1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. عصرِ حاضر کا خاموش المیہ اور حقائق

عصرِ حاضر کا خاموش المیہ اور حقائق

انسانی تاریخ کے طویل سفر میں شاید ہی کوئی دور ایسا گزرا ہو جس میں طاقت اور انصاف ایک ہی ترازو میں تولے گئے ہوں۔ آج اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے والے زمانے میں بھی دنیا کے مختلف خطوں سے اٹھنے والی آہیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ علم، ٹیکنالوجی اور ترقی کی بلند ترین عمارتوں کے سائے میں مظلومیت، استحصال اور ناانصافی کے اندھیرے اب بھی موجود ہیں۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وہ دنیا جو انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور عالمی انصاف کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے، اسی دنیا میں لاکھوں انسان جنگوں، بھوک، بے گھر ہونے اور سیاسی جبر کا شکار ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقتور سلطنتیں ہمیشہ اپنے مفادات کو عالمی اصولوں پر ترجیح دیتی رہی ہیں۔ قدیم سلطنتوں سے لے کر جدید عالمی طاقتوں تک، اکثر فیصلوں کے پس منظر میں اخلاقیات سے زیادہ سیاسی اور معاشی مفادات کارفرما رہے ہیں۔

آج بھی عالمی سیاست میں بعض طاقتور ممالک کی آواز کمزور ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تنازعات عالمی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں جبکہ بعض انسانی المیے برسوں تک نظرانداز رہتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار خود ایک تلخ حقیقت ہے جو عالمی نظام کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اسلامی دنیا خصوصاً گزشتہ ایک صدی سے غیرمعمولی سیاسی، معاشی اور عسکری دباؤ کا سامنا کرتی رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، وسائل پر کشمکش، بیرونی مداخلتیں، داخلی انتشار اور کمزور حکمرانی نے کئی ممالک کو عدم استحکام کا شکار بنایا۔ تاہم تمام مسائل کو صرف بیرونی قوتوں کی سازش قرار دینا بھی حقیقت کا مکمل عکس نہیں۔ داخلی کرپشن، ادارہ جاتی کمزوری، اقربا پروری، نااہل قیادت اور قانون کی غیرمؤثر عملداری نے بھی ان معاشروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بیرونی دباؤ اور داخلی ناکامیوں کا یہ امتزاج ایک ایسا پیچیدہ بحران پیدا کرتا ہے جس کا خمیازہ عام شہری بھگتتے ہیں۔

بین الاقوامی اداروں کے بارے میں بھی ایک اہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ان کا قیام اگرچہ امن اور تعاون کے لیے ہوا، مگر ان کی مؤثریت اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی وزن سے متاثر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والی بعض جنگوں، قبضوں، پابندیوں یا انسانی بحرانوں پر عالمی ردِعمل یکساں نہیں رہتا۔ جب قانون سب کے لیے برابر نہ ہو تو انصاف کا تصور کمزور پڑنے لگتا ہے اور عوام کے دلوں میں بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بڑی جنگوں اور کشیدگیوں کے دوران اسلحہ سازی، توانائی اور بعض تجارتی شعبے غیرمعمولی منافع حاصل کرتے ہیں۔

تاریخ کے کئی ادوار میں دیکھا گیا کہ جنگوں سے جہاں انسانی جانوں کا نقصان ہواہے، وہیں کچھ حلقوں کے معاشی مفادات میں اضافہ بھی ہواہے۔ یہی تضاد انسانی تہذیب کے سب سے دردناک پہلوؤں میں شمار ہوتا ہے کہ ایک طرف بچے ملبے تلے دب رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف منافع کے گراف بلند ہو رہے ہوتے ہیں۔ اطلاعات کے اس دور میں ایک اور عجیب حقیقت یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فاصلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے طاقتور میڈیا نیٹ ورکس، سیاسی بیانیے اور ڈیجیٹل مہمات عوامی رائے کو متاثر کرنے کی بے مثال صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی واقعہ مختلف ممالک میں مختلف انداز سے پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں حقیقت دھندلا جاتی ہے اور عوام جذباتی تقسیم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہر دعوے، ہر الزام اور ہر خبر کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔

تلخ ترین حقیقت شاید یہ ہے کہ دنیا کے اکثر مظلوموں کا دکھ مذہب، نسل یا قومیت سے بالاتر ہوتا ہے۔ خواہ وہ فلسطین کا بے گھر خاندان ہو، کشمیر کا پریشان شہری، افریقہ کا بھوکا بچہ، جنگ زدہ علاقوں کے پناہ گزین ہوں یا کسی غریب ملک کا قرضوں تلے دبا ہوا عوامی طبقہ، ان سب کی مشترکہ فریاد انصاف، وقار اور امن کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر انسانی شعور، حق گوئی اور اجتماعی بیداری بالآخر ہر دور کے جبر کو چیلنج کرتی ہے۔

آج کی دنیا کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون سب سے زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون انصاف کے لیے کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ جب تک عالمی اصول مفادات سے بالاتر ہو کر نافذ نہیں ہوتے، جب تک قانون کمزور اور طاقتور دونوں کے لیے یکساں نہیں بنتا اور جب تک انسان کو سیاسی کھیل کا مہرہ سمجھا جاتا رہے گا، تب تک ترقی کی چمک کے پیچھے چھپی یہ خاموش چیخیں تاریخ کے صفحات پر ایک مستقل سوال بنی رہیں گی۔