گلے کرنے سے کوئی غم کبھی بھی کم نہیں ہوتا
یہ وہ دریا ہے جس میں ڈوب جائیں نم نہیں ہوتا
مسلسل ایک ہی موسم ہے میرے شہر کا موسم
خوشی سے غم ملے، غم سے خوشی مدغم نہیں ہوتا
وہ میرے ساتھ رہتا ہے، نہیں میرا نہیں پھر بھی
وہ میرا حال سنتا ہے مگر محرم نہیں ہوتا
اداسی پھر مرے آنگن میں چپکے سے چلی آئی
ہوائیں سر پٹکتی ہیں کوئی ماتم نہیں ہوتا
مرے دل میں دیئے جلتے ہیں جانے کس لئے ہمدم
اجالا ہو بھی جائے تو اندھیرا کم نہیں ہوتا
میں گر کر خود سنبھلتی ہوں، کوئی آگے نہیں بڑھتا
تری بستی میں جانے کیوں کوئی آدم نہیں ہوتا