1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. ڈھونڈ آتے ہیں کوئی لال وگہر پانی میں
Shaista Mufti

ڈھونڈ آتے ہیں کوئی لال وگہر پانی میں

ڈھونڈ آتے ہیں کوئی لال وگہر پانی میں
آزماتے ہیں چلو اپنا ہنر پانی میں

دل میں طوفاں سے الجھنے کا سمایا سودا
ڈوب جائے نہ کہیں اپنا ہی گھر پانی میں

ایک کشتی ہے، سمندر ہے، اکیلے ہیں ہم
کس طرح ختم کریں اپنا سفر پانی میں

پیاس اگتی ہے امر بیل کی مانند یہاں
یاد آتا ہے ہمیں اپنا شجر پانی میں

آنکھ یوں ڈوب کے ابھری ہے تری یادوں سے
جس طرح کوئی بسایا ہو نگر پانی میں

کس عقیدت سے برستا ہے برستا پانی
جیسے تریاق کا رکھا ہو اثر پانی میں