر میری تسلی ہو جاتی تھی، مگر ایلیا کو اپنے جذبات کی تسکین کے لیے ایک بھرپور اور قوی مرد کی قربت درکار تھی۔ میں دو مرتبہ اسے لانگ ڈرائیو پر لے جا چکا تھا۔ کسی کمزور لمحے سے مغلوب ہو کر اس سے ملاقات بھی کر بیٹھتا، مگر جب بھی تنہائی میں ملنے کا سوچتا، میرے سامنے اپنی بیٹی کی تصویر آ جاتی۔
ایلیا اور میری فون پر ہونے والی گفتگو نے اسے ڈپریشن کے ایک گہرے سمندر سے باہر نکال دیا تھا۔ آج کل ٹیلی فون پر ایجاب و قبول، یا تنہائی میں ایجاب و قبول کرکے مرد و عورت ہر حد سے گزرنے کو تیار رہتے ہیں۔ شریعت نے اس معاملے میں واضح اور سخت شرائط مقرر کی ہیں، مگر ہم نے اپنے مفادات کے لیے شریعت کو بھی توڑ مروڑ کر حرام کو حلال بنا لیا ہے۔ ایلیا میری دوسری بیوی بننے کے لیے تیار تھی، مگر معاشرتی دباؤ اور اپنے بچوں کی وجہ سے میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ حالاں کہ ویڈیو کال پر اس کے ساتھ گزارا ہوا وقت مجھے زندگی کا حاصل محسوس ہوتا تھا۔ اپنے سے بیس برس چھوٹی عورت کا نشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
وہ گھر کی واحد کمانے والی لڑکی تھی۔ بھائی شادی کرکے الگ ہو چکے تھے۔ بڑی بہنوں کو بھی اس کی شادی سے کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی۔ ہر رشتے میں بہن بھائی کوئی نہ کوئی مین میخ نکال کر انکار کر دیتے تھے۔
اس نے اپنے جذبات کی تسکین کے لیے ٹیلی فون پر مردوں سے دوستیاں کرنا شروع کر دی تھیں۔ مجھ سے دوستی بھی اسی جذباتی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش تھی۔ وہ اپنے گھر کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مجھ سے خفیہ نکاح کرنا چاہتی تھی۔ اس کا کہنا تھا:
"جیسے ہی مجھے میرے معیار کا مرد مل جائے گا، آپ مجھے چھوڑ دیجیے گا"۔
اس کی آواز میں نہ جانے کیسا نشہ تھا کہ بڑے بڑے عابد و زاہد بھی لمحوں میں مغلوب ہو جاتے تھے۔ میں تو پھر ایک عام سا انسان تھا۔
اس سے فون پر بات کرکے دفتر کے بہت سے لوگوں کے رازوں سے پردہ اٹھا۔ کون کون، کس کس حوالے سے اس سے رابطے میں تھا، کس نوعیت کی گفتگو کرتا تھا اور کس طرح محض ایک اشارے پر اس کی مطلوبہ رقم اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی تھی۔ وہ ہر بات مجھ سے شیئر کرتی تھی۔
میرا دل چاہتا تھا کہ اسے اس دلدل سے نکال دوں جس میں وہ دھنسے چلی جا رہی تھی۔ اس سے شادی کر لوں، اسے اپنا نام دے دوں، مگر میں چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ دل میں ایک خیال یہ بھی آتا کہ وہ اس قدر پُرکشش عورت ہے کہ شاید زیادہ عرصے تک میری بھی نہ رہ سکے۔ ہر دوسرے ہفتے بدلنے والے اس کے مرد دوست مجھے اس فیصلے سے روکتے تھے کہ اس سے شادی نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ نہ جانے کس مقام پر وہ میری عمر کی وجہ سے مجھے ذلیل کرکے آگے بڑھ جائے اور میں پچھتاووں میں گھر کر اپنی وفادار بیوی اور بچوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں۔
قارئین! اب آپ ہی مجھے مشورہ دیجیے کہ میں کیا کروں؟ کیا ایلیا سے شادی کر لوں، یا مزنہ اور اپنے بچوں کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کروں؟