"ٹکڑے چُنتے ہوئے سوچا ہے یہ پیمانے کے"
کہاں جائیں گے، مجاور جو ہیں میخانے کے
مجھ کو روٹی بھی ملے اور یہاں امن بھی ہو
خواب تو دیکھو ذرا شہر کے دیوانے کے
اُس کو جلنے کی تمنا تو نہیں ہے ہرگز
سر میں سودا ہے سمایا کوئی پروانے کے
مجھکو مسجد سے نکالا یہاں کافر کہہ کر
پاس جانے نہیں دیتے مجھے بت خانے کے
چشمِ ساقی سے گرا جو وہ کہیں کا نہ رہا
کب تُو سیکھے گا ضوابط ہیں جو میخانے کے
آبِ کوثر ہو مبارک تجھے مُلا صاحب
پھول پانی کو ترستے رہے ویرانے کے
اس لیے شب کو جلاتا ہوں میں لفظوں کے چراغ
وہ کرے یاد ہمیں بعد میں مر جانے کے
تیری فطرت سے جنوں اور بغاوت ہے عیاں
تم سمجھنے کے ہو اب اور نہ سمجھانے کے