1. ہوم
  2. غزل
  3. شائستہ مفتی
  4. گلے کرنے سے کوئی غم کبھی بھی کم نہیں ہوتا
Shaista Mufti

گلے کرنے سے کوئی غم کبھی بھی کم نہیں ہوتا

گلے کرنے سے کوئی غم کبھی بھی کم نہیں ہوتا
یہ وہ دریا ہے جس میں ڈوب جائیں نم نہیں ہوتا

مسلسل ایک ہی موسم ہے میرے شہر کا موسم
خوشی سے غم ملے، غم سے خوشی مدغم نہیں ہوتا

وہ میرے ساتھ رہتا ہے، نہیں میرا نہیں پھر بھی
وہ میرا حال سنتا ہے مگر محرم نہیں ہوتا

اداسی پھر مرے آنگن میں چپکے سے چلی آئی
ہوائیں سر پٹکتی ہیں کوئی ماتم نہیں ہوتا

مرے دل میں دیئے جلتے ہیں جانے کس لئے ہمدم
اجالا ہو بھی جائے تو اندھیرا کم نہیں ہوتا

میں گر کر خود سنبھلتی ہوں، کوئی آگے نہیں بڑھتا
تری بستی میں جانے کیوں کوئی آدم نہیں ہوتا