سید محمد زاہد30 جون 2026افسانہ068
"اس کا کہنا تھا کہ وہ نِربدا کی نیل دھار کے سنگ بہتی آئی تھی: پون کے دوش پر لہراتی نربدا تٹ پر اتری تھی۔ ورش بیت گئے، اب وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ روزانہ رات تٹ ک
مزید »سید محمد زاہد11 جون 2026افسانہ0112
"خوش آمدید، ہرمِس، آج رات کیسا محسوس کر رہے ہو؟"
وہ کمرے میں داخل ہوا تو ہیستیا کی آواز کانوں میں رس گھولنے لگی۔ آواز میں ایک ہلکا سا ارتعاش تھا۔ ہمیشہ سے موجو
مزید »سید محمد زاہد05 مئی 2026افسانہ0130
دیارِ غیر میں تم جیسا دوست مل جانا نعمت غیر مترقبہ تھی۔ پہلا بَیج جس کو ایف سولہ کی ٹریننگ کے لیے ہل ائیر فورس بیس اوتاہ بھیجا گیا اس میں جنید کا نام شامل تھا ا
مزید »سید محمد زاہد10 اپریل 2026افسانہ0139
احمد، رات بیت گئی۔ پچھلے پہر کی آہٹ کے ساتھ ہی خوشبو سے منور ایک اور رات بیت گئی۔ تمہاری وجہ سے کالی ہو یا چاندنی سے سجی رات، بدن سے پھوٹتی روشنی سے منور ہوتی ر
مزید »سید محمد زاہد05 اپریل 2026افسانہ0162
رونا تو خود بخود آتا ہے لیکن جب کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو جنازہ اٹھنے تک اتنے آنسو بہہ جاتے ہیں کہ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے کہ ماتم اور نوح
مزید »سید محمد زاہد02 اپریل 2026غزل0168
نکہت سحر شبنم کی ہے، نہ صبا کی ہے شب وصل میں بکھری تیری قبا کی ہے
چال کا اتھلا ڈھنگ، پاؤں کا لال رنگ اک اک ادا پہ ہم نے زندگی فنا کی ہے
برق کوندھی رگ رگ میں،
مزید »سید محمد زاہد22 مارچ 2026افسانہ0159
"لاؤ، معاہدہ دکھاؤ تم کوئی الٹی چال تو نہیں چل رہے؟"
گندھک کے غبار میں لپٹا چیلا سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے پر سمیٹتے ہوئے سنہری چمکدار کاغذات پر سرخ سیاہی سے لکھ
مزید »سید محمد زاہد08 مارچ 2026افسانہ0171
میری پیاری نبیلہ
آدھی رات بیت چکی ہے اور ساری باقی ہے۔ کئی مرتبہ لکھنے کی کوشش کی پھر مٹا دیتا ہوں۔
جانتا ہوں کہ کیا لکھنا ہے لیکن جو بھی لکھتا ہوں سچ سے بہت
مزید »سید محمد زاہد27 جنوری 2026نظم17197
مورتیوں کے حسن کی تپش سے جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے
دیویوں کے تن بدن سے۔ معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں
مردانہ وجاہت کے سوتے دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے
مزید »سید محمد زاہد16 جنوری 2026افسانہ1185
وہ برکانی شیشے اور آتش فشانی انگاروں سے بنے تخت پر بیٹھا خنجر کی نوک سے ناخنوں میں الجھی راکھ صاف کر رہا تھا۔ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ نہ سوجھا تو اسی خنجر
مزید »