1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. ایشیاء کا خون اور یورپ کا سکون

ایشیاء کا خون اور یورپ کا سکون

انیسویں صدی میں برطانوی اور روسی سلطنتوں کے درمیان شروع ہونے والی جس جغرافیائی و سیاسی کشمکش کو "گریٹ گیم" کہا گیا، اس نے ایشیاء کو طاقتور ممالک کے مفادات کا میدان بنا دیا۔ وقت کے ساتھ کردار بدلتے رہے مگر اصول وہی رہے کہ ایشیائی سرزمین پر جنگیں، بغاوتیں، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جبکہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات، تجارتی راستوں، توانائی کے ذخائر اور تزویراتی برتری کو محفوظ بنائیں۔

اس تاریخی پس منظر نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں ایشیاء اکثر تصادم کی لپیٹ میں رہا جبکہ یورپ نسبتاً زیادہ امن، ترقی اور استحکام سے مستفید ہوتا دکھائی دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایشیاء کی جغرافیائی حیثیت ہمیشہ عالمی طاقتوں کے لیے غیر معمولی اہم رہی ہے۔ وسطی ایشیاء کے وسائل، مشرق وسطیٰ کا تیل، جنوبی ایشیاء کی سمندری گزرگاہیں اور مشرقی ایشیاء کی صنعتی طاقت نے اس پورے خطے کو عالمی سیاست کا مرکز بنا دیا۔ اس وجہ سے مختلف ادوار میں بیرونی مداخلت، پراکسی جنگیں اور سیاسی اتحاد تشکیل پاتے رہے جنہوں نے کئی ممالک کے اندرونی استحکام کو متاثر کیا۔

بعض تجزیہ کار یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مقامی اختلافات، نسلی تقسیم، مذہبی کشیدگی یا سیاسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ تاہم اس دعوے کو ہر واقعے پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ متعدد تنازعات کی جڑیں مقامی سیاسی، سماجی، معاشی اور تاریخی عوامل میں بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس لیے ہر جنگ یا بحران کو محض ایک بیرونی سازش قرار دینا حقائق کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

افغانستان، عراق، شام، یمن اور دیگر خطوں کے تنازعات نے یہ حقیقت ضرور واضح کی کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، تعلیم اور صحت کے نظام کمزور پڑ جاتے ہیں اور ترقی کا سفر دہائیوں پیچھے چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف اسلحہ سازی، توانائی، بحری راستوں اور سفارتی اثرورسوخ کے میدان میں عالمی طاقتوں کے مفادات اکثر نمایاں رہتے ہیں۔ یورپ کے نسبتاً پرامن اور مستحکم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں مشترکہ ادارے، معاشی تعاون، سفارتی مکالمہ اور علاقائی انضمام کو فروغ دیا گیا۔

اگرچہ یورپ بھی جنگوں، دہشت گردی، مہاجرین کے بحران اور حالیہ برسوں میں مشرقی یورپ کے تنازع جیسے چیلنجز سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا، لیکن مجموعی طور پر اس نے ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اپنے اندرونی استحکام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ موجودہ دور میں "نیا گریٹ گیم" اکثر اس مسابقت کو کہا جاتا ہے جس میں عالمی طاقتیں تجارت، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سمندری راستوں، نایاب معدنیات، توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس نئی رقابت میں ایشیاء ایک مرتبہ پھر مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ عالمی معیشت کا بڑا حصہ اب اسی خطے سے وابستہ ہے۔

یہ کہنا کہ ایشیاء میں بہنے والے ہر خون کا ذمہ دار صرف ایک فریق ہے، تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔ حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے جہاں بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات، علاقائی رقابتیں، مقامی قیادت کے فیصلے، معاشی مسائل، انتہاپسندی، وسائل کی تقسیم اور داخلی سیاسی کمزوریاں مل کر بحرانوں کو جنم دیتی ہیں۔ اسی طرح یورپ کا سکون بھی صرف ایشیاء کے عدم استحکام کا نتیجہ نہیں بلکہ وہاں کی طویل المدتی منصوبہ بندی، ادارہ سازی، قانون کی حکمرانی، اقتصادی تعاون اور سفارتی ڈھانچوں کا بھی اہم کردار ہے۔

آج کی دنیا میں سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقت کی سیاست وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر پائیدار امن صرف انصاف، باہمی احترام، علاقائی تعاون، مضبوط اداروں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ اگر ایشیاء کے ممالک داخلی استحکام، سائنسی ترقی، معاشی خودمختاری، علاقائی تعاون اور تعلیم کو اپنی ترجیح بنائیں تو وہ بیرونی دباؤ اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ مستقبل کا حقیقی گریٹ گیم صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ علم، معیشت، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی کے میدان میں جیتا جائے گا اور یہی وہ راستہ ہے جو ایشیاء کو خونریزی کے بجائے استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔