1. ہوم
  2. غزل
  3. عمران کھرل
  4. تاروں کی ہیں مجالس کہنے کو کہکشاں ہے
Imran Kharal

تاروں کی ہیں مجالس کہنے کو کہکشاں ہے

تاروں کی ہیں مجالس کہنے کو کہکشاں ہے
ہیں جستجو میں نظریں وہ دلربا کہاں ہے

جو لکھ رہے ہیں حاکم میرے لہو سے ہر پل
شمر و یزید بن کر، کیسی یہ داستاں ہے

لاشوں پہ چل رہے ہیں با اندازِ خسرواناں
جیسے زمیں کی صورت قدموں میں آسماں ہے

گلیوں میں پھر رہے ہیں خنجر بدست قاتل
اور ڈھونڈتے ہیں اُس کو جو صاحبِ زباں ہے

یہ کذب کا ہے مندر، ہیں جھوٹ کے پجاری
ظاہر جو ہے چراغاں، وہ راکھ ہے دھواں ہے