طارق محمود مرزا کے سفرنامے "تین دیس ایک دل" کا ادبی/تجزیاتی مطالعہ محض تین ممالک کی سیاحت کا جائزہ نہیں بلکہ سفرنامہ نگار کے مشاہدے، احساس، تہذیبی شعور اور انسانی رشتوں کی تفہیم اور عمدہ کردار نگاری کا اعتراف بھی ہے۔
مصنف اپنے سفر کے آغاز کو یوں بیان کرتے ہیں "تین اور چار جون 2023ء کی درمیانی شب تھی اور موسم انتہائی یخ بستہ تھا کیونکہ آسٹریلیا میں ان ایام میں موسم سرما اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ سرد اور کہر زدہ رات تین بجے میں سڈنی ائرپورٹ جانے کے لیے گھر سے نکلتا ہوں۔
آغاز سفر کے خدشات کو خوبصورتی سے مولانا رومی کے الفاظ سے دور کرتے ہیں۔
کسی نے مولانا رومی سے دریافت کیا، خوف کیا ہے؟ مولانا رومی نے جواب دیا "خوف درحقیقت غیر یقینی حالات کو قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم غیر یقینی کو قبول کر لیں تو یہ خوف نہیں بلکہ ایک مہم جوئی بن جاتی ہے"۔ یہ صرف ایک حوالہ نہیں ہے بلکہ سفر نامہ میں آگے چل کر طارق مرزا کے صوفیانہ مزاج کی گہری جھلک اور مساجد سے عقیدت و احترام کا اعلی نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے
سفر نامے میں لطیف احساسات اور شگفتی کا چولی دامن کا ساتھ آخر تک برقرار رہا۔ جیسے "ہماری چلبلی حسینہ مالنڈو (ائیر لائن) کا کاونٹر کھلا تھا۔ تین دیس ایک دل" ایک بامعنی اور علامتی عنوان ہے۔ تین دیس جغرافیائی فاصلے، مختلف تہذیبوں اور الگ الگ معاشرتی تجربات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جب کہ ایک دل ان سب کے درمیان موجود انسانی اور جذباتی وحدت کی علامت ہے۔ تینوں ممالک اگرچہ اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور طرزِ زندگی میں مختلف ہیں، لیکن مصنف انہیں محض اجنبی ملکوں کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایک ایسے انسانی رشتے میں پروتا ہے جہاں محبت، تہذیب، مذہب اور انسانیت مشترک قدریں بن جاتی ہیں۔
سفرنامے میں ملنے والے لوگ محض ضمنی کردار نہیں رہتے بلکہ اپنے معاشرے، تہذیب و تمدن، ثقافت، تاریخی حوالوں کے نمائندہ بن جاتے ہیں۔ ان کی عادات، شوخئی گفتار، مہمان نوازی اور طرزِ عمل کے ذریعے مصنف نہ صرف پورے معاشرے کی بلکہ فرد کی انفرادیت کی جھلک بھی دکھاتاہے۔
"یہ سفر در سفر ہے" طارق مرزا کہتے ہیں کہ سیاحتی سفر جذبات واحساسات اور مشاہدات کی ہمہ رنگی سے عبارت ہوتا ہے۔ اگر دل میں امنگ اور جستجو ہو تو یہ سفر علم و وجدان کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ دنیا کی وسعت اور رنگا رنگی دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلتی ہیں اور اسے اپنی ذات کی اہمیت اور خالق کائنات کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔
مصنف کی منظر نگاری اتنی مؤثر ہے کہ قاری خود کو ان وادیوں اور مناظر کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ میں نے نہ صرف سفر کی تفصیلات/یاداشتیں نوٹ کیں بلکہ مصنف کےساتھ ساتھ نیلگوں پانیوں کے سمندر، گھنے جنگلوں، آبی پرندوں کی مست اڑانیں، بلند و بالا پہاڑوں کی عظمت، ہر طرف رنگ اور خوشبوئیں لٹاتے ہوے پھولوں کے جھنڈ کے مناظر کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھا۔ یورپ اور ایشیا کا سنگم استنبول ہو یا رومی کا شہر قونیہ، تاریخی شہر انتالیہ کے حسین قدرتی نظارے ہوں یا یورپ اور ایشیا کا حسین امتزاج، ازمیر۔ یا پھر بالی کے مغربی ماحول سے لےکر سائیڈ مین گاوں کے فطری نظارے ہوں۔ طارق مرزا کے قلم نے چابکدستی سے نہ صرف تاریخ بلکہ موجودہ تہذیبی و ثقافتی زندگی کے اتار چڑھاؤ کا احاطہ کیا ہے۔ منظر نگاری، بیانیہ، مکالماتی شگفتی، تہذیبی شعور، بین المتونی حوالہ جات سفر نامے کو جامع اور پرکشش بناتے ہیں۔
مساجد کی تاریخی حیثیت، تعمیر و تزئین، نقش و نگار، رنگوں کی آمیزش، بناوٹ اور سجاوٹ اتنی محبت اور عقیدت سے بیان کرتے ہیں کہ خواہش ابھرتی ہے کہ کاش ساری دنیا نہیں تو کم از کم پاکستان اتنی خوبصورت مساجد کی سرزمین بن جائے۔ مصنف کی قونیہ سے جذباتی وابستگی ان کی تحریر میں جھلکتی ہے جسے پڑھ کر قاری کا دل مغموم اور آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ قونیہ سلجوقی دور سے روحانی اور علمی مرکز رہا ہے۔ اسے شہر قلوب بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ شہرت مشہور صوفی شاعر مولانا جلال الدین رومی کی آخری آرام گاہ ہے۔
عصرحاضر کے عظیم شاعر افتخار عارف نے کیا خوب لکھا ہے۔
سنائی ہوں کہ وہ عطار ہوں کہ رومی ہوں
ہر ایک مقام پہ ایک خوش صفات رقص میں ہوں
طارق مرزا دربار عشق میں حاضری کو وجد و وفور کی کیفیت میں بیان کرتے ہیں۔ یہاں انوار و تجلیات کا عجب عالم تھا، آنکھیں ساون بھادوں بن گئیں اور دل رقص کر رہا تھا۔ اگلی حاضری حضرت شمس تبریز کے مزار اقدس کی تھی۔ دو عظیم المرتبت صوفی بزرگوں کے مرقد پر حاضری سے میرے دل پر رقت سی طاری تھی۔
تین دیس ترکی، ملائشیا اور انڈونیشیا کو ایک دل نے حسن سفر بنایا اور پورے سیاحتی تجربے کو خلوص اور محبت سے صفحات قرطاس پر بکھیر دیا۔ سفرنامه نہ صرف دلچسپ اور معلوماتی ہے بلکہ قاری کو روحانی کیفیت سے روشناس کراتا ہے۔
یقیناََ طارق مرزا "کافی"کے بیحد شوقین ہیں اس کا اظہار انہوں نے نہ صرف کئی جگہ پر کیا ہے بلکہ ذائقہ اور خوشبو اور اس سے لطف اندوز ہونے کو اتنی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ اپنے آپ ابھرتی ہے۔
پورے سفرنامه میں مجھے ایک جگہ اعتراض اور افسردگی کا احساس ہوا۔ جہاں مصنف نے معمر قذافی اور بل گیٹس کا موازنہ کیا ہے۔
اس تقابل سے مکمل اتفاق ممکن نہیں، کیونکہ معمر قذافی کے دورِ حکومت کے بارے میں مختلف تاریخی آرا موجود ہیں، جبکہ بل گیٹس کی فلاحی سرگرمیوں اور ان کے عالمی اثر و رسوخ پر بھی متنوع نقطۂ ہائے نظر پائے جاتے ہیں"۔
یہ میرا نکتہ نظر ہے۔ اتفاق رائے ضروری نہیں۔
طارق مرزا لکھتے ہیں، "دوران سفر، میں مناظر کو آنکھوں کے ذریعے دل پر نقش کرتا رہا۔ جو آج بھی میرے صفحہ دل پر رقم ہیں۔ یہ منظر بار بار مجھے ہانٹ کرتے رہیں گے جب تک لفظوں میں نہ ڈھل جائیں"۔
اب کتاب قاری کے ہاتھ میں ہے۔ دلچسپ، معلوماتی اور شگفتہ تحریر پڑھ کر لطف اندوز ہوں۔