1. ہوم
  2. سید محمد زاہد
  3. صفحہ 1

مرگِ خود رحمی

سید محمد زاہد

وہ بڑی مشکل سے بیڈ سے وہیل چئیر پر منتقل ہوا۔ کھڑکی کے پاس آ کر پردہ ہٹایا اور مشرق کی طرف دیکھنے لگا۔ کھانسی مسلسل جاری تھی۔ ایک بجھی ہوئی نگاہ رات کی تیرگی پر

مزید »

سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن

سید محمد زاہد

اسے یقین تھا کہ یہ چٹان اس کے حسین تصورات کا روپ دھارے گی۔ سرمئی دھنک اور سپیدی سے ابھرتی باریک سیاہ لکیروں میں خلط ملط شبیہ ظہور پذیر ہونے کو ترس رہی تھی۔ اس ک

مزید »

بھوری مٹیالی آنکھیں

سید محمد زاہد

شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔ "ذرا مسکراؤ! " فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔

مزید »

شیر خوار

سید محمد زاہد

وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہ

مزید »

غزہ کے بچوں کے نام

سید محمد زاہد

دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جات

مزید »