ایک وحشت ہے کہ جو ہم نے روا رکھی ہے
خود میں اک آتشِ نمرود جلا رکھی ہے
کوئی امید نہیں ہے ترے آنے کی مگر
پھر بھی اک آس جو آنکھوں میں سجا رکھی ہے
تاکہ جلتا رہے شعلہ مرے دل کے اندر
آتی جاتی ہوئی سانسوں میں ہوا رکھی ہے
خوف کا بت ہے کہ چرنوں میں مسلسل جس کے
اپنے بچوں کی بلی ہم نے چڑھا رکھی ہے
میرے سب زخم کہ ناسور ہوئے جاتے ہیں
اور ترے ہاتھ میں قدرت نے شفا رکھی ہے