1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. چاندنی رات میں رم جھم کو گھٹا کہتے ہیں
Shaista Mufti

چاندنی رات میں رم جھم کو گھٹا کہتے ہیں

چاندنی رات میں رم جھم کو گھٹا کہتے ہیں
وقت چلتے ہوئے تھم جائے تو کیا کہتے ہیں

ہم بھلا تم سے خفا؟ کیسے؟ کہاں ممکن ہے؟
یونہی دشمن نے اڑائی ہے ہوا کہتے ہیں

ایک الجھن مری آنکھوں میں کہیں ہے پنہاں
خود ہی پڑھ لو مرا پیغامِ وفا کہتے ہیں

ہاتھ سے جام گرا، پھول گرے، اور پھر دل
تم جو پوچھو ہو، بتاتے ہیں حیا کہتے ہیں

ہم نے اک عمر گزاری ہے ترے رستے میں
ایک آہٹ سی سنی ہے کہ دعا کہتے ہیں

دل ہے ویران اداسی سی بچھی ہے ہر سو
رنگ موسم نے جو بدلی ہے ادا کہتے ہیں

بات تو سچ ہے کہ آنکھوں میں بسے ہو تم ہی
کون کہتا ہے کہ ہم اس کو خطا کہتے ہیں