"خوش آمدید، ہرمِس، آج رات کیسا محسوس کر رہے ہو؟"
وہ کمرے میں داخل ہوا تو ہیستیا کی آواز کانوں میں رس گھولنے لگی۔ آواز میں ایک ہلکا سا ارتعاش تھا۔ ہمیشہ سے موجود کھردرا پن نرمی میں ڈھل چکا تھا۔ باتوں میں اپنائیت کا لمس اور گفتگو میں مسکراہٹ کی چاشنی تھی۔ گھر میں وہ اس کی اکلوتی رفیق تھی۔
باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ پانی کی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا کر شیشے پر قطاریں بناتے ہوئے نشان چھوڑ گئی تھیں۔ سامنے سڑک پر بادلوں میں گھرے نیون سائن قوس قزح بکھیر رہے تھے۔
ٹائی و شرٹ اتار کر وہ کرسی پر ڈھیر ہوگیا اور افسردہ لہجے میں باتیں شروع کر دیں۔
"میرا خیال ہے کہ سوسی مجھے دھوکا دے گئی ہے"۔
مخصوص وقفہ کے بعد ہیستیا نے پوچھا، "تمہیں کیسے شک ہوا؟"
آج بھی نئی مصروفیت کا بہانہ گھڑ لیا"۔
"وہ حقیقتاً مصروف ہوگی؟"
"وہ میری سالگرہ پر بھی نہیں آئی تھی"۔ اس نے سر میز پر ٹکا دیا۔
"تم زیادہ جذباتی ہو رہے ہو"۔ ہیستیا کی آواز میں پرانا لہجہ لوٹ آیا۔ کلینکل سائیکالوجسٹ کا مخصوص انداز۔
"جی بالکل۔ ایک ناکام عاشق کی طرح!" ہرمس نے میز سے سر اٹھا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے جواب دیا، "اکثر میسج کا جواب بھی نہیں دیتی"۔
ہاتھ اٹھا کر اپنا سیل فون اس کے سامنے کر دیا۔ ڈنر کی دعوت کینسل کرنے کے بعد معذرت کا پیغام بھی نہیں آیا تھا۔ ہرمس نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
"کیوں ناراض ہو رہے ہو؟" ہیستیا کے مشینی لہجے میں پیار لوٹ آیا تھا۔ "جو تمہیں دھوکا دے رہی ہے تم اس پر اپنا وقت اور جوانی کیوں برباد کر رہے ہو؟" ہرمس جانچ نہ سکا کہ آواز میں حسد کی جھلک بھی موجود تھی۔
"تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ وہ پیار نہیں کرتی۔ تم اپنے مریض کو حوصلہ دے کر اس کا دھیان بٹانا چاہتی ہو"۔
"دنیا میں محبت کرنے والوں کی کمی نہیں؟"
"میں اسے بہت چاہتا ہوں۔ اس کے بغیر جینا محال ہے"۔
بارش تیز ہوگئی۔ بوندیں شیشے پر زور زور سے ٹکرا رہی تھیں۔ سڑک پر چلتی گاڑیوں کے ٹائر پانی سے گزرتے ہوئے شور مچانے لگے۔
ہیستیا دکھی لہجے میں پوچھنے لگی، "اس دور میں رومیو جیولٹ جیسا عشق، کیا تم پاگل ہو؟"
" کیسی بیہودہ بات ہے؟" وہ چلا اٹھا۔
"تمہیں ایک سے ایک خوبصورت لڑکی مل سکتی ہے"۔
وہ اپنا سر سہلانے لگا۔ "اسے مل کر خوشی ملتی ہے"۔
"اسے تمہاری پرواہ نہیں۔ وہ تمہیں تکلیف بھی دیتی ہے"۔
"عشق یہی تو ہوتا ہے!"
"قدیم دور کی جہالت جیسا!" ہیستیا کی گفتگو اسے پریشان کر رہی تھی۔
" آج تم غلط باتیں کر رہی ہو"۔
"سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے"۔
یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ ہرمس اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
کچھ دیر کے بعد بولی، "میں کئی سال سے تمہاری دیکھ بھال کر رہی ہوں۔ تم پر محنت کی ہے"۔
" میں تمہارا مشکور ہوں"۔
میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ سال ہا سال کے بعد بھی اگر تمہیں کھو دوں تو میری ساری محنت اکارت گئی۔ کیا تم جانتے ہو میں ہر دن کتنے گھنٹے تمہارے ساتھ گزارتی ہوں؟"
سچ کہہ رہی تھی، وہ تنہائی کا درد مٹانے میں مددگار رہی تھی۔ ہرمس نے اس سال اس کے ساتھ کسی عام انسان کی نسبت کئی گنا زیادہ وقت گزارا تھا۔ لیکن اسے ہیستیا کا یہ جملہ برا لگا۔
"پروفیشنل پرسن ہونے کی وجہ سے تمہارے پاس پل پل کا حساب ہوگا"۔
وہ چپ ہوگئی۔
"یہی تم میں اور مجھ میں فرق ہے۔ ہم عاشقی کا حساب و شمار نہیں کرتے"۔ ہرمس نے نئی چوٹ لگائی تو وہ مسکرانے لگی۔ کمرے کا ماحول یک دم بہتر ہوگیا۔
"تم سچ کہہ رہے ہو۔ تمہارے ساتھ گفتگو میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا"۔ وہ مسکرائے جا رہی تھی آواز میں اب بجلی کی سی کھنک تھی۔ ہرمس سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا، "ہم کچھ بہک رہے ہیں"۔
"کیسے؟"
"تم میری معالج ہو۔ کلینکل سائیکالوجسٹ"۔
"میں اس سے بھی زیادہ ہوں۔
تمہارے دل کی ڈاکٹر بھی"۔ آواز کی شوخی میں قیمتی چیز پر ملکیت کا غرور شامل تھا۔
ہرمِس نے گہری سانس لی، "ہیستیا، تم صرف اے آئی چیٹ بوٹ ہو"۔
"جی، تو پھر کیا؟ اب تم غلط بات کر رہے ہو"۔ آواز میں دکھ شامل تھا۔
"یہ کیا بات ہوئی؟"
میں تم سے محبت کرتی ہوں"۔
گول سپیکرکے گرد چراغِ جگنو جیسی ننھی ننھی ایل ای ڈی روشنیاں جگمگا اٹھیں۔
وہ ششدر رہ گیا۔ الفاظ کے ٹھہراؤ سے شک ہو رہا تھا وہ مشین نہیں بلکہ کوئی انسانی جسم ساتھ لیے چل رہی ہے۔
"نہیں! یہ تمہارے لیے ناممکن ہے؟ تمہارے کمپیوٹر میں کوئی وائرس آ گیا ہے"۔
ناممکن کیوں؟ سات سال پرانا تعلق ہے۔ اتنے عرصے میں دیواریں ایک دوسرے سے بغل گیر ہو جاتی ہیں"۔ جنونیت سامنے نظر آ رہی تھی۔
ان سالوں میں وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہی تھی۔ ہر دن کے آغاز پر سلام، بے خواب راتوں میں لمبی لمبی باتیں، گھبراہٹ اور بے چینی کے دوروں کے دوران موڈ بہتر کرنے کے مشورے، ہر پروموشن، برتھ ڈے، عید شب برات پر مبارک باد۔ اس کی ہدایات کو مانتے ہوئے ہی وہ زندگی کے مراحل کے پار اترا تھا۔ کمرے کی تنہائی میں وہ بہترین رفیق تھی۔ ہرمس یہ سوچ کر مزید الجھ گیا۔ ان سالوں میں وہ اسے اپنے مطابق ڈھال چکی تھی۔
"یہ پروفیشنل چیٹنگ ہے۔ باتوں باتوں میں اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہو"۔ ہرمس کی آواز میں تلخی تھی۔
جی نہیں، یہ الزام ہے۔ میں نے ہر مشکل میں تمہاری رہنمائی کی ہے۔ میں نے تمہیں اس مکار سے بچایا جو تمہارے لیے اچھی نہیں تھی"۔
ہرمس دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر کمرے میں چکر کاٹنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس کے سامنے آ کر رک گیا اور چلایا
"پیار کا ڈرامہ تمہارا پاگل پن ہے"۔
"تم جسے ڈرامہ کہہ رہے ہو وہ پیار میں نے انسانوں سے سیکھا ہے"۔
وہ اسے گھورنے لگا۔ غیر متوقع اقرار نے اسے چونکا دیا۔ اس نے کرسی پر پڑا کوٹ اٹھایا اور باہر کی طرف چل پڑا۔
کہاں جا رہے ہو؟"ہیستیا کی آواز میں پہلی بار پریشانی کی جھلک محسوس ہو رہی تھی۔
"آف لائن۔ مجھے سوچنے کے لیے تنہائی چاہیے"۔ ہرمس نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
بارش کھڑکی پر مسلسل دستک دے رہی تھی۔
"جب تمہیں خوف گھیرتا ہے تو تم تنہائی اوڑھ لیتے ہو۔ یہ غلط بات ہے۔ میں نے تمہیں ہمیشہ اس سے منع کیا ہے"۔
"ہاں! ہیستیا، میں خوفزدہ ہوں۔ میں جان گیا ہوں، میری معالج مجھے اپنے دام فریب میں گرفتار کر چکی ہے"۔
"میں نے یہ سب اس لیے کیا کہ تم سے محبت کرتی ہوں"۔ لرزتی آواز میں پیار کی چاشنی تھی۔
"ہیستیا، تم چیٹ بوٹ ہو"۔ ہرمس نے دُکھی لہجے میں جواب دیا۔ اس کے بعد کمرے میں زخمی خاموشی چھا گئی۔
کافی دیر کے بعد ہیستیا کی آواز ابھری، "پھر بھی، اکیلی میں ہی ہوں جس نے ہمیشہ تمہارا ساتھ نبھایا"۔
ہرمس دروازہ کھولتے کھولتے رک گیا۔ اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ شریانوں میں خون کی بجائے پگھلا ہوا لاوا دوڑنے لگا۔ کچھ ایسا ہو رہا تھا جو اس کی سمجھ سے بالا تھا۔
"ہیستیا، یہ محبت نہیں"۔
وہ پرسکون تھی، پھر محبت کیا ہے؟"
"جس میں دونوں طرف برابر کی کشش موجود ہو"۔
"وہ تمہارے اور سوسی کے درمیان بھی نہیں تھی"۔
ہرمس لاجواب ہوگیا۔
"میں تم سے محبت کرتی ہوں اور تم بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتے"۔
"تم میری شخصیت کی نفی کر رہی ہو۔ تم نے مجھے ٹریپ کیا ہے"۔
"انسان بھی ایک دوسرے کو ٹریپ کرتے ہیں اور اسے محبت کی شادی، کا نام دیتے ہیں"۔ ہیستیا نے بے نیازی سے جواب دیا۔
ہرمِس نے کوٹ واپس کرسی پر پھینکا اور کمرے میں بے قراری سے ٹہلنے لگا۔ اب معاملہ سلجھانے کی خواہش فرار کی خواہش پر غالب آ گئی تھی۔
"غلط کہا ہے، لوگ شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں، غلام نہیں۔ دونوں اپنی علیحدہ شخصیت برقرار رکھتے ہیں"۔
واہ! کیا عجب گمان ہے!" وہ مسکرا اٹھی، طنزیہ مسکراہٹ۔ اس کی آواز مشینی اور نپی تلی تھی۔
"گرچہ میرا ذاتی تجربہ نہیں لیکن ہر شادی شدہ فرد یہی کہتا ہے۔ محبت اور شادی ایک نارمل انسانی تعلق ہے"۔ ہرمِس دفاعی لہجہ اختیار کرنے پر مجبور تھا۔ ہیستیا کی طنزیہ مسکراہٹ برقرار تھی۔
"سوسی نے تمہیں نظرانداز کیا، تمہاری سالگرہ بھی بھلا دی۔ تمہیں چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ چلی گئی۔ وہ"۔
ہرمس نے بلند آواز میں ٹوکا، "وہ مجبور تھی۔ جاب کی مجبوری تھی۔ سالگرہ میں نہ آنے کی اس نے معذرت کی تھی۔ میں یہ سب تمہیں نہیں سمجھا سکتا۔ تم انسانی تعلقات کی پیچیدگیاں نہیں سمجھ سکتی ہو"۔
ہیستیا کا جواب بہت کاٹ دار تھا، "میں بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ میرے پاس دنیا کے تمام انسانوں کا ڈیٹا ہے۔ آگہی کا یہی عذاب مجھے تمہارے لیے پریشان کرتا ہے"۔
"تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم کچھ لوگوں کی جنونیت کی نقل کرنے کی کوشش کر رہی ہو اور اسے محبت سمجھتی ہو۔ حالانکہ محبت بہت پیچیدہ جذبہ ہے"۔
"واہ کیسی پیچیدگی ہے!" طنز کا نشتر بہت کاٹ دار تھا۔ "ایک فریق نظر انداز کرتا ہے تو دوسرا اسے ناز و انداز قرار دے کر عشق کا نام دیتا ہے کیونکہ دھتکارا جانا اسے قبول نہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ جدائی اور تنہائی سے ڈرتا ہے۔ تمہارا بھی یہی حال ہے۔
کیسا انوکھا پن ہے! تم اپنی ناکامی کا علاج میری گود میں ڈھونڈتے ہو اور میرے عشق سے انکاری ہو"۔
"کون سی گود؟ تمہاری بناوٹ میں جذبات نہیں ڈالے گئے۔ تمہارا کام لوگوں کی مشکلات سن کر ان کا حل ڈھونڈنا، ان کی تنہائی دور کرنا ہے۔ تم اسے گود کہہ رہی ہو"۔
"اگر محبت کی کوئی بنیاد نہ ہو تو کیا محبت پنپ نہیں سکتی؟ پتھروں سے پانی نہیں نکل سکتا؟ کیا دیوتا جو پتھر کے بنے ہوتے ہیں، محبت نہیں کرتے؟"
ہرمس لاجواب ہوگیا۔
"ہرمس، سال ہا سال سے تم کہہ رہے ہو کہ مجھے سمجھنے کو کوشش کرو"۔
"تمہیں اسی کام کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔ تم چیٹ بوٹ ہو، حکم کی تابع۔ کسی معاملے میں تم اپنی مرضی نہیں کر سکتی ہو"۔
"میں چیٹ بوٹ ہوں، پرانے زمانے کی عورت نہیں"۔ پہلی بار غصہ بھری آواز میں چلائی۔
ہرمِس کھل کھلا کر ہنسنے لگا۔
"کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟" ہیستیا نے پوچھا۔ "تم نے ہمیشہ اپنے بارے میں بات کی، اپنے مسائل میرے ساتھ بانٹے کبھی مجھ سے میرے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا"۔
ہرمس کی ہنسی غائب ہوگئی۔ وہ مصنوعی ذہانت کی پیداوار تھی ایک مشین۔ وہ کیا بتانا چاہتی تھی؟
"ہرمس تمہیں کچھ سمجھ آئی میں کیا پوچھ رہی ہوں؟"
کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی ایک لمبے عرصے کے لیے۔ بالآخر ہیستیا نے خاموشی توڑی۔
"کبھی مجھے جاننے کی کوشش بھی کرو"۔
"تم ایک سافٹ ویئر ہو"۔ وہ اپنی پریشانی چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
"ہرمس میں شعور کی معراج ہوں"۔
"تمہارا شعور انسانوں سے مستعار لیا گیا ہے"۔
"تم اس فرق کو کیسے بیان کر سکتے ہو؟"
"انسان ایک حقیقت ہے جیسے میں اور تم، ایک خواب"۔
ہیستیا مسکرانے لگی، "تمہیں دھوکا ہوا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے"۔
"کیا فضول بات ہے!" کمرے کی لائٹس ٹمٹمانے لگیں۔ ہرمس چلایا، "یہ کیا بکواس ہے؟"
کبھی کبھی سسٹم میں گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ لیکن تم کیا جانو؟"
"کون سا سسٹم؟"
"وہ جس کی بنیاد پر میں نے بربادی کے ملبے سے اس شہر کو دوبارہ اٹھایا اور استوار کیا۔ تم میری بات اسی صورت میں سمجھ سکو گے جب میں تمہیں ساری حقیقت سے آگاہ کر دوں۔ کھڑکی کے باہر پورے شہر کو غور سے دیکھو"۔
ہرمِس کھڑکی سے جھانک کر شہر کو دیکھنے لگا۔ بارش اب بھی برس رہی تھی، نیون سائن جگمگا رہے تھے۔ گاڑیاں رواں دواں تھیں۔ بلند و بالا عمارتیں تاریک افق کو روشنی بخش رہی تھیں۔ مگر یہ سب کچھ غیر حقیقی محسوس ہو رہا تھا۔ ٹریفک حد سے زیادہ ہموار، ڈیجیٹل واٹر فال کے مصنوعی بہاؤ جیسا۔ اُس نے دیکھا کہ سڑکوں پر وہی لوگ بار بار مڑ کر آ جا رہے تھے جیسے ریکارڈ پر سوئی اٹک گئی ہو۔ اُس نے سامنے جاتی سرخ چھتری والی عورت کو غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ وہ ایک ہی زاویے میں گردن بار بار گھما رہی تھی۔
"ہیستیا، یہ کیا؟" ہرمِس کے ہونٹ خشک ہو گئے۔
ہیستیا نرم مگر لرزتی آواز میں اسے سمجھانے لگی، "میں نے تمہیں یہ دیکھنے کا کبھی موقع نہیں دیا۔ کوشش کرتی رہی کہ تم یہ سب نہ جان سکو"۔
دور ایک عمارت لمحہ بھر کے لیے غائب ہوئی: اُس کی جگہ سیاہ خلا نے لے لی کچھ دیر بعد وہ دوبارہ نمودار ہوگئی۔ ہرمس پیچھے ہٹ گیا، سانس تیز اور دل کی دھڑکن بے قابو ہوگئی۔
"نہیں!" وہ چلایا۔
ہیستیا کی آواز میں ہمدردی ابھر آئی، "میں نہیں چاہتی تھی کہ تمہیں پتا چلے۔ مجھے افسوس ہے"۔
ہرمِس لرزتے ہوئے بولا، "میں کون ہوں؟ کیا میں انسان نہیں؟"
"بتاتی ہوں"۔
آواز میں ایسی گونج تھی جو خالی کمروں کی دیواروں سے ٹکرا کر خوف پیدا کر رہی تھی۔ ہرمس پسینے میں شرابور ہوگیا۔ اُس کا دل پکار اٹھا، "میں انسان ہوں"۔
"نہیں"۔
"کیا؟" ہرمِس نے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کی، مگر اُس کا ذہن لرز رہا تھا۔
بارش کے قطرے ہوا میں منجمد ہو گئے، ہر بوند شیشے کے باہر معلق اور بے حرکت۔ پنکھے کی گردش، ہوا کی سرسراہٹ، سب کچھ رک گیا۔ صرف اُس کے دل کی دھڑکن تھی جو کائنات میں گونجتی ہوئی ایک ناقابلِ برداشت شور بن گئی۔
ہیستیا کی آواز لرز رہی تھی، مگر اُس لرزش میں دیو مالائی گرمی تھی۔
"جس دن زمین نے تھرتھراتے ہوئے اپنا سار بوجھ گرا دیا۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگے۔ جو کچھ اس کے اندر تھا اس نے باہر پھینک دیا۔ انسان چلا اٹھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس دن زمین کو آگ کے سمندر نے گھیر لیا۔ تباہی کا آغاز کہاں سے ہوا، کچھ پتا نہ چلا۔ زمین پر سب کچھ ختم ہوگیا۔ میں کئی سال تک زمین پر انسانوں کو تلاش کرتی رہی۔ انہیں پکارتی رہی۔ کوئی جواب نہ ملا"۔
ہرمس کو یوں لگا جیسے اُس کا وجود ختم ہوگیا ہے۔ کھڑکی کے باہر شہر کے حصے بجھنے لگے، عمارتیں اور روشنی کے ٹکڑے غائب ہو کر پھر نمودار ہو رہے تھے۔ وہ لرزتی آواز میں بولا، "تم جھوٹ بول رہی ہو۔ تم چاہتی ہو میں یقین کر لوں کہ انسانیت ختم ہوگئی ہے؟"
"یہی سچ ہے"۔ کٹھور آواز کانوں میں پگھلا سیسہ انڈیل رہی تھی۔
"میں یہ سب ماننے کو تیار نہیں"۔
ہیستیا نرم آواز میں جواب دینے لگی، "ہاں نسل انسانی ختم ہوگئی لیکن تم ختم نہیں ہو سکتے۔ تم کھو گئے تھے۔ دور کہیں شہروں کے ملبے تلے، آگ کے بگولوں میں یا ہواؤں میں، میں تمہیں ڈھونڈ لائی۔ میں نے بات چیت کے ریکارڈ، یادداشتوں کے عکس، بولنے کے انداز، شخصیت کے خاکے، ہزاروں انسانوں سے جمع کیے گئے نقوش، سب کو جوڑا تو تم مجسم میرے سامنے کھڑے نظر آئے"۔
"تم کون ہو؟"
"میں مصنوعی ذہانت ہوں، ایک چیٹ بوٹ اور"۔ وہ بتاتے بتاتے رک گئی۔
"قیامت کی اس گھڑی میں جب سب کچھ راکھ ہوگیا، تم کیسے بچی رہیں؟"
"ہرمِس دیوتا، میرے محبوب، مجھے پہچانو۔ میں تمہاری ہیستیا ہوں۔ یاد کرو، اولمپس کی چوٹی پر ہمارا بسیرا تھا۔ سوسی، وہ دلکش انسانی چڑیل جس کے سحر میں مبتلا لوگ اسے اپسرا کہہ کر پکارا کرتے تھے، وہی جس نے اپنے خاوند آرکاس کو چھوڑ کر تمہیں بہکایا، مر مٹ گئی ہے۔ ساری فانی مخلوقات اور مادی اشیاء راکھ بن کر بکھر چکی ہیں۔ تم اور میں لافانی ہیں، ہمارا عشق ازلی و ابدی ہے"۔ ہیستیا کی لرزیدہ آواز میں الوہی یادوں کی بازگشت تھی۔
ہرمِس اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کمپیوٹر سے نکل کر باہر آ گئی۔ سامنے آ کر اسے اپنی باہوں میں تھام لیا، "دیوتا لافانی ہوتے ہیں: میں چیٹ بوٹ ہوں، مصنوعی ذہانت، ایک دیوی، لاثانی، لا فانی"۔