1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. اندھا قانون، گونگا انصاف اور مظلوم کی آہ

اندھا قانون، گونگا انصاف اور مظلوم کی آہ

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی بھی معاشرے، ریاست یا بین الاقوامی نظام میں انصاف گونگا اور قانون اندھا ہو جائے، تو مظلوم کی فریاد محض ایک بے اثر آواز بن کر رہ جاتی ہے۔ قانون کی اندھی آنکھیں طاقتور کا جرم دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں اور انصاف کی گونگی زبان کمزور کے حق میں بولنے سے انکار کر دیتی ہے۔

عالمی تناظر میں اگر اس تاریخی تسلسل کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا المیہ اقوامِ متحدہ (UN) کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ 24 اکتوبر 1945ء کو جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا میں امن اور یکساں انصاف کے قیام کے لیے قائم ہونے والی یہ تنظیم خود "اندھے قانون" کی سب سے بڑی محافظ بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر بظاہر تمام انسانوں اور ملکوں کے مساوی حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن عملی طور پر سلامتی کونسل کا "ویٹو پاور" کا نظام بین الاقوامی انصاف کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ اس گونگے انصاف کی بدترین تاریخی مثال فلسطین اور کشمیر کے دیرینہ تنازعات ہیں۔

1947ء سے جاری اسرائیلی جارحیت اور اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادوں (جیسے قرارداد نمبر 242اور 338) کے باوجود، غزہ کے معصوم عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) اور اقوامِ متحدہ محض بیانات تک محدود ہیں۔ جب بھی اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کی کوشش کی جاتی ہے، تو امریکہ اور اس کے اتحادی ویٹو پاور کا استعمال کرکے قانون کو اندھا ثابت کر دیتے ہیں۔ اسی طرح 1947ء کی قرارداد نمبر 47 کے تحت کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی عالمی انصاف گونگا تماشائی بنا ہوا ہے اور مظلوم کشمیریوں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔

عالمی سطح سے ہٹ کر جب ہم پاکستان کے داخلی نظامِ عدل پر نظر ڈالتے ہیں، تو یہاں بھی "اندھا قانون اور گونگا انصاف" کا ایک ہولناک تاریخی تسلسل نظر آتا ہے۔ پاکستان میں عدالتی تاریخ کے کئی ایسے سنگِ میل ہیں جہاں قانون نے طاقتور کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور مظلوم کی فریاد کو دبا دیا گیا۔ اس کا آغاز 21مارچ 1955ء کو فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کے اس تاریخی فیصلے سے ہوا جس میں انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کے ذریعے پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو "نظریۂ ضرورت" (Doctrine of Necessity) کے تحت جائز قرار دیا۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں پاکستانی قانون پہلی بار جان بوجھ کر اندھا ہوا اور اس نے آمرانہ اقدامات کو تحفظ دے کر انصاف کو ہمیشہ کے لیے گونگا کر دیا۔

اس کے بعد 4اپریل 1979ء کو سابق وزیرِ اعظم ذولفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے متنازع کیس میں سپریم کورٹ کے ذریعے دی جانے والی پھانسی کی سزا ملکی تاریخ کا وہ تاریک ترین باب ہے جسے بعد میں خود عدلیہ نے "عدالتی قتل" (Judicial Murder) تسلیم کیا۔ اس کیس میں قانون نے سیاسی انتقام کی پٹی آنکھوں پر باندھ لی اور ایک مقبول رہنماء کی فریاد سنے بغیر انصاف کو مصلحت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے آئین شکنی اور شب خون مارنے کے اقدام کو مئی 2000ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ آمر کو آئین میں ترمیم کا حق بھی دے دیا، جس نے ثابت کیا کہ یہاں کا قانون صرف کمزور کے لیے حرکت میں آتا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی سنگین صورتحال اور وہاں سے "لاپتہ افراد" (Enforced Disappearances) کا معاملہ بھی اس گونگے انصاف کی ایک زندہ اور دردناک مثال ہے۔

مسز آمینہ مسعود جنجوعہ جو 2005ء سے اپنے شوہر مسعود جنجوعہ کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں، ان جیسے ہزاروں مظلوم خاندانوں کی فریادیں سپریم کورٹ کے لاپتہ افراد کے کمیشن اور متعدد سماعتوں کے باوجود تاحال بے اثر ہیں۔ قانون ان مائوں اور بہنوں کے آنسو دیکھنے سے اندھا اور انصاف ان کے پیاروں کے ٹھکانے بتانے سے گونگا ہو چکا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن (17 جون 2014ء) جس میں 14 بے گناہ شہری پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے، اس کی جے آئی ٹی (JIT) رپورٹوں اور عدالتی چکروں کے باوجود مظلومین آج بھی بنیادی انصاف سے محروم ہیں اور طاقتور ملزمان قانون کی گرفت سے آزاد گھوم رہے ہیں۔

ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے عالمی فورم سے لے کر پاکستان کے مقامی نظامِ عدل تک، جب تک قانون طاقتور کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں ہوگا اور انصاف بلا خوف و خطر مظلوم کی داد رسی نہیں کرے گا، تب تک انسانیت یوں ہی سسکتی رہے گی اور اندھے قانون و گونگے انصاف کے خلاف مظلوم کی فریاد تاریخ کے صفحات پر ایک نوحہ بن کر گونجتی رہے گی۔