آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔
مهک کو پچپن کے وہ دن یاد آ رہے تھے جب دادا ابو کی انگلی پکڑ کر پنجابی زبان کے عظیم شاعر پیر وارث شاہ کے میلے میں جایا کرتی تھی۔ وه هیر کے حافظ تھے۔ بہت سریلی آواز میں پڑھتے اور سننے کے بھی شائق تھے۔ دادا ابو تو مقابلہ هیر گائیکی میں شامل ہوجاتے اور وہ دوسرے بچوں کے ساتھ میلہ دیکھنے نکل جاتی۔ سرکس میں موجود فنکاروں اور جانوروں کے کرتب دیکھ کر حیران ہوا کرتی۔ موت کے کنویں میں ناچنے والیاں اس کو بہت بھاتی تھیں۔ ان کا میک اپ، قہقہے، ناچ گانے کے ساتھ موٹر سائیکل اور کار کے کرتب اس کا دل موہ لیتے تھے۔
مهک کو عرس کی یاد بھی آ رہی تھی اور گھر کی بھی۔
چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب وہ شام ڈھلے گھر کے دروازے سے واپس مڑ آئی تھی۔ ساری رات ہاسٹل کے کمرے میں پڑی واپس جانے کی ہمت جمع کرتی رہی۔
وہ امام جعفر صادق کی نیاز تیار کرنے والی رات تھی۔ سر شام ہی رسوئی کی صفائی شروع ہو جاتی۔ کچن کو یوں پاک کیا جاتا جیسے مومنین و مومنات کی سجدہ گاہ ہو۔ اب رسوئی کے چوکے پر صرف پاک صاف لوگ ہی پاؤں رکھیں گے۔ چولہے میں نئی کاٹی گئی لکڑیاں جلائی جائیں گی۔ اوپلے نکال کر دور پھینک دئیے جائیں گے۔ ایسی راتوں میں درود و سلام اور معجزہ امام جعفر صادق پڑھنے کے بعد بچے بڑے سب کام میں جت جاتے۔ کھیر پکانا، حلوہ تیار کرنا، کورے کونڈے بھرنا، پوڑیوں کے لیے میدہ تیار کرنا: ساری رات کام جاری رہتا۔ بچپن میں تو وہ جانے کب نیند کی گود میں گر کر خوابوں میں کھو جاتی لیکن اب ساری رات عجز و عقیدت کے ساتھ سپیدہ سحر طلوع ہونے کا انتظار کیا جاتا۔ پچھلے سال تک وہ اس محفل کی زیب و زینت تھی۔
رات بھر ہنگامہ ارادت و اخلاص اس کی آنکھوں کے سامنے مچلتا رہا۔ فجر کی اذان کے بعد وہ صبر نہ کرسکی اور دوبارہ گھر کے دروازے پرپہنچ گئی۔
ختم پاک کی تلاوت جاری تھی وہ سر جھکائے فیض یاب ہوتی رہی۔ درود بر محمدﷺ و آل محمدﷺ کی رسیلی آواز کانوں میں پڑی تو وہ بھی بلند آواز کے ساتھ اس میں شامل ہوگئی۔ کچھ دیر بعد گھر میں خاموشی چھا گئی لیکن اس کی خوش الحانی پر کوئی فرق نہ پڑا۔
دروازہ کھلا تو وہ اندر پہنچ گئی۔
بھائی سامنے کھڑا تھا۔ امی رسوئی کے چوکے پر بیٹھی تھیں اور بچے ان کے اردگرد بچھی دری پر ختم کے کونڈوں کے پاس جمع تھے۔ اس کی بہنیں اور چاچی پوڑیاں تل رہی تھیں۔ بڑے ابو اور ابو ساتھ پڑی پیڑھیوں پر تشریف فرما تھے۔ اسے دیکھ کر پورے گھر میں پرآشوب سناٹا چھا گیا۔ بڑے ابو کے ساتھ والی پیڑھی خالی تھی۔ یہی اس کی جگہ تھی۔ دادا ہمیشہ اسے اپنے پاس بٹھا کر کھلایا کرتے تھے۔ ان کے سامنے پڑی میز پر کھیر کا کونڈا موجود تھا جس سے انہوں نے کھیر نکال کر اپنی پلیٹ میں ڈال رکھی تھی۔
نیاز کی کھیر بڑے ابو کو بہت پسند تھی۔ جب بھی انہیں کھیر دی جاتی تو وہ هیر اور سہتی کا مکالمہ پڑھنا شروع کر دیتے۔
سہتی کھنڈ ملائی دا تھال بھریا، چائی کپڑے وچّ لکایا ای
اتے پنج روپئے سو روک رکھے، جائی فقر تھے پھیرڑا پایا ای
کپتی سہتی رانجھے کو دنیا دار، کمینہ، جھوٹا جوگی سمجھتی ہے۔ وہ اس کو آزمانا چاہتی ہے۔ کھنڈ ملائی، کا تھال اور پانچ روپے کپڑے تلے چھپا کر اسے نذر کرتی ہے اور پوچھتی ہے کہ بتاؤ میں کیا لائی ہوں؟
رانجھا اسے سمجھاتا ہے کہ کسی پیر فقیر سے کرامت کا سوال کرنا غلط ہے کیونکہ معجزے یا کرامت کے بعد حجت تمام ہوجاتی ہے اور پھر منکرین پر اللہ کا قہر کسی وقت بھی نازل ہو سکتا ہے۔
کرامات ہے قہر دا نانؤ رنے، کیہا گتھیو آن وسوریا ای۔
سہتی کا شک دور نہیں ہوتا۔ رانجھا اسے بتاتا ہے کہ کھنڈ چاول، کا تھال ہے اور اس کے اوپر پانچ پیسے نذر کیے گئے ہیں۔ سہتی وسوسے میں پڑ جاتی ہے۔ رانجھا کہتا ہے کہ دل سے شک کو دور کرو اور کھول کر دیکھو جو فقیر نے کہہ دیا، وہی ہے۔ کھنڈ ملائی، کھیر میں بدل جاتی ہے اور روپے پیسوں میں"۔
یہ وہی کھنڈ، کھیر، مکھن تھا جو هیر رانجھے کو کھلانے بیلے میں لایا کرتی تھی۔
جب بھی گھر میں کھیر پکتی تو بڑے ابو نیازِ امام جعفر اور کرامتِ رانجھا جوگی کہہ کر پہلا چمچ اس کے منہ میں ڈالتے۔ ساتھ ہی پیار کرتے ہوئے کہتے، "میری سوهنی، من موہنی مورت، مولا کی دین اور پیر کی پروہنی هے، اس کا پیار میرا دین ایمان هے"۔
پہلا چمچ اس کا تھا، ہمیشہ سے۔ اس نے آگے بڑھ کر سر جھکا دیا۔ بڑے ابو نے سر پر پیار دیا اور ساتھ والی پیڑھی کی طرف دیکھا۔ وہ بیٹھنے لگی تو چچا نے حلوے کا کونڈا اٹھا کر اس پر رکھ دیا۔ بڑے ابو نے ادھر ادھر دیکھا اور کھیر کا ایک چمچ اٹھا کر اس کی طرف کیا۔
اسی وقت ماں کی غصیلی آواز نے اسے چونکا دیا۔
"دفع ہو جاؤ، تم یہاں کیوں آئی ہو؟"
بڑے ابو نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
اس کے چہرے پر دکھ و الم کی سرخی چھا گئی۔ آنکھوں سے آنسو امڈ آئے۔ چچا انتہائی غصے سے اسے گھور رہا تھا۔ قریب آ کر اس کا بازو پکڑ کر چلایا۔
"پتا نہیں کہاں کہاں منہ مارتی رہتی ہو؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ یہ پلید منہ لے کر امام کی بارگاہ پر آئی ہو"۔
بڑے ابو نے غصے سے چچا کی طرف دیکھا اور اٹھ کر کمرے میں چلے گئے۔ ابو کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ ان کی طرف بڑھی تو انہوں نے بھی منہ موڑ لیا۔
یہ سب لوگ تو اسے بہت پیار کرتے تھے۔ ساری خرابی تب پیدا ہوئی جب چچا کی بیٹی نے اس کے کالج میں داخلہ لیا اور اسے نیلم کی دوستی کے بارے میں پتا چلا۔ مہک خوش قسمت تھی کہ اس کی دوست نیلم، اس کی روم میٹ تھی اور کسی کو ان کے تعلقات کے بارے میں پتا نہیں چلتا تھا۔ مہک کزن کے آنے پر بہت خوش ہوئی تھی۔ داخلے میں اس کی مدد بھی کی۔ وہ کچھ دن اس کے کمرے میں رہی۔ اس کو شک ہوگیا اور پورے خاندان کو بھی بتا دیا۔
بات واضع تھی کہ اب اس کے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ سب کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کوئی بھی اس سے آنکھیں نہیں ملا رہا تھا۔ اس نے بھی اپنے دل پر پتھر رکھ لیا اور واپس چل پڑی۔ دروازے کے پاس پہنچ کر رکی، پھر فیصلہ کیا کہ مڑ کر نہیں دیکھنا اور باہر آ گئی۔
واپسی پر ساری باتیں اس کے سامنے گھوم رہی تھیں۔ چچا نے بہت گندا الزام لگایا تھا۔ وہ اس کی مخالفت میں اخلاقیات بھی بھول گیا تھا۔ اپنی اولاد کی بھی حیا نہیں کی۔ چچا کی بیٹی نے اس پر جھوٹے سچے الزامات لگا کر بدنام کر دیا تھا۔ ثثا کی بیٹی کو بھجی اس کی جسمانی کمزوری کا پتا تھا اور وہ ماڈرن کالج میں پڑھتی تھی۔ لیکن اس نے روائیتی پن دکھایا اور اسے بدنام کر دیا۔ مہک چاہتی تو جواب دے سکتی تھی۔ لیکن کیا فائدہ؟ ماں اور دادا ابو ساری عمر اس کی ہر بات مانتے رہے تھے۔ آج وہ بھی منہ موڑ گئے۔
امی کو اس کے مسائل کا پتا تھا۔ اس کی آس برقرار تھی کہ وہ سہارا بنیں گے۔ انہوں نے جو کیا وہ خاندان کا دباؤ تھا۔ پہلے اور اب میں فرق کیا تھا؟ وہ اب بھی اس سے محبت کرتے تھے۔ وہ پر امید تھی کہ یہ دھندلی صبح ایک خوشگوار دن میں ضرور ڈھلے گی۔
خیالات میں الجھی چلتی جارہی تھی اور سامنے سے آنے والی گاڑی کو نہ دیکھ سکی۔
***
آنکھ ہسپتال کے بیڈ پر کھلی۔ سینے اور ٹانگ میں شدید درد تھا۔ پاس کھڑی نرس کہہ رہی تھی خوش قسمت ہو کہ جان بچ گئی، گاڑی اوپر سے گزر گئی تھی۔ نرس گھر کا پتا پوچھ رہی تھی۔ کچھ جواب نہ دے پائی۔ ہلنے کی کوشش کی تو سینے میں خنجر گھس گیا۔ دائیں ٹانگ پر پلاسٹر لگا تھا اور دو پسلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔ درد کی شدت سے کراہتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ حادثے کا سن کر وہ ضرور آئیں گے۔
سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اس نے اپنا فون نرس کے حوالے کیا اور خاموشی سے لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ پکی نیند سو جانا چاہتی تھی، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
جب دوبارہ آنکھ کھلی تو سورج کی شعائیں کھڑکی سے اندر آ رہی تھیں۔ کسی نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ سرخ سکارف اوڑھے ساتھ والی کرسی پر اس کی دوست موجود تھی۔
"نیلم تم!
میرے گھر سے کوئی نہیں آیا؟"
پسلی کا کنارہ اندر گھس گیا۔ درد کی شدت سے چلا اٹھی۔ نیلم سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"مہک! تم اب ٹھیک ہو؟ کیا درد بہت زیادہ ہے؟"
وہ خاموشی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ پژمردگی چہرے پر چھا گئی۔
"امی"۔
"میں نے تمہاری امی کو فون کیا تھا۔ وہ حادثے کا سن کررو پڑیں۔۔
پھر کچھ دیر بعد بولیں کہ اچھا ہوا۔۔
وہ مر کیوں نہیں گئی؟"
پھر وہ بہت دیت تک روتی رہیں۔ میں نے ہمدردی دکھائی تو کہنے لگیں۔
"باپ تو پہلے دن ہی اسے مار دینا چاہتا تھا، میں ہی ہمت نہ کر سکی۔ دنیا کو تو دھوکا دے لیا لیکن قدرت کے دھارے کے آگے بند نہ باندھ سکی، اس کی جانی انجانی خواہشات کو زنجیر ڈالنے میں کامیاب نہ ہوئی۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایسی نامکمل لڑکیوں میں بھی یہ خواہشات جنم لے سکتی ہیں۔ کاش میرا دودھ زہریلا ہو جاتا اور وہ اسی دن مر جاتی"۔
مہک خاموشی سے سنتی رہی۔ سر اٹھا کر اسے دیکھا جیسے مزید کچھ پوچھنا چاہتی ہو۔ نیلم آہستہ سے بتانے لگی۔
"فون بند ہوگیا اور دوبارہ فون کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں ملا"۔
اس نے منہ تکیے میں چھپا لیا۔
"مجھے افسوس ہے کہ میری وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سب ہوا"۔ نیلم نے اسے گلے سے لگا لیا۔ وہ اس کے ساتھ جڑ گئی۔ نیلم سر سہلانے لگی۔
"وہم نہ کرو! میں تمہارے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہوں گی"۔
سینے کا درد یک دم ختم ہوگیا، چھ ماہ گزر گئے۔ نیلم اس کے ساتھ تھی۔ ٹانگ ٹھیک ہوگئی اور پسلیاں بھی۔ گھر والوں سے کئی بار رابطہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔
نیلم کہنے لگی "آج نو ساون ہے۔ هیر کی شادی اور وارث شاہ کے عرس کا دن۔ آؤ! میلے پر چلیں"۔
دونوں دربار مبارک پر پہنچ گئیں۔ صبح کا وقت تھا۔ ساری رات بارش برستی رہی۔ خوشگوار، ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ بھر پور میلہ سج چکا تھا۔ نیلم اس کا ہاتھ تھام کر دربار شریف پر لے آئی۔ سلام کیا اور تبرک لینے قطار میں لگ گئی۔ کھیر کا چھنا لے کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی
"یہ کھیر کھاؤ۔ ہیر کا بھتا، رانجھے کی کرامت اور وارث شاہ کا تبرک"۔
"دل نہیں چاہتا"۔
"میں تمہارے ساتھ ہوں۔ دکھ کس بات کا؟ خاندان والوں کو ہماری ضروریات، کا احساس نہیں تو ہمیں بھی ان کی پرواہ نہیں"۔
نیلم نے اسے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا۔
"سب کو بھول جاؤ"۔
"کیسے بھول جاؤں؟"
"وہ ہم جیسے نہیں۔ ہم خاص ہیں۔ میری سوهنی، من موہنی مورت، تو میرے مولا کی دین اور پیر کی پروہنی هے، تیرا پیار میرا دین ایمان هے"۔
وہ اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ نیلم نے اپنی بات جاری رکھی۔
"میری موہنی آؤ، اپنے جیسوں میں چلیں جہاں سب تمہیں گلے لگائیں گے۔ دنیا کے خوف سے آزاد ہو کر، تمہیں چاہیں گے، صرف تمہیں۔
جہاں وارث شاہ کے خوابوں جیسی آزاد دنیا بستی ہے"۔
ہاتھ تھاما اور موت کے کنویں میں خواجہ سراؤں کے گرو کے پاس لے آئی۔