نکلا ہوں جس کو ڈھونڈنے میں تیرگی بدست
آیا تو ہے وہ میری طرف روشنی بدست
اس آگہی نے کر دیا بے دست و پا مجھے
لگتا ہوں دیکھنے میں یوں میں ابلہی بدست
شاید کہیں سے بھیک ملے نور کی مجھے
آنکھوں میں خاک اور میں تیرہ شبی بدست
تیرے خدا نے لکھا ہے میرے نصیب میں
صحرا میں کوئی قیس ہو، آوارگی بدست
اس چاک پیرہن کی میں روداد کیا کہوں
لرزاں ہے یہ بدن پہ مرے مفلسی بدست
پنہاں رہے وصال میں اک ہجر کا بھی داغ
بیٹھا ہے خوش جمال وہ یوں بے رخی بدست
باتوں پہ اب کسی کی نہ کرنا یقین تم
جو بھی یہاں ملے گا وہ اپنی خودی بدست
مجھکو کھرل یہ شوق وہ پھر سے نظر کرے
وہ گل بدن جو پاس رہا تھا کلی بدست