یہ پہلی بار تھا کہ غزالہ نے اسے دن کے اجالے میں بلایا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھری دوپہر میں بلایا۔ شام چھ بجے بلایا تھا۔ شدید گرمیوں میں سورج اگر سوا نہیں تو ڈھائی نیزے پر تو ضرور ہی محسوس ہوتا۔ آج جب وہ غزالہ کے گیٹ پر پہنچا تو مالی نے اس کا استقبال کیا۔ مالی کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ وہ اسے لاونج تک لے کر آئی۔ اسے ٹھنڈے پانی کا گلاس پیش کیا۔ اس اگوہرء میں غزالہ گھر کے بیک ڈور سے اندر آئی۔
"میرا تو چائے پینے کا موڈ ہے۔ تم پیو گے؟" اس نے شہباز کو دیکھتے ہی پوچھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ گھر میں چائے کا ذکر ہوا۔ ورنہ بات "کچھ اور" سے ہی شروع ہوا کرتی۔
اس نے بھی چائے کے لئے ہاں کر دی۔ اگر حبس نہ ہوتا تو وہ لان میں بیٹھ کر چائے پیتا۔ اندر اے سی کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بہت مزا دی رہی تھی۔
"آج پہلی بار چاند غروب آفتاب سے پہلے نکل آیا!" شہباز بولا۔
"تمہارا جنرل نالج بہت کمزور ہے۔ چاند اکثر دن میں بھی نظر آتا ہے"۔
"مجھے معلوم ہے ڈارلنگ۔ میں تو محاورۃً کہہ رہا تھا۔ تم نے اپنے غلام کو دربار میں ہمیشہ رات کے اندھیرے میں ہی طلب کیا۔ اس لئے پوچھ رہا تھا۔ اس چینچ آف پلان کی وجہ؟ شہباز نے پوچھا۔
"تم کرونا میں سیر کرو گے؟" غزالہ نے اسکے سوال کا جواب دینے کے بجائے اسے ایسی پیشکش کر دی جو وہ کسی صورت ٹھکرا نہیں سکتا تھا۔
"کیوں نہیں! اٹھو۔۔ "
"اتنی جلدی بھی کیا ہے! چائے تو آنے دو"۔
"نہیں۔۔ چائے آکر پی لیں گے۔ بلکہ کافی پیتے ہیں۔۔ باہر"۔ شہباز نے کہا۔
غزالہ نے چابی شہباز کے ہاتھ میں تھما دی۔ سب سے پہلے شہباز نے گاڑی کا بونٹ دیکھا۔ انجن وہی پرانا تھا۔ گاڑی ایک ہی سیلف میں سٹارٹ ہوگئی۔ اس پر غزالہ نے اسکی معلومات میں اضافہ کرتے کہا کہ یہ آخری بار پندرہ دن پہلے سٹارٹ ہوئی تھی۔ اسکے تین گئیر تھے اور ایک ریورس۔ شہباز نے اسے چلایا تو ایسے لگا کہ کہ سسپینشن کسی فور بائی فور جیپ کا ہے۔ کوئی شور نہیں۔ کوئی کھٹ پٹ نہیں۔ سپیڈ بریکر پر چپک جاتی۔ راستے میں کچھ جگہوں پر کھڈے آئے تو کوئی جھٹکہ محسوس نہ ہوا۔ انجن پرانا۔ سسٹم کاربوریٹر والا۔ رئیر وہیل ڈرائیو۔ مگر گاڑی ساونڈلیس۔ آرام دہ سیٹیں۔ ڈیش بورڈ چمکتا ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ شو روم سے ابھی ابھی نکل کر آئی ہے۔
"یہ میرے والد کی ہے۔ انہوں نے امپورٹ کی تھی۔ بہت خیال رکھتے تھے۔ افضال بھی پاپا کی طرح اس کا خیال رکھتا ہے۔ دس پندرہ دن میں ایک بار ہی نکالتا ہے اسے۔ بس تین چار کلومیٹر کا چکر لگا کر واپس پارک کر دیتا ہے"۔ غزالہ نے اسکی دلچسپی دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں اسے خریدنا چاہتا ہوں"۔
"اگر میں اسے بیچنے جاؤں تو کوئی لاکھ روپے بھی نہ بھرے۔ لیکن اگر تم خریدنا چاہو تو افضال دس کروڑ میں بھی نہیں دے گا۔ وہ بات اور کہ کسی بات پر خوش ہو کر تمہیں ویسے ہی گفٹ کر دے"۔ غزالہ نے کہا۔
ایسا کیا ہے جو اسے خوش کر دے؟" شہباز نے پوچھا۔
"مانوں تو کچھ بھی نہیں۔ نہ مانوں تو بہت کچھ!" غزالہ نے کہا۔
"تم نے پھر فلسفہ بولنا شروع کر دیا۔ تمہیں بات اشاروں میں کنایوں میں رمزوں میں کرنے کا شوق ہے۔ بھئی تم بہت بڑی افلاطون ہو"۔
اتنی دیر میں وہ دونوں "ڈیزرٹ کافی ہاؤس" پہنچ چکے تھے۔ یہ بہت مشہور برانڈ تھا۔ ساری دنیا میں اس کی شاخیں تھیں۔ بلیک کافی ہی دونوں کی پسندیدہ تھی۔ سو وہ ہی آرڈر کی گئی۔
"تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس کے علاوہ اور کئی سوالوں کا جواب نہیں دیا"۔ شہباز نے کہا۔
"ابھی کس سوال کا جواب چاہیے؟"
"آج دن کی روشنی میں کیوں یاد کیا؟"
"بھئی آج تمہیں یوں بلایا کہ کرونا میں سیر کرانی تھی۔ رات کو اسے نکالنا ٹھیک نہیں۔ پرانی گاڑی ہے۔ کسی بھی وقت خراب ہو سکتی ہے۔ تمہیں برا لگا تو آئندہ آدھی رات کے بعد ہی بلاؤں گی!"
"نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ اصل میں مجھے اچھا لگا"۔ شہباز نے کہا۔ وہ دن کے اجالے میں بھی اتنی ہی حسین لگ رہی تھی جتنی رات کی تاریکی میں لگا کرتی تھی۔ آج اس نے بال کس کر جوڑے کی شکل میں پیچھے باندھے ہوئے تھے۔ مشرقی حسن کا بہترین نمونہ لگ رہی تھی۔ کاش وہ اسکی۔۔
"کیا سوچ رہے ہو مسٹر؟"
"کاش تم میری بیوی ہوتیں! یہ سوچ رہا ہوں"۔
"لو پھر عشق کا بھوت چڑھ گیا۔۔ وہی پرانا راگ۔۔ باسی کڑاھی میں ابال!" مذاق اڑاتے غزالہ نے کہا۔
"تم کیوں مجھے اپنی بیوی کے روپ میں سوچتے ہو؟ میں وفاشعار عورت نہیں۔ میں ان سیسٹ کی وکٹم ہوں۔ ایسی عورت سے کیوں شادی کرنا چاہتے ہو؟" غزالہ نے پوچھا۔
"شاید پیار اندھا ہوتا ہے! یقین مانو اگر تمہاری جگہ کسی اور عورت کا یہ بیک گراونڈ ہوتا اور بھلے وہ تم سے بھی زیادہ حسین ہوتی، میں ہرگز اسے اپنی شریک حیات نہ بناتا"۔ شہباز نے اسے اپنی محبت کی سچائی کا یقین دلاتے کہا۔ نہ جانے کیوں اسے اسکی روح سے پیار ہوتا جا رہا تھا۔
"تمہیں میرے جسم سے پیار ہے شہباز۔ میں تمہیں کبھی کبھی ملتی ہوں۔ اپنی شرائط پر ملتی ہوں۔ میں تمہیں ڈومینیٹ کرتی ہو اپنی اداؤں سے۔ تمہیں مجھ میں ایک امراو جان یا ماتا ہری نظر آتی ہے۔ پھر میری جیون کہانی بے حد انہونی ہے۔ یہ سب مل کر ایک بارہ مصالحے کی چاٹ تیار کردیتے ہیں۔ ہر کوئی پسند کرے گا اسے۔ تم ایک لکھاری ہو۔ تمہیں میری کہانی میں سب کچھ نظر آتا ہے۔ سسپنس، تھرل، فلسفہ، رومانس، سیکس، ان سیسٹ، ایڈوینچر۔۔ سب کچھ۔ شاید اتنا کچھ ایک بہترین فلم میں بھی اکٹھا نہ ملے۔
تم ایک تجسس سے بھرپور رائٹر ہوں۔ یقین مانو جتنا تم نے ابھی تک مجھے ایکسپلور کیا وہ سب فریب ہے۔ تم مجھے ذرہ برابر بھی ایکسپلور نہ کر سکے۔ جب تم پر میری حقیقت کھلے گی حیران اور پریشان رہ جاؤ گے۔ ایسے جیسے کسی بھرے میلے میں تم اور میں مضبوطی سے ہاتھوں میں ہاتھ تھامے چل رہے ہو۔ شانے سے شانہ چھل رہا ہو۔ پلک چھپکتے میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ سے چھوٹ جائے۔ صرف پل بھر کے لئے اور میں غائب ہو جاؤں۔ تم مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے پیاس سے نڈھال ہو جاؤ۔ گر پڑو اور اسی حالت میں بے ہوش ہو جاؤ اور اگر ہوش آئے تو تم کسی ایمرجنسی وارڈ میں پڑے ہو۔ تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ ڈاکٹرز تمہیں نفسیاتی مریض قرار دے کر کسی اسائلم میں بھیج دیں۔ کوئی تمہیں ٹھیک نہ کر سکے۔ ترس کھا کر میں دوبارہ تمہارے پاس آؤں۔ صرف میں ہی تمہاری مسیحا بنوں اور یہ سچے فریب اور سراب کا کھیل پھر سے شروع ہو جائے اور ایک بار پھر اسی طرح ختم ہو جائے اور اسکے بعد پھر اسی طرح شروع ہو جائے اور اسطرح یہ تاحیات چلتا رہے!"
"اچھا آج ایک اور بھید کھلا مجھ پر۔ تم فلسفی ہونے کے علاوہ بہترین ڈرامہ نگار بھی ہو۔ یہ جو تم نے پلاٹ گھڑا اپنے دماغ میں، اسے تم اگر کسی ڈائریکٹر سے شئیر کرو تو وہ جھٹ سے ایک بہترین فلم بنا دے گا"۔ شہباز نے کہا۔
"تم پر ایک بار پھر پھر غلط بھید کھلا۔ مجھے لکھنا بالکل نہیں آتا۔ میرا مطلب تخلیقی کام سے ہے۔ میں نے تمہیں جو کچھ بھی بتایا، حرف بہ حرف سچ بتایا۔ میں ہوں اور نہیں بھی ہوں۔ میں اس وقت ہوں۔ کچھ دیر بعد نہیں ہونگی"۔ غزالہ نے کہا۔
"پھر گھسا پٹا فلسفہ۔ بھئی انسان فانی ہے۔ موت اٹل ہے۔ میں ابھی زندہ ہوں۔ تمہارے سامنے ہوں۔ ہو سکتا ہے سڑک پار کرتے کسی گاڑی سے ٹکرا جاؤں اور مر جاؤں۔ تو پھر یہ ثابت ہوا کہ میں ہوں اور نہیں بھی ہوں۔ میں ہوں اور کچھ دیر بعد نہیں ہونگا!" شہباز نے کہا۔
"تمہیں سمجھانا بے کار ہے۔ تم صرف وہ ہی دیکھ سکتے ہو جو نظر آرہا ہے۔ تمہاری تیسری آنکھ نہیں کھلی اب تک۔ میری جنم لیتے ہی کھل چکی تھی۔ میں وہ دیکھ سکتی ہوں جو تمہیں نظر نہیں آ سکتا۔ اس بحث کو چھوڑو"۔ غزالہ نے کہا۔
جاری ہے۔۔