جیمز جوائس کے شہرۂ آفاق ناول یولیسس کا اردو ترجمہ یقیناً رواں صدی کا سب سے بڑا ادبی معجزہ ہے۔ یہ کارنامہ کسی عام مترجم کے بس کی بات نہ تھی۔ اس کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ادبی دنیا کے مروجہ اصولوں سے آزاد ہو اور خوش قسمتی سے یہ وصف صرف انور سین رائے صاحب میں پایا جاتا ہے۔
رائے صاحب کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا شخص یہ ترجمہ کر سکتا، کیونکہ اس کے لیے پہلے یولیسس کو انگریزی میں پڑھنا پڑتا۔ رائے صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس غیرضروری مرحلے کو ہمیشہ نظرانداز کیا۔
وہ بچپن سے انگریزی کو اردو کی طرح پڑھتے آئے ہیں، اس لیے انہیں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ دونوں زبانیں الگ الگ بھی ہوتی ہیں۔ چنانچہ لڑکپن میں انہوں نے یولیسس کا اردو ترجمہ کرنے کا عزم کیا، پہلے اسے اردو میں سمجھا، پھر اردو ہی میں اس کا ترجمہ کر ڈالا۔
اس تاریخی منصوبے پر انہوں نے ستر اسی برس صرف کیے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑے کام جلدی میں نہیں ہوتے۔
ترجمہ مکمل ہونے کے بعد بھی رائے صاحب اسے منظرِ عام پر لانے کے حق میں نہ تھے۔ وہ اسے سینے میں محفوظ رکھنا چاہتے تھے، شاید آئندہ نسلوں کے لیے۔ مگر پھر معروف گائناکولوجسٹ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میدان میں آئیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اتنا بڑا علمی سرمایہ عوام تک پہنچنا چاہیے۔
رائے صاحب نے ان کی بات مان لی اور یوں جہلم بک کارنر کو یہ تاریخی سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے یہ ترجمہ شائع کیا، حالانکہ اسے بخوبی معلوم تھا کہ ہمارے ہاں کتاب خریدنے سے زیادہ مفت حاصل کرنے کا رواج ہے۔
ترجمہ اس قدر رواں، شستہ اور آسان ہے کہ میری آٹھ سالہ بیٹی نے اسے ایک ہی نشست میں ختم کر لیا۔ اب اس کا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کی ہر دوسری کتاب بچگانہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ آج کل اصل انگریزی یولیسس پڑھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ معلوم کر سکے کہ مترجم نے آخر کن مقامات پر مصنف کی اصلاح کی ہے۔
کتاب کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ملک کے تقریباً تمام ممتاز ادیب، شاعر، نقاد اور دانشور اس کے ساتھ تصویریں بنوا چکے ہیں۔ بعض نے تو احتیاطاً کتاب ہاتھ میں کھول کر تصویر بنوائی تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ انہوں نے صرف سرورق دیکھا تھا۔
تازہ ترین فوٹو سیشن امریکہ میں مقیم صحافی، محقق، مورخ، کالم نویس، پروڈیوسر، انفلوئنسر اور ہمہ جہت شخصیت مبشر زیدی صاحب کے ساتھ ہوا، جسے رائے صاحب نے بجا طور پر فیس بک پر بڑے فخر سے شیئر کیا۔ اس تصویر کے بعد کتاب کی ادبی حیثیت مزید مستحکم ہوئی یا نہیں، البتہ فیس بک کی ٹائم لائن ضرور مستحکم ہوگئی۔
میری ناقص رائے میں یولیسس کے اردو ترجمے کی کامیابی دو مرحلوں میں مکمل ہوگی۔
پہلا مرحلہ فوٹو سیشن، تقریباتِ رونمائی، تعریفی نشستوں، شیلڈوں، گلدستوں اور فیس بک پوسٹوں کا ہے۔ یہ مرحلہ کامیابی سے جاری ہے، اگرچہ ابھی ملک کے چند دور افتادہ اضلاع میں تصویریں بنوانا باقی ہیں۔
دوسرا مرحلہ کتاب پڑھنے کا ہے۔ اس میدان میں فی الحال میری آٹھ سالہ بیٹی سب سے آگے ہے۔ اب وہ اس پر تحقیقی مقالہ بھی لکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امید ہے اس کے بعد دوسرے قارئین بھی ہمت کریں گے۔
اس ترجمے کا سب سے گہرا اثر ہمارے دوست محمد عامر حسینی پر ہوا۔ جونہی رائے صاحب کا ترجمہ منظرِ عام پر آیا، حسینی صاحب کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون غائب ہوگیا۔ آخرکار انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ وہ یولیسس کا ایک اور اردو ترجمہ کریں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اردو ادب میں اب یولیسس کے تراجم کی نئی فصل اگنے والی ہے۔ ابھی یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس نئے ترجمے کا ناشر کون ہوگا، لیکن خدشہ ضرور ہے کہ کہیں اردو ادب دو بڑے مکاتبِ فکر میں تقسیم نہ ہو جائے: ایک رائے مکتبِ فکر، دوسرا حسینی مکتبِ فکر۔
ہم انور سین رائے صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ ان کا یولیسس کامیابی سے فوٹو سیشن، رونمائیوں اور تعریفی تقاریب کے مراحل طے کر رہا ہے اور محمد عامر حسینی صاحب کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی اپنا ترجمہ مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اردو کے قاری ایک ہی ناول کے تراجم پڑھتے پڑھتے اصل ناول پڑھنے کی غلطی نہ کر بیٹھیں۔