1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. یہ دریا کی روانی کی غزل ہے
Shaista Mufti

یہ دریا کی روانی کی غزل ہے

یہ دریا کی روانی کی غزل ہے
جوانی میں جوانی کی غزل ہے

برستا ہے کہیں زوروں سے ساون
گھٹا اور آگ پانی کی غزل ہے

کسی انجام کی پرواہ نہیں اب
بہت منہ زور پانی کی غزل ہے

نہ جانے تم سمجھ پاو نہ سمجھو
مرے دل کی کہانی کی غزل ہے

جہاں ہر رنگ تھا رنگ تغزل
بلا کی رت سہانی کی غزل ہے

چھلک جائیں نہ آنکھیں اشک تر سے
وفا کے دور فانی کی غزل ہے

کہانی سنتے سنتے سو گئی ہوں
اسی چندا کی نانی کی غزل ہے