دامنِ چاک کو سینے کا ہنر رکھتے ہیں
ہیں جو خاموش، قرینے کا ہنر رکھتے ہیں
گرچہ خالی ہے تری بزم میں اپنا یہ ایاغ
ہم مگر آنکھ سے پینے کا ہنر رکھتے ہیں
آسمانوں سے ہماری تو کبھی بن نہ سکی
ہر ستم زار میں جینے کا ہنر رکھتے ہیں
تھی اماوس کی گھنی رات مگر آنکھوں میں
اشکِ خوں اپنے نگینے کا ہنر رکھتے ہیں
سوچ کی لمبی مسافت میں ٹہر کر اک پل
خواب جیسےمئے و مینے کا ہنر رکھتے ہیں
اک سمندر کہ جو گہرا ہے ابد کی مانند
دل کے سب راز دفینے کا ہنر رکھتے ہیں