پہاڑ بلاتے ہیں۔۔
سرمئی، برفیلے، پتھریلے، ہرے بھرے اور پھولوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑ
بلاتے ہیں۔۔
لیکن کس کو؟
ہر کسی کو یا پھر صرف اپنے محبوب کو
میں ایک مرتبہ پھر انھی پہاڑی راستوں پر سفر کر رہی تھی جو میرے خوابوں میں بسے رہتے تھے۔ ارادہ تھا کہ گلگت سے ہوتے ہوئے ہنزہ کی طرف سفر جاری رکھوں گی۔ بس میں تقریباََ تمام مسافر مقامی تھے جنھوں نے بس سے اترتے ہی اپنے گھروں کی طرف چل پڑنا تھا اور میں نے۔۔
پہاڑوں میں سورج جلدی ڈوب جاتا ہے اور سارے منظر کو رات ایک امانت کی طرح اپنی چادر میں چھپا لیتی ہے۔ مکمل، گہرا، پاک و شفاف سناٹا جو میری روح تک کو جھنجھوڑتا ہے۔
میں مکمل تاریکی میں ڈوبے سامنے پہاڑ کو گھور رہی ہوں اسکے ہیولے کی ہیبت سے میرا جسم لرزاں ہے۔
بلند پہاڑوں میں کچھ نہیں بلکہ بہت سے الوہی اسرار ہوتے ہیں۔ ایک مکمل جہاں۔ جو محسوس تو ہوتا ہے اپنی پوری جزیات کے ساتھ لیکن ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا۔
کھڑکیاں، جھروکے، محرابیں تخلیق کار کے آعلی ذوق کی منہ بولتی تصویریں ہیں جیسے شاندار سلطنت آسمان کی وسعتوں میں برا جمان ہو
ہنزہ کی ٹھنڈ میں رات کے اس وقت۔
میں چھت پر کھڑی مکمل تاریکی میں ڈوبے سامنے پہاڑ کو گھور رہی ہوں۔ مجھے یہ بھی یقین نہیں ہے کہ جو پہاڑ صبح یہاں موجود تھا اب ہے بھی کہ نہیں۔۔
یہ بےیقینی مجھے آج شام تک نہیں تھی۔۔
میں ہنزہ کے گیسٹ ہاؤس میں بیٹھی آس پاس بکھرے انسانی کرداروں کا مطالعہ کر رہی تھی۔ ہنسی مذاق اور بلند ہوتے ہوئے قہقہے۔ کراچی سے سیاحت کا شوق لیے گروپ آج ہی پہنچا تھا اور اگلے دن خنجراب کے سفر کا جنون انھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیے رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح کبھی یاک، مرموڈ اور کبھی چینی لوگوں کے متعلق قیاس آرائیاں کر رہےتھے۔ میرے سوپ کے مزے کو ان کی باتیں دوبالا کر رہی تھیں۔
غزال؟
میں نے چونکتے ہوئے آواز کی سمت دیکھا۔ ایک نوجوان مجھ سے مخاطب تھا۔
Yes.. میں نے اعتراف جرم میں سر ہلایا۔
سولو ٹریولر؟ اس نے تصدیق چاہی۔
جی۔۔ پلیز بیٹھیں
وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا
میزبان نے بتایا کہ ٹریولنگ رائٹر ہمارے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہری ہیں آپ کو اکیلے بیٹھا دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ آپ ہی غزال ہیں۔ آپ اپنے سفر کی روئیداد قلمبند کرتی ہیں بہت خوب۔ (وہ کچھ متاثر دکھای دے رہا تھا)۔
شکریہ۔ میں نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
اس کی آنکھوں کے گہرے سبز رنگ میں جلتی بجھتی روشنیاں تھیں۔ سنہری براون بال کشادہ پیشانی کو چوم رہے تھے۔ مدہم، شیریں لہجہ مگر حاکمانہ مزاج لیے ہوے۔ میں نے اپنائیت کی مسافتیں لمحوں میں طے کر لیں۔ میں اسے مل چکی ہوں مگر کہاں؟
آپکا پہاڑوں کے متعلق کیا خیال ہے؟
نوجوان نے کچھ بےصبری اور تجسس سے پوچھا۔
مجھے حیرت اور بےیقینی کا جھٹکا سا لگا۔ کیونکہ پہاڑوں کے اسرار و رموز سمجھنے کے لیے میں خود کس قدر مضطرب ہوں۔
کس سے پوچھوں اور کیا پوچھوں
پہاڑوں کی کشش نے مجھے حصار میں لے رکھا ہے اور ان کی ہیبت کے آگے میرے تمام الفاظ گنگ ہو کر رہ گئےہیں۔ میری روح کی پرواز سنگدل صنم کی چوکھٹ سے ٹکرا کر زخمی ہو رہی ہے۔ میری تپسیا پتھر کو موم کرنے میں ناکام ہے۔۔ پہاڑوں سے عشق ایسا دلفریب معاملہ ہے جس میں آپ ایک مرتبہ مبتلا ہوئے تو عشق صرف عشق نہیں رہتا بلکہ روحانیت میں داخل ہو جاتا ہے۔
آپ سے میری درخواست ہے۔
نوجوان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، آپ پہاڑوں پر ضرور لکھیں۔ میں انھیں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ یہ بہت پراسرار ہیں ان میں طلسماتی کہانیوں کا جنم ہوتا ہے۔ آپ اپنے لفظوں میں لکھیں۔۔ شاید میں اور میرے جیسے۔۔
وہ اپنی رو میں بہتا جا رہا تھا۔
اسے میرے چہرے کا کرب اور آنکھوں کی نمی دکھائی نہیں دے رہی تھی جو ایک مجذوب قلندر کی آنکھوں میں اپنے محبوب کے ذکر سے چمکتی ہے۔
رات کو پہاڑ غائب ہو جاتےہیں یہ اپنی جگہ پر نہیں ہوتے۔
نوجوان نے گہری سرگوشی میں کہا۔
اب میں یخ بستہ گہری ہوتی رات کے پاکیزہ سناٹے میں، کچھ کھونے، کچھ پانے کی آرزو لیے، مکمل تاریکی میں ڈوبے سامنے پہاڑ کو گھور رہی ہوں یا شاید محسوس کر رہی ہوں۔
میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ پہاڑ سامنے موجود ہے۔
میرا جسم ہولے ہولے ہنزہ کی ہوشربا رات میں کانپ رہا ہے۔ میں وقت کے کس لمحے میں گرفتار ہوں، اس کا احساس باقی نہیں رہا۔
اچانک خاموشیوں کے سفر میں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی اور بھی اس راستے کا مسافر ہے۔ قریب ہوتی گرم سانسوں نے میرے چہرے کو چھو لیا اور بانہوں کے مضبوط حصار میں کانپتے جسم کو سمیٹ لیا۔
میری سماعتوں سے نوجوان کی آواز لہروں کی طرح ٹکرائی۔
میں دعوی سے کہتا ہوں، "سنگلاخ چٹانوں کے نیچے نرم پانی بہتے ہیں اور پہاڑوں کی گود ہی میں محبتوں کے جنگلی پھول کھلتے ہیں"۔
مجھے اس کے سینے کی وسعتوں میں گہری خوشبووں کی مہکار سنائی دی۔۔
میں پہاڑوں کی پگڈنڈیوں سے نکل آئی ہوں لیکن میرے آنچل کا کونہ شاید کسی چٹان میں اٹک گیا ہے جو مجھے اپنی گرفت سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔