میری پیاری نبیلہ
آدھی رات بیت چکی ہے اور ساری باقی ہے۔ کئی مرتبہ لکھنے کی کوشش کی پھر مٹا دیتا ہوں۔
جانتا ہوں کہ کیا لکھنا ہے لیکن جو بھی لکھتا ہوں سچ سے بہت کم لگتا ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جھوٹ لکھا ہے۔ کاغذ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہوں۔
"جان من! تمہاری یاد ستاتی ہے"۔
بہت چھوٹا جملہ ہے۔
"اے میری شریک حیات!"
حیات؟
جھوٹ ہے، دلاسا ہے۔
"میری پیاری! میں بالکل ٹھیک ہوں اور تمہاری خیریت نیک"۔
ہمدردی و دل داری دکھ دیتی ہے۔ قسمت پر یقین نہیں۔ امیدیں مرجھا گئی ہیں۔ ویسے بھی یہاں رہ کر ایسا سوچنا تقدیر کو آزمائش میں ڈالنا ہے۔
یہاں وقت انوکھے طریقے سے چلتا ہے۔ کچھ دن اپنے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، باقی یادوں میں سلگتے رہتے ہیں۔
کرنل صاحب کہتے ہیں، تم چند ماہ پہلے ہی گھر سے ہو کر آئے ہو۔۔
چند ماہ!
تمہارا کیا خیال ہے؟
انہیں کیا کہوں؟ وہ بھی جانتے ہیں۔ جدائی کے دن گزرتے نہیں، جمع ہوتے ہیں۔ ایک کے اوپر ایک، پھر پہاڑ بن جاتے ہیں۔ انسان بتا نہیں سکتا کہ وہ اس پہاڑ کی کس کھوہ میں قید ہے؟
میں بستر پر لیٹا تو دن کا بوجھ کمر پر موجود تھا۔ صبح اٹھوں گا تو ایک اور دن کی پوٹ سر پر لادے جانے کے لیے تیار ہوگی۔
تمہاری ہر وقت کی یاد اس گٹھری کو مزید بھاری کر دیتی ہے۔ بندوق صاف کرنا، سگریٹ پینا یا جوتوں کے تسمے کسنا، میں کسی بھی کام میں الجھا ہوں تو یہ کہیں نہ کہیں سے در آتی ہے۔
وہ پہلی ملاقات جب تمہارے گلستان جمال نے مجھ پر پیار کے پھول برسائے تھے۔ تمہارا برسات کے گلاب جیسا چہرہ جس کی شفق میں میرا دل ڈوب گیا تھا۔ اس مرتبہ جب میں رخصت ہو رہا تھا تو وہی چہرہ شام کے پھول کی طرح مرجھایا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اب اس کی یاد مجھ پر انگارے برساتی ہے۔
مسرت کی عمر کتنی قلیل اور غم کی کتنی طویل ہوتی ہے۔
بچے تو کسی وقت نہیں بھولتے۔ ظفر چلنا شروع ہوگیا ہوگا۔ افسوس! میں اس کا پہلا قدم نہ دیکھ سکا۔ مائرہ سکول جانا چاہتی تھی۔ تم نے داخل کروا دیا ہوگا۔ میں پہلے دن ابو کی انگلی پکڑ کر سکول گیا تھا۔ مائرہ کیا سوچے گی؟ وہ تو میری انگلی ایسے پکڑتی تھی جیسے یہ اُس کی دنیا کا محور ہو۔ اب وہ کس مرکز پر گھومتی ہوگی؟
کیا عجیب باتیں ہیں! تمہارا دل دُکھے گا۔ اس خط کو بھی پھاڑ دینا چاہیے۔
ہمت نہیں!
یہاں دماغ ایسے ہی بھٹکتا رہتا ہے۔ سوچ سیدھے راستے پر نہیں چلتی۔ شور، یادیں، تھکاوٹ، ذہنی بے ربطی، سب اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ انسان دائروں میں گھومتا رہتا ہے۔ زمین چاند ستارے سب گھومتے نظر آتے ہیں۔
یہاں میرے بہت سے ساتھی ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے بہترین دوست، یار۔
یار۔
لفظ کافی گھٹیا لگتا ہے۔ ہر کسی کو یوں پکارنا۔ کیا عجیب بات ہے؟ لیکن ایسا نہیں۔ سب پکے دوست ہیں۔ جو چیز کسی ایک کے پاس ہے۔ سب مل بانٹ کر استعمال کرتے ہیں۔ پھل، سبزیاں، گرمی، سردی سب بانٹ لیتے ہیں: دکھ بھی۔
جس کا کوئی اظہار نہیں کرتا۔
ہم بہت محتاط رہ کر اسے بانٹتے ہیں۔
تم یقین کرو یہاں انسانیت اپنے معراج پر ہے۔
تمہیں اس کا احساس ہوگا۔ ہو سکتا ہے تمہیں تجربہ بھی ہو۔ جب تم اپنے جیسی دوسری عورتوں سے ملتی ہوگی۔ وہ عورتیں جن کے خاوند ارض پاک کی حفاظت کے لیے ان سے کوسوں دور جا بستے ہیں۔
یہاں دکھ بتانے کی بجائے برداشت کرنے پڑتے ہیں اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
ان سنگلاخ پہاڑوں میں آ کر پتا چلا کہ دوستی، پیار و محبت، پسند کا نام نہیں، یہ ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ ایک دوسرے کی فکر کا نام ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کا دھیان رکھتے ہیں۔ کوئی ٹوٹنے لگتا ہے تو اس کا سہارا بن جاتے ہیں۔ کوئی اگلے مورچے سے واپس نہیں آتا تو فوراً باتیں نہیں شروع کر دیتے۔ اندر ہی اندر سوچتے ہیں، انتظار کرتے ہیں۔ انتظار حوصلہ دیتا ہے اور کبھی کبھی وہ نہیں ہوتا جس کا ڈر تھا۔
تم جانتی ہو مجھے بھی کچھ دن ہسپتال جانا پڑ گیا تھا۔ اب ٹھیک ہوں۔ اپنا فرض نبھانے واپس آ گیا ہوں۔
واپس آنے کا مطلب ہے میں بالکل ٹھیک ہوں۔ خوش قسمت ہیں وہ دوست جو ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ہمارے کچھ دوست ہمیں چھوڑ کے جا چکے ہیں۔
ہم یہی کہتے ہیں کہ وہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
ہم ہمیشہ ان کی واپسی کے منتظر رہتے ہیں، چاہے وہ نہ لوٹیں۔
ہم جانتے ہیں وہ ہم سے اچھی زندگی گزار رہے ہوں گے۔
ہاں! میں تمہیں اپنے اس دوست کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس کا نام شرجیل تھا۔ پچھلے خط میں اس کا ذکر کیا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی محبوبہ حمیرہ، کا ذکر کرتا۔ اتنے پیار سے جیسے وہ اس کے پاس بیٹھی ہو۔ ہمیشہ مستقبل کے تانے بانے جوڑتا رہتا۔
ایسے تیقن سے بولتا جیسے وہ اس کی بیگم بن چکی ہو۔
محاذ سے واپس جاتے ہی وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ کہتا تھا، "سب سے پہلے تمہارے پاس لے کر آؤں گا۔ تم اس کا حسن دیکھ کر حیران رہ جاؤ گے"۔
افسوس صد افسوس وہ شہید ہو چکا ہے۔ میں یہ الفاظ سوچ سمجھ کر لکھ رہا ہوں کیونکہ اس کے علاوہ جو بھی لکھوں وہ بے ایمانی ہوگی۔
ہمارا دشمن اسے اٹھا کر لے گیا۔ ہمیں پتہ ہے وہ سرحد پار پہنچ چکا ہے۔ وہاں کسی ویرانے میں پڑا ہوگا۔
ہمیں ایسے گھٹیا دشمن کا سامنا ہے جسے لاش کی حرمت کا بھی پتہ نہیں۔ اسے قبر بھی نصیب نہیں ہوئی ہوگی۔
ہم حمیرہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہمیں اس کے دکھ کی فکر نہیں، اس کے مستقبل کی ہے۔ ہم شرجیل کے وہ فقرے یاد کرتے ہیں جن سے وہ اس کا ذکر شروع کرتا تھا، "تم اسے پسند کرو گے۔ تم نے اسے دیکھا نہیں۔ تم اسے دیکھتے ہی ششدر رہ جاؤ گے"۔
ہم سوچتے ہیں وہ اُس مرد کی یاد کا بوجھ اٹھا کر کیسے جیے گی جو اس کا سہارا نہیں بن سکا۔
یہ انوکھی قسم کا ساتھ ہے۔ ایک ایسے شخص کو پسند کرنا جو محبت کے لیے یا چھیڑ خوانی کرنے کے لیے موجود ہی نہیں۔ جو مل سکتا ہے، نہ جدا ہو سکتا ہے۔ ایسے انسان سے امید رکھنا جو نا امید بھی نہیں کر سکتا۔
میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ یادیں بوجھ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اندر رہ جائیں تو دکھ دیتی ہیں۔ دکھ دودھ کی طرح ہوتا ہے اسے سٹور کریں تو دہی پنیر نہیں بنتا، پھوٹ جاتا ہے۔
یہاں رہ کر ہم نے سیکھا ہے کہ کس بات کی فکر کرنی ہے اور کسے بھول جانا ہے؟
بہت سی باتیں ہوتی ہیں لیکن دکھ کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ سارا دن شور و غل رہتا ہے۔
ہاں! راتوں کو خاموشی گونجتی ہے۔ بیڈ پر لیٹتا ہوں تو یادیں پاؤں پسار لیتی ہیں۔ سر فہرست تمہاری یاد ہے۔
باتیں کرتے وقت تمہارا سر کو جھکا لینا، جواب دینے سے پہلے کچھ لمحوں کا توقف کرنا۔ یہاں سب ملتا ہے لیکن تمہارے ہاتھ کی بنی ہوئی املی آلوبخارے کی چٹنی نہیں ملتی۔۔
یہ یادیں بن بلائے کہاں سے چلی آتی ہیں؟
مجھے پکا یقین ہے تم روزانہ رات بچوں کو گود میں لے کر میرے پیار اور بہادری کے قصے سناتی ہوگی۔ میرا پیار ان تک پہنچا کر خود بھی مست ہو جاتی ہوگی۔
تمہارے قصوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے ہمیں فارورڈ پوسٹ پر جانا ہے۔ ہمیں اپنی سرزمیں کو ان خوارج سے پاک کرنا ہے۔ آگے بڑھنے کا حکم ملا ہے۔ آگے جانے کا مطلب تم بھی جان چکی ہو۔ الفاظ جو بیان کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بڑی حقیقت ان میں چھپی ہوتی ہے۔
ہم نے مکمل تیاری کر لی ہے۔
میں تم سے دعا کا نہیں کہوں گا۔ وہ تم ہر وقت کرتی ہو۔ ایک مرتبہ کہا تھا اگر تم دعا کرو گی تو یہ تمہارا اپنے ملک، اپنی زمین پر اعتماد کا اظہار ہوگا۔ اس کا مقصد میری حفاظت کے ساتھ ساتھ اللہ سے ملک کا امن مانگنا ہوگا۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ میرے واپس نہ آنے کا کیا مطلب ہوگا؟ یہ سوچ موت کے لیے خود کو تیار کرنے کی نہیں، اپنے کام کو اچھے طریقے سے انجام تک پہنچانے کی ہے۔
کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ میرے لیے یہ اہم نہیں کہ کیا ہوگا؟ یہ اہم ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اگر میں واپس نہیں لوٹتا تو تمہیں جان لینا چاہیے کہ تمہارا خاوند کسی بڑے مقصد کے لیے گیا تھا۔ تمہاری محبت بھی مقصد کے حصول کے راستے میں رکاوٹ نہیں۔
میں ہیرو بننے کا نہیں سوچ رہا، استقامت مانگتا ہوں۔ ہیرو ازم بہت بڑی چیز ہے۔ استقامت خاموش اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ یہ نعرہ نہیں، حقیقی وجود کا نام ہے۔
تم جانتی ہو چھوٹے چھوٹے کام زیادہ خوشی دیتے ہیں۔ مثلاً، خاوند کے کپڑے استری کرنا، بیوی کا سر دبانا، ایسے ہی یہاں اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو سگریٹ پینے میں شامل کر لینا، ہاتھ بٹا دینا، جب کوئی سو رہا ہو تو جاگ کر اس کی حفاظت کرنا، بظاہر یہ کام عام سے لگتے ہیں لیکن یہ بہت اہم بن جاتے ہیں جب ایک انسان اپنے بھائی بندوں کے سکون کے لیے خود کو قربان کرتا ہے۔
یہاں عجیب طرح کی محبت ہے۔ جو قربت اور خوف کے درمیان سے پیدا ہوتی ہے۔ یہاں حیلے بہانے نہیں چلتے اگر کوئی رونا چاہتا ہے تو رو لے۔
کچھ عجیب ہو جائے تو سب مل کر ہنسنے لگتے ہیں۔
ہنسنا زندگی ہے۔
میں تو جب بھی ہنستا ہوں تو تمہاری یادیں مجھے سرشار کر دیتی ہیں۔ یاد کرنا ہی محبت ہے اور تمہاری یادداشت مجھ سے زیادہ ہے۔ تمہیں ہمارے پیار کا ہر موقعہ، ہر لمحہ ازبر ہے۔
میں آج محبت کا انوکھا روپ بتانا چاہتا ہوں۔ تم اسے بھی یاد رکھنا۔
محبت ہمیشہ ساتھ نبھانا نہیں، عزت سے علیحدہ ہونے کا بھی نام ہے۔ بوجھ بننے سے انکار کو محبت کہتے ہیں۔ اگر کبھی یہ موقع آ جائے کہ زندگی اور محبوب کی یاد میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو مجھے بھول کر زندگی کو اپنا لینا۔ میں خوش ہو جاؤں گا بلکہ سمجھوں گا کہ میری یاد تم نے دل کے کسی خفیہ خانے میں محفوظ کر لی ہے۔
میرے بغیر جی کر اگر تمہیں خوشی مل جائے تو شرمندہ مت ہونا، مجھ سے معافی نہ مانگنے لگنا کیوں کہ میں تو سن نہیں سکوں گا۔
یادیں اخلاص مانگتی ہیں، وفاداری نہیں۔
اب میں تھک چکا ہوں، صرف جسم نہیں گرچہ وہ بھی درد کر رہا ہے۔ پتہ نہیں اس جگہ پر لوٹ کر آ سکوں گا یا نہیں؟
امن ہوگا یا؟
نہیں، نہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ امن ضرور ہوگا۔
بہکے ہوئے لوگوں کا پیدا کردہ فتور ضرور ختم ہوگا۔ یہ جاہل لوگ اپنی بھڑکائی ہوئی دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
جہالت زیادہ دیر تک نہیں پنپ سکے گی۔
کافی رات بیت چکی ہے۔ جلد ہی اگلا خط لکھوں گا۔
اگر میں دوبارہ لوٹ کر آ سکا۔
میری جان! خدا تمہارا اور بچوں کا محافظ ہے۔
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
جو کچھ بھی آگے آئے میں تمہیں اس کے حوالے کرتا ہوں۔
پھر ملیں گے جلد یا بدیر، اِدھر یا اُدھر۔
لیکن ضرور۔
تمہاری خوشیوں کا طلبگار
تمہارا خاوند
حوالدار زاہد