تاروں کی ہیں مجالس کہنے کو کہکشاں ہے
ہیں جستجو میں نظریں وہ دلربا کہاں ہے
جو لکھ رہے ہیں حاکم میرے لہو سے ہر پل
شمر و یزید بن کر، کیسی یہ داستاں ہے
لاشوں پہ چل رہے ہیں با اندازِ خسرواناں
جیسے زمیں کی صورت قدموں میں آسماں ہے
گلیوں میں پھر رہے ہیں خنجر بدست قاتل
اور ڈھونڈتے ہیں اُس کو جو صاحبِ زباں ہے
یہ کذب کا ہے مندر، ہیں جھوٹ کے پجاری
ظاہر جو ہے چراغاں، وہ راکھ ہے دھواں ہے