"منٹو" نام نہاد دانشوروں کے ایک مخصوص طبقے کا ایسا برانڈ ہے جس کے خلاف کوئی زبان نہیں کھولتا، کیونکہ جو شخص اس پر تنقید کرے، اسے فوراً جاہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ٹھگوں نے بادشاہ کو یقین دلا دیا تھا کہ اس کا لباس صرف عقل مندوں کو نظر آئے گا، بے وقوف اسے دیکھ ہی نہیں سکیں گے۔ حقیقت میں بادشاہ نے کچھ پہنا ہی نہیں تھا، مگر کوئی درباری یہ کہنے کی جرات نہیں کر رہا تھا کہ بادشاہ سلامت، آپ تو ننگے ہیں۔ انہیں ڈر تھا کہ ایسا کہتے ہی ان کا شمار بھی بے وقوفوں میں ہونے لگے گا۔
حقیقت بہرحال یہی تھی کہ بادشاہ ننگا تھا۔ جب وہ شہر میں نکلا اور لوگ اس کی ایسی پوشاک کی تعریف کرنے لگے جو سرے سے موجود ہی نہیں تھی تو ایک بچہ بےساختہ پکار اٹھا: "بادشاہ تو ننگا ہے!" بچے کی آواز نے طلسم توڑ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہجوم یہی کہنے لگا۔ بادشاہ کو دم دبا کر بھاگنا پڑا۔
منٹو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ نام نہاد دانشوروں نے اس کے گرد ایسی ادبی پوشاک تیار کر دی ہے جسے دیکھ کر تعریف نہ کرنا شاید جاہل ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ میرے جیسوں کو اس پوشاک کے پیچھے منٹو ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسے اس بچے کو بادشاہ نظر آیا: ننگا!
اسی نام نہاد دانشور طبقے کے دو اور برانڈ بھی ہیں: قرۃ العین حیدر اور عبداللہ حسین۔ لیکن آج بات صرف منٹو کی کرتے ہیں۔
منٹو کے کام پر ایک قاری کی حیثیت سے بات کروں گا، کسی ادبی مقالے کے مصنف کی حیثیت سے نہیں۔ بس کامن سینس استعمال کروں گا۔ منٹو پر پہلے ہی بہت سے مقالے لکھے جا چکے ہیں اور اس کے اپنے زمانے میں بھی اسے خوب رگڑا گیا۔ لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ وہ منہ ٹیڑھا کرکے موٹی موٹی اصطلاحات بولنے والے دانشوروں کا ہیرو بنا ہوا ہے۔
قصور دراصل کسی لکھاری کا نہیں، قصور ان کا ہے جو اس کے عام سے کام کو غیر معمولی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ منٹو ہو، قرۃ العین حیدر ہو یا عبداللہ حسین، میری نظر میں ان میں سے کوئی بھی ایسا اعلیٰ پائے کا لکھاری نہیں تھا جسے ادبی دیوتا بنا دیا جائے۔ یہ سب اچھے یا اوسط درجے کے لکھاری تھے، مگر ہمارے ہاں انہیں رفتہ رفتہ خدا بنا کر پیش کر دیا گیا۔ ویسے بھی ہمارے ہاں عجیب عجیب لوگوں کو مقدس بنا دینے کی روایت ہے۔ بھٹو بھی شہید ہے اور اس کا قاتل ضیا الحق بھی شہید ہے۔
منٹو کے چند افسانے ہی ایسے ہیں جنہیں واقعی عمدہ کہا جا سکتا ہے۔ ان میں نیا قانون، کھول دو، صاحب کرامات، چھیدا حرام دا، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننگی آوازیں اور بابو گوپی ناتھ شامل ہیں۔
ٹھنڈا گوشت، یزید اور موذیل کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ منٹو کے شاہکار افسانے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں کوئی پلاٹ سرے سے ہے ہی نہیں۔ منٹو کے افسانے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ شروع تو اچھا کر لیتا تھا مگر اس سے اینڈ سنبھالا نہیں جاتا تھا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ٹھرا منٹو کی کمزوری تھا۔ اس ٹھرے کے حصول کے لیے وہ دس، بیس یا تیس روپے کے عوض روز ایک افسانہ لکھ دیا کرتا تھا۔ روز لکھنے سے شاید اس کی ٹائپنگ سپیڈ تو تیز اور درست ہوگئی ہو مگر افسانے کوڑا کرکٹ بن کر رہ گئے۔ اس کے اکثر افسانوں کی زبان بہت ہی عامیانہ ہے جیسے کسی ردی اخبار کا کالم۔ "موذیل" میں اسکی کئی مثالیں مل جائینگی۔
موذیل میں ایک سین منٹو کی حماقت کا ثبوت ہے۔ چار پانچ بلوائی دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور موذیل ترلو چن سے کہہ رہی ہے کہ وہ دروازہ کھول دے گی اور پھر سب بھاگ جائیں گے۔ یعنی چار پانچ بلوائی ایک طرف ہو کر انہیں بھاگنے کا موقع فراہم کرینگے۔ پھر موذیل نے کرپال کور کے سارے کپڑے اتار کر اسے ننگا کیا اور اسے اپنا ڈھیلا کرتا پہنا دیا اور وہ خود ننگی ہوگئی۔ حد ہوگئی حماقت کی۔ لگتا ہے منٹو نے یہ افسانہ لکھتے وقت کچھ زیادہ ہی چڑھا لی تھی۔
"یزید" پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ منٹو کو نہ شیعہ مسلک کا کچھ علم ہے اور نہ ہی سنی۔ کرم داد کا اپنے بچے کا نام "یزید" رکھنا یہ سمجھ کر کہ یہ پانی کھولے گا۔۔ جہالت کی نشانی ہے۔ یزید کے ساتھ دونوں مسلک کیا سلوک کرتے ہیں، بتانے کی ضرورت نہیں۔
میرے ایک دوست ہیں صبغت وائیں۔ وہ "نیا قانون" کو ایک بکواس افسانہ مانتے ہیں کیونکہ منٹو نے ایک کوچوان کے شعور کا مذاق اڑایا ہے۔ یہ بات تو شیکسپیر لکھ گیا تھا ہنری فور میں:
Wisdom cries out in the streets، and no man regards
منٹو شیکسپیر کے مقابلے میں تو اکا دکا بھی نہیں۔ اتنا بڑا لکھاری عام جنتا کے شعور کو "حکمت" کہتا ہے اور زندگی میں بھی ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہے۔ آپ کسی گدھا گاڑی چلانے والے سے ہی بات کر لیں۔ آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ اس کا شعور کیا ہے۔ یقین مانیے بڑے بڑے دانشوروں سے بہتر دانش آپ کو اس کے ہاں مل جائے گی۔
پچیس برس پہلے میں رکشے میں سوار کہیں جا رہا تھا۔ ریل کے پھاٹک پر رکشہ رکا تو رکشے والے نے کہا کہ وہ اس رکشے کی کمائی سے گھر بنا چکا ہے۔ بچوں کی شادیاں کر چکا ہے۔ مگر اتنا بڑا ریلوے کا محکمہ شروع دن سے گھاٹے میں جا رہا ہے۔ کیوں؟ یہ ہے عام آدمی کا شعور۔ اسے فلسفے کی اصطلاحات شاید نہ آتی ہوں، مگر زندگی اور اپنے اردگرد کے نظام کو پرکھنے کی عقل ضرور تھی۔
"منٹو برانڈ دانشور" منٹو پر بات شروع کرتے ہیں موٹی موٹی اصطلاحات سے۔۔ طبقاتی شعور، انقلاب، رد تشکیل، جدیدیت، پھر جدیدیت کی اماں حضور "ماں بعد جدیدیت"۔ ارے بھائی یہ سب بکواس کی ورڈز ہیں۔ پہلے کامن سینس کی روشنی میں ہی تجزیہ کر لو منٹو کے کام کا! نہ کوئی کہانی، نہ کوئی زبان، نہ کوئی کام کا جملہ۔ بالی ووڈ فلموں کا ایک ہی فارمولہ نظر آتا ہے منٹو کے کام میں۔۔ عورت کی چھاتیاں، نپلز، کولہے، بغلیں، بغلوں کے بال، رانیں، پنڈلیاں اور زیر ناف کے بال۔ ایسی ہی عورتوں کے دلال، چکلہ، کوٹھا، ٹکیائیاں۔۔ منٹو ان ہی چیزوں کا سیلز مین تھا۔
اگر آپ کی کہانی میں دم نہیں، کوئی سر پیر نہیں، کوئی پیغام نہیں تو ان ٹرمینالوجیز کا کیا اچار ڈالنا ہے؟ ویسے بھی یہ اصطلاحات علمیت کا رعب جھاڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔ صبغت وائیں تو منٹو کو لکھاریوں کی "نصیبو لال" قرار دیتے ہیں۔ اس پر کسی نے کہا یہ زیادتی ہے۔ منٹو کو لکھاریوں کا "مفتی قوی" کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
وائیں صاحب کے مطابق: "منٹو اونٹ کا مضمون یاد کرنے والے لڑکے کی طرح کہانی کو گھیر گھار کے وہاں لاتا جہاں کا سب کو پتا ہوتا ہے۔ جہاں لیمپ بجھا دیا جاتا، یا فلم میں دو پرندہ یا دو پھول دکھا دیے جاتے ہیں۔ لیکن منٹو کی کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ قسم لے لیجیے، ہمارے وقتوں میں پورن نہ ہونے کی کمی منٹو وغیرہ ہی پوری کیا کرتے تھے۔ ہم نے سارا منٹو اسی ایک باعث پڑھا"۔
منٹو کی شہرت میں اس پر قائم ہونے والے فحش نگاری کے مقدمات کا بھی بڑا حصہ ہے۔ اگر اس کے افسانوں پر یہ مقدمات نہ بنتے تو شاید دنیا اسے اتنا سر پر نہ چڑھاتی۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ جس چیز پر پابندی لگائی جائے، لوگوں کی توجہ عموماً اسی کی طرف زیادہ جاتی ہے۔ منٹو کے معاملے میں بھی فحش نگاری کے مقدمات نے اس کے گرد ایک ایسی سنسنی پیدا کر دی جس نے اس کی ادبی شہرت کو مزید بڑھا دیا۔
منٹو کے قریب تین سو افسانوں میں بمشکل پانچ فیصد کام کے نکلتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسد محمد خان کا تقریباً ہر افسانہ باکمال ہے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ منٹو طوائف، کوٹھے، دلال، دھندہ کرنے والی پر لکھنے کا ماہر ہے انہیں اسد محمد خان کا "نصیبو والیاں" یا غلام عباس کا "آنندی" پڑھنا چاہیے۔ منٹو کا سارا کام ان دو افسانوں کے سامنے ہیچ نظر آتا ہے۔
منٹو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے اس دور کو سمجھنا ضروری ہے جس میں وہ لکھ رہا تھا۔ یہ دلیل مان لی جائے تو پھر منٹو کا فن اپنے عہد تک محدود ہو جاتا ہے اور میرے خیال میں آج بڑی حد تک ہو بھی چکا ہے۔ آج کے قاری کو اس کے بہت سے افسانوں میں وہ خاص تاثیر محسوس نہیں ہوتی جو اس کے مداح بیان کرتے ہیں۔
اچھا فن وقت اور زمانے کا محتاج نہیں ہوتا۔ زمانہ بدلنے کے ساتھ اس کی معنویت ختم نہیں ہوتی بلکہ اکثر اور گہری ہو جاتی ہے۔ بڑے فن پارے ہر دور کے قاری پر اثر ڈالتے ہیں۔ اگر کسی فن کو سمجھنے کے لیے اس کے زمانے کی خصوصی وضاحت درکار ہو تو پھر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اس کی آفاقیت آخر کہاں ہے؟
منٹو کے بعض حامی اس کی عقیدت میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ اس پر معمولی تنقید بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ اختلافِ رائے کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے بدتمیزی اور پھر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کا طرزِعمل دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ منٹو کے افسانوی کرداروں کے وارث ہوں اور منٹو پر اس لیے ناز کرتے ہوں کہ اس نے ان کے بزرگوں جیسے کرداروں کو اپنے افسانوں میں ہیرو یا ہیروئن بنا دیا تھا۔
تھرڈ ڈویژن پاس اسکول اور کالج کے ماسٹروں کے پاس منٹو کے دفاع میں عموماً وہی گھسا پٹا جواب ہوتا ہے: جی، پہلے منٹو کو پڑھنا اور سمجھنا سیکھیں۔ ارے بھائی، اگر آپ کو منٹو سمجھ میں آ گیا تو آپ نے کون سا تیر مار لیا؟ خود کوئی قابلِ ذکر تخلیق نہ کر سکے، اسکول یا کالج میں ماسٹر لگ گئے، پھر منٹو کا دامن پکڑ کر اس کی پرستش شروع کر دی اور معصوم بچوں کو بھی اسی عقیدت پر لگا دیا۔
اگر منٹو واقعی اتنا بڑا فن کار ہے تو اس کے حق میں دلیل پیش کیجیے۔ اس کے افسانوں کی فنی خوبیوں پر بات کیجیے، زبان، پلاٹ، کردار نگاری اور تکنیک پر گفتگو کیجیے۔ ہر اعتراض کے جواب میں صرف یہ کہنا کہ تم منٹو کو سمجھتے نہیں، کوئی دلیل نہیں۔
اور پھر ان کی اپنی تخلیقی کارکردگی بھی دیکھیے۔ تخلیقی کام کے نام پر اکثر جو کچھ سامنے آتا ہے، وہ انتخاب ہوتا ہے: منٹو کے بہترین افسانے، فلاں کے بہترین افسانے، فلاں کے منتخب افسانے۔ یعنی اپنی تخلیق کچھ نہیں، دوسروں کی تخلیقات کے انتخاب پر ہی پوری علمی اور ادبی عمارت کھڑی ہے۔
منٹو برانڈ پڑھنے والے ایک اور حربہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ "منٹو کو پڑھنے کے لیے دماغ میں کچھ ہونا چاہیے!" یعنی جس جس نے منٹو کے زمانے میں اس پر تنقید کی اس کا دماغ خالی تھا! ہمارے دوست منظر نقوی نے منٹو پر بہت عمدہ رائے دی۔
منٹو کا مقام اردو ادب میں ضرور ہے، لیکن میرے نزدیک بہت بلند نہیں۔ وہ غلام عباس، احمد ندیم قاسمی، اسد محمد خان، پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، رحمان مذنب، سید رفیق حسین اور بلونت سنگھ جیسے افسانہ نگاروں سے اوپر کسی صورت نہیں۔
منٹو کے حامی اس کی عظمت کی ایک بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ وہ باغی تھا، سماج سے بغاوت کرتا تھا، روایت کو توڑتا تھا اور اپنے عہد کی تشکیلِ نو کر رہا تھا۔ اگر صرف باغی ہونا ہی عظمت کی دلیل ہے تو پھر چاہت فتح علی خان کو بھی موسیقی کا بڑا انقلابی ماننا چاہیے۔ وہ بھی موسیقی میں ایسی ردِ تشکیل کر چکا ہے کہ شاید اسے نصرت فتح علی خان سے بھی اوپر جگہ دینی پڑے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ادیب کتنا باغی تھا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی بغاوت کتنے بڑے فن میں تبدیل ہوئی۔