معاشرے میں "غیرت" ایک ایسا حساس لفظ ہے جس کا نام لیتے ہی خون کھول اٹھتا ہے اور بلند و بانگ دعوے سنائی دینے لگتے ہیں، لیکن اسی معاشرے کی ایک تلخ اور ہولناک سچائی یہ ہے کہ جو مرد اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی شادیوں یا ان کی نقل و حرکت پر غیرت مند بن کر پہرے بٹھاتے ہیں، وہی مرد جب وراثت اور مالی حقوق کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو نہایت بے دردی سے اپنی ہی بیٹیوں کا حق مار کر مصلحتوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔
یہ منافقت اور تضاد ہمارے سماجی ڈھانچے کا وہ ناسور ہے جس نے اسلامی تعلیمات کے چہرے کو روایتی جاہلیت کے پردوں میں چھپا دیا ہے۔ اسلام وہ پہلا اور واحد دین ہے جس نے آج سے چودہ سو سال قبل عرب کی اس جاہلیت کا قلع قمع کیا جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا اور انہیں جائیداد میں محض ایک بوجھ یا ملوکیت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے بیٹی کو نہ صرف جائیداد اور وراثت میں مستقل اور قانونی حقدار ٹھہرایا بلکہ اس کی پیدائش، پرورش اور تعلیم و تربیت کو جنت کے حصول کا ذریعہ اور جہنم کی آگ سے بچاؤ کی ڈھال قرار دیا۔
قرآن مجید نے سورۃ النساء میں واضح اور اٹل قوانین کے ذریعے مردوں اور عورتوں دونوں کے حصے مقرر کر دیے، تاکہ کوئی بھی مادی لالچ یا خاندانی رواج ان خدائی حدود کو پامال نہ کر سکے۔ اس کے باوجود، ہمارے معاشرے میں ایک عجیب اور خود ساختہ غیرت کا معیار قائم ہے، جہاں بیٹی کا حقِ وراثت مانگنا ایک جرم یا خاندان کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ اکثر باپ اور بھائی یہ دلیل دیتے ہیں کہ انہوں نے بیٹی کی شادی پر بہت زیادہ جہیز دے دیا ہے یا اس کی رخصتی پر بھاری اخراجات کیے ہیں، اس لیے اب جائیداد پر صرف بیٹوں کا حق ہے۔
یہ سوچ سراسر غیر اسلامی، غیر قانونی اور ظلم پر مبنی ہے، کیونکہ جہیز یا شادی کے اخراجات کبھی بھی بیٹی کے اس شرعی حقِ وراثت کا نعم البدل نہیں ہو سکتے جو اسے خالقِ کائنات نے عطا کیا ہے۔ بعض خاندانوں میں تو بیٹیوں سے زبردستی یا جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے ان کا حصہ معاف کروا لیا جاتا ہے، جبکہ شریعت کی رو سے دباؤ، سماجی خوف یا شرمندگی کے تحت لیا گیا کوئی بھی دستبرداری کا فیصلہ باطل ہے اور ایسا مال کھانے والا سیدھا جہنم کی آگ اپنے پیٹ میں بھرتا ہے۔ یہ کیسی غیرت ہے جو غیروں کے سامنے تو خاندانی ناک اونچی رکھنے کے دعوے کرتی ہے، لیکن اپنے ہی جگر کے ٹکڑے کو اس کے جائز حق سے محروم کرتے وقت ذرا بھی نہیں کانپتی؟
اس اصلاحی اور معاشرتی بحران کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی روایتی اور جاہلانہ عصبیتوں کو چھوڑ کر حقیقی اسلامی روح کو اپنائیں گے۔ علماءِ کرام، دانشوروں اور میڈیا کو اس سنگین معاملے پر مسلسل آواز اٹھانی ہوگی اور یہ باور کرانا ہوگا کہ بیٹیوں کو ان کا شرعی حصہ دینا کوئی احسان یا خیرات نہیں، بلکہ ایک فرضِ عین ہے جس کی کوتاہی پر سخت ترین اخروی گرفت ہوگی۔ بیٹی کا حق مارنے والے کبھی بھی معاشرے میں حقیقی عزت یا غیرت مند کہلانے کے حقدار نہیں ہو سکتے، کیونکہ سچی غیرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور کمزور کو اس کا حق دینے میں ہے، نہ کہ خاندانی رواج کے نام پر ظلم کا بازار گرم کرنے میں۔ جب تک ہم اپنی بیٹیوں کو معاشی طور پر مستحکم اور ان کے قانونی و شرعی حقوق سے لیس نہیں کریں گے، تب تک ہمارا معاشرہ امن، برکت اور حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا اور رشتوں کا تقدس اسی طرح مادی مفادات کی بھیٹ چڑھتا رہے گا۔