جب دیواروں پر لکھے حروف سڑکوں پر بہتے لہو سے ہم کلام ہو جائیں اور ایک خاموش نسل اپنی زنجیریں توڑنے کا فیصلہ کر لے تو تاریخ کے ایوانوں میں زلزلہ آ جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں 2026 کے انتخابات محض اقتدار کی منتقلی نہیں ہے بلکہ اس "جنریشن زی" کا اعلانِ جنگ ہے جس نے اپنی مضبوط قوت ارادی سے دہائیوں پر محیط خوف کے بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی مٹی سے اٹھنے والی حالیہ سیاسی لہر محض اقتدار کی تبدیلی کا قصہ نہیں سناتی ہے بلکہ اس میں ایک ایسی قوم کی خودی کا اعلان چھپا ہے جس نے بالآخر کئی دہائیوں بعد جبر، خاموشی اور مصلحت پسندی کے دبیز پردوں کو ہٹانےکا ارادہ کر لیا ہے۔ 12 فروری 2026 کے انتخابات کے نتائج اس سیاسی حبس کا خاتمہ ثابت ہوئے جس نے شیخ حسینہ واجد کے طویل اور آہنی دورِ اقتدار میں عوامی سانسوں کو روک رکھا تھا۔
یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس کی جڑیں 2024 کے اس طالب علم دشمن کوٹہ مخالف احتجاج میں پیوست تھی جہاں نوجوانوں نے اپنی چھاتیوں پر گولیاں کھا کر یہ ثابت کیا تھا کہ ریاست جب ماں کا کردار چھوڑ کر ایک ضدی اور خودسر حاکم کا روپ دھار لے تو پھر نئی تقدیر لکھنے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑتا ہے۔ ان انتخابات کی سب سے بڑی وجہ وہ گھٹن تھی جس میں بولنے کی آزادی مفقود اور سیاسی مخالفت کو غداری قرار دے دیا گیا تھا۔ جب بی این پی کے طارق رحمان سترہ سالہ جلاوطنی کا دکھ کاٹ کر وطن واپس لوٹے اور جماعت اسلامی پر سے پابندی ہٹی تو بنگلہ دیشی عوام نے اسے صرف دو جماعتوں کی واپسی نہیں بلکہ اپنی گمشدہ جمہوریت کی واپسی تصور کیا۔
موجودہ انتخابات میں بی این پی کی دو تہائی اکثریت اور جماعت اسلامی کا ایک بڑی قوت کے طور پر ابھرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنگلہ دیشی معاشرہ اب تجربہ کاری اور نظریاتی شناخت کے ایک نئے امتزاج کی تلاش میں ہے۔ اس پورے عمل کا ایندھن نوجوان نسل تھی جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے آمریت کے پرخچے اڑا دیے۔ ان کے لیے یہ الیکشن صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں تھا بلکہ اپنی محرومیوں اور بوسیدہ نظام کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔
مثال کے طور پر جب ایک عام طالب علم نے ڈھاکہ کی سڑک پر ٹریفک کنٹرول کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ "ہم نے ملک صاف کرنا سیکھ لیا ہے اب ہم نظام صاف کریں گے" تو وہ دراصل اس وقت 2026 کے نتائج کا دیباچہ لکھ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے نئی نویلی "نیشنل سٹیزنز پارٹی" جیسی انقلابی مگر ناتجربہ کار جماعت کی بجائے بی این پی اور جماعت اسلامی کے تجربے پر بھروسہ کیا تاکہ وہ ملک کو استحکام دے سکیں۔ لبرل اقدار کی بات کرنے والے نوجوان طبقے نے جماعت اسلامی کو صرف اس لیے قبول کیا کہ اس نے خود کو ایک "کلین" اور "گڈ گورننس" کی حامل جماعت کے طور پر پیش کیا ہے۔
بی این پی کو حاصل ہونے والا بھاری مینڈیٹ اسے وہ طاقت دیتا ہے کہ وہ دستور سازی میں ایسی ترامیم کر سکے جو مستقبل میں کسی بھی آمرانہ سوچ کا راستہ روک سکیں۔ نئی حکومت کے لیے پہلا بڑا امتحان زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی کو دور کرنا اور مہنگائی کے طوفان کو روکنا ہے۔ طارق رحمان کو اب یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کا "بنگلہ دیش فرسٹ" کا نعرہ محض سیاسی شعبدہ بازی نہیں ہے۔ دوسرا سب سے بڑا چیلنج مذہبی ہم آہنگی کا پیدا کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کے اثر و رسوخ میں اضافے سے اقلیتوں بالخصوص ہندو برادری میں بے یقینی کی ایک لہر بھی پیدا ہوئی ہے اگر نئی حکومت نے عملی اقدامات سے ان کا تحفظ یقینی نہ بنایا تو یہ عوامی انقلاب اپنی اخلاقی ساکھ کھو سکتا ہے۔
علاقائی سطح پر بات کریں تو یہ نتائج ایشیا کے سیاسی نقشے میں ایک زلزلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شیخ حسینہ کی صورت میں اپنا معتمد اتحادی کھونے کے بعد بھارت کے لیے سب سے بڑا ڈراؤنا خواب یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک ایسی حکومت آ گئی ہے جس کا جھکاؤ روایتی طور پر پاکستان اور چین کی طرف رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ 1971 کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک نئے برادرانہ تعلق کا آغاز کرے۔ براہ راست پروازوں کی بحالی اور دفاعی تعاون کی باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب بھارت کے یک طرفہ غلبے سے نکل رہا ہے۔ چین اس ساری صورتحال میں سب سے خاموش مگر سب سے بڑا کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ اس نے نہ صرف معاشی سرمایہ کاری کے وعدے کیے ہیں بلکہ وہ بنگلہ دیش کو اپنے "بیلٹ اینڈ روڈ" منصوبے کا ایک اہم ستون بنانے کے لیے بھی تیار ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 2026 کے انتخابات محض ایک سیاسی جیت نہیں بلکہ ایک قومی روح کی بیداری ہے۔ یہ نتائج ان ماؤں کے آنسوؤں کا مداوا ہیں جن کے بیٹے احتجاج کی نذر ہوئے اور ان باپوں کی ہمت کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے لمبی قطاروں میں لگ کر ووٹ دیا۔ بنگلہ دیش اب ایک ایسے چوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے ایک راستہ حقیقی جمہوری خوشحالی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا پرانے انتقامی سیاست کے گڑھے کی طرف۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی قیادت ماضی کی انتقامی سیاست کے قبرستان سے باہر نکل کر ایک ایسی جمہوریت کی بنیاد رکھ پائے گی جہاں اختلافِ رائے کو غداری کے بجائے حسنِ نظام سمجھا جائے گا؟ اگر نئی قیادت نے انتقام کی بجائے تعمیرِ نو کا راستہ چنا تو پھر یقینی طور پر بنگلہ دیش نہ صرف ایشیا کا معاشی ٹائیگر بنے گا بلکہ جمہوریت کی ایک ایسی مثال بن کر ابھرے گا جو پوری دنیا کو یہ بتائے گی کہ جب عوام جاگتے ہیں تو تاریخ اپنا رخ بدل لیتی ہے۔ ورنہ تاریخ کا بے رحم پہیہ یاد دلاتا رہے گا کہ انقلاب لانا جتنا کٹھن ہے اسے سنبھالنا اس سے کہیں زیادہ جانگسل عمل ہے۔ بہرحال بنگلہ دیشی عوام نے بتا دیا ہے کہ وہ اپنی تقدیر کے فیصلے کسی غیر ملکی دارالحکومت میں نہیں بلکہ ڈھاکہ کے سبزہ زاروں میں کرنے کا ہنر سیکھ چکی ہے۔