سید محمد زاہد21 اگست 2025افسانہ365
آمن حو تپ، فرعون بیمار پڑا تو خشک سالی اور قحط نے بھی تامرا، (سیلابوں کا ملک۔ مصر) پر ڈیرے جما لیے۔ اس سال بارش ہوئی اور نہ ہی نیل کی طغیانی نے صحراؤں کو سیراب
مزید »سید محمد زاہد05 اگست 2025افسانہ1123
وہ بڑی مشکل سے بیڈ سے وہیل چئیر پر منتقل ہوا۔ کھڑکی کے پاس آ کر پردہ ہٹایا اور مشرق کی طرف دیکھنے لگا۔ کھانسی مسلسل جاری تھی۔ ایک بجھی ہوئی نگاہ رات کی تیرگی پر
مزید »سید محمد زاہد09 جولائی 2025افسانہ2156
اسے یقین تھا کہ یہ چٹان اس کے حسین تصورات کا روپ دھارے گی۔ سرمئی دھنک اور سپیدی سے ابھرتی باریک سیاہ لکیروں میں خلط ملط شبیہ ظہور پذیر ہونے کو ترس رہی تھی۔ اس ک
مزید »سید محمد زاہد29 مئی 2025افسانہ1208
شام ڈھلنے لگی تو اورینٹل کالج سے باہر نکل آیا۔ چند قدم چلنے کے بعد دائیں طرف مڑ گیا۔ کالج کی دیو مالائی عمارت داہنے ہاتھ پر تھی۔ رک کر اس مادر علمی کو آخری بار
مزید »سید محمد زاہد17 مئی 2025افسانہ1174
جہلم ندی کی موجیں انہیں جھولے جھلا رہی تھیں۔ لائف جیکٹس سے کبھی ہوا نکال کر گہرے پانی میں غوطہ زن ہو جاتے اور کبھی منہ سے پھلا کر ندی کے اندر دور تک چلے جاتے۔ ک
مزید »سید محمد زاہد14 مئی 2025افسانہ1171
شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔
"ذرا مسکراؤ! "
فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔
مزید »سید محمد زاہد01 مئی 2025افسانہ12175
"ورجل یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ دوزخ کے نو گڑھے ہیں"۔
"ہاں! بیسویں صدی تک نو ہی تھے لیکن اب دوزخ کو بڑا کیا جا رہا ہے"۔
"وہ کیوں؟"
"یہاں ا
مزید »سید محمد زاہد07 اپریل 2025غزل0192
ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے
اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے
کمر کی یہ وادیاں، س
مزید »سید محمد زاہد21 مارچ 2025افسانہ1160
وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہ
مزید »سید محمد زاہد14 مارچ 2025افسانہ6152
دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جات
مزید »