صبح خنداں سے نکل کر شبِ رقصاں میں چلو
ساغر و بادہ بکف، محفلِ رنداں میں چلو
سفرِ زیست میں ہر گام پہ یہ راز کُھلا
تیشہِ علم اٹھا، عالمِ امکاں میں چلو
عمر تھوڑی ہے مگر شوقِ سفر بھی ہے ہنوز
پابجولاں ہی سہی، شہرِ نگاراں میں چلو
ایک مدت سے نہیں ہے کوئی رندوں کی خبر
اس بہانے ہی سہی، کوچۂِ عصیاں میں چلو
چھوڑ کر حالِ دلِ زار میں یادوں کے مزار
بھولنے کو اُسے، اک اور شبستاں میں چلو
سوچ لو، عزم بغاوت کا سلامت ہے اگر
توڑ کر خوف کے بُت، کوئےِ شہیداں میں چلو
حاکمِ وقت کا فرمان یہ آیا ہے کھرل
سر اٹھانے کی سزا یہ ہے کہ زنداں میں چلو