محمد نسیم رنزوریار12 جنوری 2026کالمز18164
چمن ایک سرحدی ضلع ہے، مگر اس کی حیثیت محض ایک جغرافیائی مقام تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ شہر آج ریاستی غفلت، انتظامی نااہلی، معاشی استحصال اور سماجی زوال کی ایک
مزید »محمد نسیم رنزوریار07 جنوری 2026کالمز8132
قبائلی تاریخ میں بعض خاندان اور شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ نسل در نسل اپنی خدمات، کردار اور روایات کے ذریعے تاریخ کا حصہ بن ج
مزید »محمد نسیم رنزوریار11 نومبر 2025کالمز1186
آہ کر کہ واہ کر، یہی ہماری قومی کہانی ہے، یہی ہمارا اجتماعی المیہ ہے۔ جب اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھنے والے دھاندلی، جعلی ووٹوں اور سیاسی جوڑ توڑ سے کرسی حاصل
مزید »محمد نسیم رنزوریار07 نومبر 2025کالمز1136
سردار حاجی احمد خان اچکزئی، سربراہِ عالی مرتبت و معتبرِ قومِ غبیزئی، ایک ایسی عظیم اور باوقار شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو عوامی خدمت، قبائلی اتحاد، امن، تع
مزید »محمد نسیم رنزوریار14 اکتوبر 2025کالمز13918
پاکستان کی سیاست میں اچانک ابھرنے والی شخصیات ہمیشہ سے تجسس اور تنازع کا موضوع رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ایسے کردار بارہا منظرِ عام پر آئے جنہوں نے عوامی س
مزید »محمد نسیم رنزوریار07 اکتوبر 2025کالمز25210
غیبی مدد کا تصور اسلام میں نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ لیکن غیبی مدد محض دعاؤں، بددعاؤں یا محافلِ نعت و تس
مزید »محمد نسیم رنزوریار27 ستمبر 2025کالمز5211
دِل خون کے آنسو روتا ہے۔۔ لفظ قلم پر لرزتے ہیں اور روح کانپتی ہے جب وہ لمحہ یاد آتا ہے۔ 28 ستمبر 2019، عصر کے وقت، سرحدی شہر چمن کی تاج روڈ پر وہ دھماکہ، جس نے
مزید »محمد نسیم رنزوریار24 ستمبر 2025کالمز8223
بلوچستان کی تاریخ میں لیویز فورس کا کردار نہایت اہم اور منفرد ہے۔ یہ ایک ایسی مقامی فورس ہے جسے نہ صرف علاقے کی زمین، قبیلوں اور رسم و رواج کا مکمل علم ہے بلکہ
مزید »محمد نسیم رنزوریار22 ستمبر 2025کالمز5463
امریکہ کی بیرونی پالیسی اور اس کے مسلم ممالک میں عسکری مداخلت کے پیچھے ایک سا فِیصلہ کن وجہ نہیں بلکہ تاریخی، جغرافیائی، تزویراتی، اقتصادی اور آیڈیلوجیکل عوامل
مزید »محمد نسیم رنزوریار06 اگست 2025کالمز17230
یہ زمین جنت کی مٹی سے بنی تھی، یہاں آسمانوں سے برکتیں اترتی تھیں، یہاں پہاڑوں میں سونا دفن تھا، میدانوں میں اناج اگتا تھا، ندیوں سے دودھ جیسا پانی بہتا تھا اور
مزید »