1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. غیرت مند مولوی

غیرت مند مولوی

"بہت مشکل ہے اس کا بچنا۔ اللہ ہی معجزہ کرے تو بچے! خون کا گروپ چیک کرکے فوراً چند بوتلوں کا بندوبست کرو۔ کون ہے اسکے ساتھ؟" ڈاکٹر پروین ایمرجنسی وارڈ میں لائی گئی ایک عورت کا معائنہ کرتے اپنے سٹاف سے بولی۔

"اسکا شوہر ہے باہر"۔ ایک نرس بولی۔

"اسے ڈرپ لگاؤ"۔ یہ کہہ کر پروین باہر آ گئی۔ اسے دیکھ کر ایک باریش مرد نے پوچھا، "بچ جائے گی؟"

"تم شوہر ہو اس کے؟"

"جی"۔

"نام کیا ہے تمہارا؟"

"قاری نواز محمد"۔

"کیا کرتے ہو؟"

"امام مسجد اور مولوی ہوں"۔

"بیوی کا نام؟"

"شکیلہ"۔

"کیا کیا ہے تم نے اسکے ساتھ؟" پروین نے غصے سے پوچھا۔

"کچھ نہیں ڈاکٹر صاحبہ۔ چولہا پھٹ گیا تھا"۔

"بکواس نہیں کرو۔ شرم نہیں آتی؟ امام مسجد ہو کر جھوٹ بولتے ہو۔ پورا یوٹرس اڑا ہوا ہے اس کا۔ چولہا پھٹنے سے ایسا ہوتا ہے؟ جلنے کا نشان تک نہیں جسم پر"۔

"میں سچ کہہ رہا ہوں جی۔۔ "

"پولیس کیس ہے۔۔ "

"اللہ کا واسطہ پولیس کو رپورٹ نہ کریں۔ خواہ مخواہ بدنامی ہوگی۔۔ "

"اچھا۔۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔۔ ابھی فون کرتی ہوں پولیس کو!" پروین یہ کہہ اپنے دفتر کی جانب بڑھی اور قاری غائب ہوگیا۔

پولیس کو فون کرنے کے بعد پروین نے یہ صورت حال اپنی صحافی دوست رابعہ کو بتائی جو ایسے موضوعات پر دبنگ فیچرز کیا کرتی تھی۔

"اسے ہوش میں آنے دو تب ہی انٹرویو کیا جا سکتا ہے"۔ رابعہ نے پروین سے کہا

"دو تین دن لگ جائیں گے"۔ پروین بولی۔

"کوئی مسئلہ نہیں"۔ رابعہ نے پروین کو تسلی دیتے کہا۔

"ڈاکٹر صاحبہ تھانیدار صاحب آئے ہیں"۔ نرس نے پروین کو بتایا۔

"بھیجو۔۔ "

"اسلام و علیکم ڈاکٹر صاحبہ!"

"وعلیکم السلام! سر کوئی بہت ہی درندہ صفت انسان ہے۔ اسے چھوڑئیے گا نہیں!"

"ہوا کیا؟"

"ایک مولوی ہے۔۔ " پروین نے ساری بات بتائی۔

"ہوں۔۔ بچ کے کہاں جائے گا قانون کی گرفت سے؟" تھانیدار مونچھوں کو تاؤ دیتے بولا۔

***

تھانیدار نے قاری کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے مارے۔ وہ اپنے کسی طالب علم کے گاؤں میں چھپا بیٹھا تھا۔ حکومت کو اسکی گرفتاری پر پچاس ہزار روپے انعام رکھنا پڑا۔ روپے کے لالچ میں شاگرد ہی پولیس کا مخبر بن گیا۔ اب قاری نواز پولیس کے ہتھے چڑھ چکا تھا۔

"بول حرامی کیوں کیا تو نے ایسا؟" تھانیدار قاری کو ننگا الٹا لٹکا کر اس پر تشدد کر رہا تھا۔

"سر وہ مذہب کی بے حرمتی کیا کرتی تھی۔ کئی بار اسے سمجھایا کہ ایسا نہ کرے۔ لیکن وہ باز نہ آتی۔ آخری بار جب اس نے یہ حرکت کی تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے فیصلہ کیا اسے ایسا سبق سکھاؤ گا کہ دوبارہ ایسی حرکت چاہنے کے باوجود نہ کر سکے"۔ قاری بولا۔

"مذہب کی بے حرمتی؟ کیا مطلب؟"

"سر وہ کھیرے، کیلے، گاجر اور مولی جو اللہ تعالی نے ہمارے لئے اس دنیا میں بطور رزق پیدا کئے ان کی بے حرمتی کرتی تھی"۔

"کھل کر بتا حرامزادے۔۔ "

"سر شرم آتی ہے!"

اس جملے پر تھانیدار نے قاری کو ایک تھپڑ رسید کرتے کہا، "جو حرکت تو نے کی اس پر تجھے شرم نہیں آتی؟"

"میں نے کچھ غلط نہیں کیا سر۔ مجھے فخر ہے جو کچھ بھی میں نے کیا۔ کوئی بھی غیرت مند اور صاحب ایمان انسان اگر میری جگہ ہوتا تو یہ ہی کرتا جو میں نے کیا!"

اس پر قاری کو تھانیدار سے ایک اور تھپڑ ملا۔

"ادھر ادھر کی کہانیاں نہ سنا۔ سیدھا سیدھا بتا اس بیچاری نے ایسا کیا کر دیا تھا جو تو نے اسکی یہ حالت بنا ڈالی، ورنہ تجھے زندہ نہیں چھوڑونگا"۔

"وہ یہ چیزیں اپنی شرمگاہ کے اندر ڈال کر جنسی تسکین حاصل کیا کرتی تھی۔ بس مجھ سے برداشت نہ ہوا!" قاری نے کہا اور تھانیدار کا سر چکرا گیا۔ اس نے پروین کو فون لگایا۔

"یہ کہہ رہا تھا وہ مردود قاری! سچ ہے کیا؟ مجھے تو شکیلہ نے اپنے بیان میں ایسا کچھ نہیں بتایا!" تھانیدار نے پروین کو ساری بات بتاتے کہا۔

"کیا بتائے؟ اپنے آپ کو بدنام کروائے کیا؟" پروین نے جواب دیا۔

"تو کیا قاری سچ بول رہا ہے۔۔ "

"کیا شکیلہ کا ایسا کرنا قاری کے جرم کو جواز فراہم کرتا ہے؟ آئے آپ بہت بڑے ہمدرد اس شیطان مولوی کے اور قانون کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ عورت کا ایسا کرنا جرم ہے؟" پروین نے غصے سے کہا۔

"میں اس کا ہمدرد نہیں۔ بہت مارا ہے اسے۔ تھوڑا اور مارتا تو مرجاتا۔ میں تو یہ سوچ رہا تھا کہ شکیلہ ایسا کیوں کرتی تھی؟ کیا وہ نفسیاتی مریضہ ہے؟"

"وہ نارمل ہے اور ایسا کرنا بھی نارمل۔ مرد بھی خود لذتی جیسے عمل کرتے ہیں اور ایسا کرنے کی وجہ بھی وہی مولوی ہے۔۔ " پروین بولی۔

"کیا مطلب؟ قاری نواز نامرد ہے؟" تھانیدار نے حیرت سے پوچھا۔

"نہیں۔ لڑکوں کا شوقین ہے۔ شکیلہ ابھی تک کنواری ہے!" پروین کے سچ نے تھانیدار کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگر اس کا بس چلتا تو قاری کا ماورائے عدالت قتل کر دیتا۔

***

شکیلہ کی جان بچ چکی تھی مگر زندگی مردوں سے بدتر تھی۔ یوٹرس مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ اس کے بیان کے مطابق قاری نے ایک آہنی راڈ اسکے یوٹرس میں گھسیڑ کر دوسرے کونے سے بجلی کا کرنٹ دوڑا دیا تھا۔ شکیلہ کا علاج ملک سے باہر ہی ممکن تھا۔

قاری شکیلہ کا خالہ زاد بھائی تھا۔ شکیلہ کے والدین وفات پا چکے تھے۔ آگے پیچھے کوئی اور نہ تھا۔ اسی لئے وہ قاری کے رحم و کرم پر تھی۔ بے اولاد تھی۔ رابعہ پچھلے ایک گھنٹے سے اس کے ساتھ تھی۔ فوٹوگرافر تصویریں لے چکا تھا۔ یہ گھریلو تشدد کی تاریخ کا انتہائی شرمناک واقعہ تھا۔ رابعہ کا بس چلتا تو قاری کو چوک میں پھانسی چڑھا دیتی۔

صبح ملک کے سب سے بڑے اور اثر و رسوخ والے انگریزی روزنامے میں شکیلہ کی دکھ بھری کہانی صفحہ اول پر شائع ہوئی۔ فوٹوگرافر درست لمحے پر شڑ دبا کر دنیا کو وحشی مولوی کی بربریت دکھا چکا تھا۔

رپورٹ گو کہ انگریزی میں تھی۔ عوام تک تو نہ پہنچ سکی کیونکہ وہ انگریزی سے نابلد تھے۔ مگر مقتدر حلقوں تک بات اچھی طرح پہنچ گئی جنہیں رابعہ کی جراتمندانہ اور کھری رپورٹنگ سے ہمیشہ تکلیف ہی رہتی۔ اگر وہ بااثر باپ کی بیٹی نہ ہوتی تو کب کی اٹھا لے گئی ہوتی۔

باپ بیٹی کے کام میں مداخلت کا قائل نہ تھا۔ البتہ اسے اکثر سمجھایا کرتا کہ بھاشن بازی اور نیتا گری بے کار ہے۔ اس ملک میں لکھنے سے کبھی کچھ نہیں بدلا۔ نہ بدلے گا جنہوں نے ساری عمر جذبے سے لکھا وہ بھی ہمت ہار بیٹھے۔ ان کا نئی نسل کو اب یہ پیغام ہے کہ میاں امیگریشن لو اور امریکہ، کینیڈا یا یورپ میں اپنا مستقبل تلاش کرو۔ ہم نے ساری عمر جھک ماری۔ لکھا، ڈنڈے کھائے، کوڑے پیٹھ پر سہے، نوکریوں سے ہاتھ دھوئے، ہمارے معصوم بچوں کو قتل کیا گیا۔ اغوا کیا گیا۔ ان پرتشدد کیا گیا۔ کسی کی تشدد زدہ لاش تین ماہ بعد ملی تو کسی کی ملی ہی نہیں اور یہ سب کچھ جن کے لئے کیا وہی مجرموں سے مل گئے۔ ہماری قربانیاں خاک میں مل گئیں۔ یہ ملک غریبوں کے لئے نہیں امیروں کے لئے بنایا گیا تھا جس میں امیر دن بہ دن امیر ہو سکے اور غریب غربت سے مر جائے اور اس مقصد کے لیے اسلام کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔

نظریاتی لوگوں کے گھر والے چیخ چیخ کر اب ان سے پوچھتے ہیں کہ کیوں جھوٹے سپنے دکھائے لوگوں کو؟ کیوں انہیں اپنے زور قلم سے جھوٹی جنت دکھائی؟ کیوں ایک سراب پیدا کیا؟ جو بھی اس سراب کے پیچھے دوڑا واپس لوٹ کر نہیں آیا۔ اس سراب نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں۔ ہزاروں گم ہو گئے۔ گمشدہ لوگوں کی واپسی کی راہ تکتے تکتے ماؤں نے اپنی بینائی کھو دی۔ ہزاروں سہاگ اجڑے۔ لاکھوں بچے یتیم ہوئے۔ کیوں؟ تمہارے قلم کی بدولت تمہارا قلم اصلی مجرم ہے کیونکہ تم نے سچ نہیں لکھا۔ تم نے خواب گھڑے۔ تم نے جھوٹے خوابوں کا کاروبار کیا۔ سب کو دھوکہ دیا۔ اب تو سچ بولو۔ لکھو اب جو شیکسپئیر نے لکھا۔۔ فیر از فاؤل اینڈ فاؤل از فیئر لیکن دانا باپ کی باتوں سے رابعہ اتفاق نہ کرتی۔

اس کا کہنا یہ تھا کہ اگر سب ہی ایسا سوچیں گے تو معاشرے میں سدھار کیسے پیدا ہوگا۔ وہ اپنی کاوش کو بارش کا پہلا قطرہ سمجھتی تھی۔ باپ کی نظر میں بیٹی کو زندگی کی تپش کا اندازہ تک نہ تھا۔ وہ تو باپ کی شفقت کے ٹھنڈے سائے میں پلی بڑھی۔ اس لئے وہ بحث بالکل نہ کرتا۔ اپنی بات کرکے لائبریری میں چلا جاتا۔ لیکن رابعہ کو باپ سے بے پناہ پیار تھا۔ وہ ماں سے کم باپ سے زیادہ مانوس تھی۔ ماں کو ہر وقت رابعہ کی شادی کی فکر رہتی۔ گھر میں حکم باپ کا ہی چلتا جس نے بیٹی کو مکمل آزادی دے رکھی تھی۔ رابعہ تیس برس کی ہو چکی تھی۔ خوبصورت عورت تھی ہر لحاظ سے۔ شادی کے بارے میں اس نے آج تک نہ سوچا۔ نہ اسکا کوئی بوائے فرینڈ تھا۔ اسے اپنے کام سے ہی عشق تھا۔ وہ دکھی انسانیت کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔

رابعہ کی شکیلہ کے بارے میں رپورٹ این جی اوز اور ڈونر کمیونٹی نے گہری دلچسپی سے پڑھی۔ سرکاری حلقوں میں اسے وزیر اعظم، صدر مملکت اور کئی وزراء نے پڑھا۔ سب کی ہمدردی شکیلہ کیساتھ تھی۔ اگلے دن یہ خبر باقی اخبارات نے بھی دہرائی۔ اس طرح شکیلہ کی کہانی جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ چونکہ خبر دینے والی رابعہ تھی۔ اس لئے ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ دھڑا دھڑ اس سے رابطہ کرنے لگے۔ شکیلہ کو انگریزی تو آتی نہ تھی۔ لہذا نہ چاہتے ہوئے بھی رابعہ کو اس کا ترجمان بننا پڑ گیا۔ این جی اوز سے اس نے شکیلہ کو بچائے رکھا۔ اسے علم تھا کہ شکیلہ کی آڑ میں یہ مافیا اپنا الو سیدھا کرے گی اور اسکا اندیشہ درست نکلا۔

ایک نام نہاد این جی او کی مالکن ساروی سرمست نے رابعہ کو بطور رشوت اچھی خاصی کنسلٹنسی آفر کی۔۔ اس شرط پر کہ وہ اسے شکیلہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کرنے دے جس میں شکیلہ میڈیا کو حقیقت کے علاوہ کئی اور باتیں بھی بتائے جو ساروی اسے بطور سکرپٹ رٹائے گی۔ رابعہ نے ہوشیاری سے یہ گفتگو ریکارڈ کر لی اور اس پر ایک سٹوری کر ڈالی جو ساروی کی گرتی ہوئی شہرت کے لئے ایک اور دھچکا ثابت ہوئی۔ اس نے ایک بہت بڑی گرانٹ کے لئے ڈونر کے پاس پروپوزل جمع کرا رکھی تھی۔ ہاتھی نکل چکا تھا دم رہ گئی تھی۔ سٹوری پڑھ کر ڈونر نے ساروی کو طلب کیا۔ اس نے سٹوری کو جھٹلایا تو ڈونر نے اپنے طور پر تحقیق کی۔ سٹوری سچ نکلی۔ اس کے بعد ڈونر نے ساروی کو گھاس تک نہ ڈالی اور فی الفور یہ پراجیکٹ گوہر کی این جی او کو دے دیا۔

شکیلہ کے کیس میں نو ماہ کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔ قاری کی عدالت میں پیشی پر سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے۔ مذہبی رہنما اپنے اپنے لاؤ لشکر سمیت عدالت کے احاطے میں جمع ہوئے۔ دیکھنے والوں نے اس قسم کے بینرز دیکھے جو بہت سوں کو آج بھی یاد ہونگے:

یا اللہ یا رسول قاری نواز بے قصور

قاری تیری قربانی رنگ لائے گی

این جی اوز کی اجارہ داری نا منظور

کافر حکومت سے انصاف کی توقع نہیں

شکیلہ این جی اوز کی ایجنٹ

جب قاری کو عدالت میں لایا گیا تو ہجوم نے جیل کی وین پر دھاوا بھی بولا۔ وین پر شدید پتھراؤ ہوا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے لئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جیسے تیسے کرکے قاری کو جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ باہر اسلام کا مجاہد اسلام کا ہیرو کے نعرے لگے۔ قاری اکڑتا ہوا کٹہرے میں آیا تھا اور اس نے بلند آواز میں نعرہ تکبیر بھی بلند کیا۔ اسکے چہرے پر افسوس یا ملال کی جگہ اطمینان تھا۔ اسے تین مختلف جرائم کے تحت تین سزائیں سنائی گئیں۔ ہر سزا دس برس کی تھی۔ تینوں سزاؤں کو اس نے علیحدہ علیحدہ بھگتنا تھا۔ اس طرح اسے کل تیس برس جیل میں گزارنے تھے۔

گھریلو تشدد کے اس کیسں میں ملک کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہوا جس میں کوئی مجرم اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کیس کو عالمی شہرت نصیب ہوئی۔ کچھ عرصے بعد اس پر ہالی ووڈ نے فلم بنائی جو بہت ہٹ ہوئی۔ اس کی دیکھا دیکھی بھارت نے بھی ایک فلم بنائی جو بری طرح ناکام ہوئی۔ نہ بنائی تو قومی فلم انڈسٹری نے۔ مغرب میں فیمی نسٹس نے شکیلہ پر کئی ناول بھی لکھے۔ لیکن کسی مقامی خاتون یا مرد لکھاری کو ایسا خیال چھو کر بھی نہ گزرا۔ اس کیس کے بھاگوں حکومت نے قانون سازی کے ذریعے عورتوں کی حالت زار کو قدرے بہتر بھی کیا۔ اسے موثر انداز میں منظر عام پر لانے اور پھیلانے میں سب ہی نے رابعہ کی کاوشوں کو سراہا۔ حکومت نے اسے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا جو کہ واقعی ایک اعزاز تھا باوجودیکہ ایسے ایوارڈ ملک میں ریوڑیوں کی طرح خوشامدیوں، چاپلوسوں اور سیاسی وفاداروں میں بانٹے جاتے تھے۔ دراصل ان ایوراڈز کو رابعہ کے قابل فخر کام سے نوازا گیا تھا۔

وزیر اعظم کی ذاتی توجہ اور ہمدردی کے وجہ سے شکیلہ کو سرکاری خرچ پر علاج کے لئے لندن بھیجا گیا۔ وہ ٹھیک تو ہوئی مگر اسے تاحیات ایک یورین بیگ اپنے جسم کے ساتھ باندھنا پڑا۔ وہ باقی ماندہ زندگی نارمل انسان کی طرح گذارنے سے قاصر رہی۔ مقامی ڈاکٹروں کی نظر میں برطانوی ڈاکٹروں کا اتنا کمال بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اگر وہ ملک میں ہی رہتی تو زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ پاتی۔

اس کیس کو اچھی طرح سے تیار کرنے پر تھانیدار کو پروموشن دے کر ڈی ایس پی بنایا گیا۔ سب خوش تھے کہ ہر کسی کی کاوش رنگ لائیں۔ قاری اپنے انجام کو پہنچا۔ دکھ صرف اس بات کا تھا کہ یورین بیگ شکیلہ کو ہر لمحے قاری کے انسانیت سوز سلوک کی یاد دلاتا رہے گا۔ وہ کبھی مسکرا تک نہ سکے گی!