1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. پراسرار عورت (3)
Mohammad Shehzad

پراسرار عورت (3)

"آج آ سکتے ہیں آپ؟"

"سوری، میں پہچانا نہیں۔ آپ کون بات کر رہے ہیں؟ شہباز نے پوچھا۔

"افضال بول رہا ہوں۔ غزالہ کا شوہر۔۔ "

افضال کے فون نے اسے اچنبھے میں ڈال دیا۔ ایسی کیفیت غزالہ کے فون کرنے پر نہ ہوتی۔ "یہ کیوں فون کر رہا مجھے؟" وہ سوچ رہا تھا۔

"کوئی خاص بات ہے کیا؟" شہباز نے افضال سے کہا۔

"آپ جب بھی ہمارے گھر تشریف لائے، کبھی عام بات بھی دیکھنے کو ملی؟" افضال نے پوچھا۔

"آپ درست فرما رہے ہیں"۔ شہباز بولا۔

"دراصل لاسٹ ٹائم جب آئے تو میں آپ سے مل نہ سکا۔ شہر سے باہر تھا۔ آج فرصت تھی سوچا آپ کو گپ شپ کے لئے بلا لیا جائے"۔ افضال بولا۔

"آپ اکیلے۔۔ "

"جی نہیں میری وائف بھی ہونگی"۔ افضال کو جیسے علم تھا کہ شہباز یہ ضرور پوچھے گا کہ غزالہ گھر پر ہوگی یا نہیں۔ اسی لئے اس نے اس کی بات کاٹ دی اور بتا دیا کہ وہ بھی ہوگی۔

"آپکی وائف۔۔ مطلب۔۔ کون؟" شہباز کا دماغ بری طرح الجھ چکا تھا۔

"غزالہ اور کون؟ آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے؟

"جی۔۔ سوری۔۔ میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔ تو کوئی خاص بات جو آپ دونوں ملنا چاہ رہے ہیں؟" شہباز نے پوچھا لیکن جواب نہ آیا۔ وہ بار بار ہیلو ہیلو کر رہا تھا اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ کہیں فون کٹ تو نہیں گیا۔ چند لمحوں بعد آواز آئی مگر افضال کی نہیں غزالہ کی!

"تمہیں آنے میں کیا تکلیف ہے؟ کیوں سوال پہ سوال کیے جا رہے ہو؟ میں ہونگی گھر پر!"

"میں ہونگی!" بس یہ ہی اک جملہ شہباز سننا چاہتا تھا۔

"دس بجے پہنچ جانا۔ وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہن کر آنا۔ میں انتظار کرونگی!" غزالہ نے ڈریس کوڈ بھی لاگو کر دیا۔

"تم کیا پہنوں گی؟"

"تم کیا چاہتے ہو؟"

"جو تمہاری مرضی۔ تم ہر روپ میں حسین لگتی ہو!"

"میں یا بالکل ننگی ہونگی یا طالبان والا شٹل کاک برقعہ پہنوں گی!" غزالہ ہنس دی اور یہ سن کر وہ بھی ہنس دیا۔

شہباز مقررہ وقت پر دونوں کے گھر پر تھا۔ افضال نے اسکا استقبال کیا۔ دونوں لاونج میں بیٹھے اپنے اپنے ڈرنک کا مزہ لینے کے علاوہ ادھر ادھر کی باتیں بھی کر رہے تھے۔ اچانک افضال نے ایک عجیب سا سوال داغ دیا۔

"آپ پورن فلمیں دیکھتے ہیں؟"

"میرے خیال میں کون نہیں دیکھتا۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں مگر مجھے صرف پورنوگرافی اچھی نہیں لگتی۔ آجکل کی ان فلموں میں کوئی پلاٹ نہیں ہوتا۔ کوئی اداکاری نہیں ہوتی۔ کوئی بیک گراونڈ میوزک نہیں ہوتا۔ صرف اور صرف سیکس اور اس میں بھی لوپ کے ذریعے ریپےٹیشن۔ بہت بور کرتی ہیں یہ فضولیات"۔ شہباز نے کہا۔

"میرے بھی کچھ ایسے ہی خیالات ہیں۔ آپکو معلوم ہے جب ڈیپ تھروٹ سنیما پر لگی تھی تو جیکولین کینیڈی اسے دیکھنے آئی تھی۔ کیا آج کل کی کسی پورنوگرافک فلم کو کوئی خاتون اول دیکھنے آئے گی سنیما پر؟" افضال بولا۔

"ہر گز نہیں۔۔ جی مجھے معلوم ہے کینیڈی کی بیوی لنڈا لولینس کی ڈیپ تھروٹ دیکھنے سنیما گئی تھی۔ لیکن وہ سکرپٹ کے لحاظ سے خاصی کمزور فلم تھی۔ اس حساب سے کیلی گولا کمال کی فلم تھی گو کہ وہ پورنوگرافگ فلم نہیں۔ لیکن گرافک سیکس نے اسے پورنوگرافی میں ڈھال دیا"۔ شہباز نے کیا۔

"آپ درست کہہ رہے ہیں۔ اگر کیلی گولا سے ایکسپلٹ سیکس نکال دیا جائے تو زبردست ہسٹری فلم ہے"۔ افضال بولا۔

"میرے نزدیک بہترین پورن فلموں کا زمانہ ستر کا ہی تھا۔ کچھ اسی کی ابتدا تک اچھی فلمیں بنیں اسکے بعد صرف کچرا پروڈیوس ہوا۔ آپکی فیورٹ پورن ایکٹریس کون ہے؟" شہباز نے افضال سے پوچھا۔

"مجھے اینت ہیون، برجت مونت، جارجینا سپیل ون، سیکا اور کے پارکر پسند ہیں۔ اپنی غزالہ تو بالکل اینت ہیون ہے۔ کیا خیال ہے آپکا؟"

"جی واقعی یہ تمام بہترین اداکارائیں تھیں اپنے وقت کی"۔ شہباز کہتا ہے۔

"میں غزالہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں!"

"کیا؟"

"وہ بالکل اینت ہیون نہیں لگتی؟"

"شکل و صورت سے تو نہیں لگتی!"

"باڈی، شیپ اور فگر تو بالکل ویسا ہی ہے نا؟" افضال نے شہباز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔

"غزالہ اینت ہیون سے ہزار گناہ زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے!" شہباز نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔ اس لمحے وہ شدت سے غزالہ کو یاد کر رہا تھا۔ افضال نے اس کی بات کے جواب میں ایک شیطانی قہقہہ بلند کیا۔

"بہت قہقہہے لگ رہے ہیں۔ کونسا لطیفہ ہے اور کس نے سنایا ہے۔ ہمیں بھی سناؤ!" غزالہ نے سیڑھیوں سے اترتے لاونج میں آتے کہا۔

"بھئی ہم فلموں کا ذکر کر رہے تھے۔ اپنے شہباز صاحب اس معاملے میں ہم جیسا ہی ذوق رکھتے ہیں"۔ افضال بولا۔

"کتنی فلمیں دیکھی ہونگی آپ نے اب تک؟" غزالہ نے شہباز سے پوچھا۔

"گنتی تو نہیں کی۔ سیکنڑوں میں ہونگی"۔

"لیکن جو فلم آج ہم آپکو دکھائیں گے اور جس کے لئے ہم دونوں نے یہ میٹنگ رکھی ہے، آپکے ہوش اڑا دیگی۔ آپ بےشک شرط لگا لیں ایسی فلم آپ نے زندگی میں نہ دیکھی ہوگی"۔ غزالہ نے کہا۔

آج وہ روایتی شلوار قمیض میں تھی۔ گلے میں دوپٹہ بھی تھا۔ اس مشرقی حلیے میں وہ کسی افسانوی کردار کی شبہیہ پیش کر رہی تھی۔

"ایسی کونسی فلم ہوگی جو میں نے نہ دیکھی ہو؟ اگر دیسی ہے تو پھر مان سکتا ہوں۔ دراصل مجھے دیسی فلمیں تو بے کار لگتیں ہیں۔ اکا دکا بھارتی فلمیں اچھی ہیں۔ اسکے علاوہ سب مال فارمولا ہے۔ فلم تو گورا بناتا ہے"۔ شہباز نے جواب دیا۔ غزالہ ابھی تک کھڑی ہوئی تھی۔

"آپکا اندازہ درست ہے۔ یہ لوکل فلم ہے۔ ایک بار یہ دیکھ لی تو باقی سب فلمیں بھول جائیں گے"۔ افضال کہتا ہے۔

"اب تو میرے تجسس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں واپسی پر آپ سے وڈیو لے جاؤنگا اور آج ہی دیکھ لوں گا"۔ شہباز نے کہا۔

"وڈیو دینا ناممکن ہوگا۔ البتہ آپ ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہیں دیکھ سکتے ہیں"۔ افضال بولا۔

"جی میں سمجھ سکتا ہوں۔ لوگ خراب کر دیتے ہیں یا واپس نہیں کرتے۔ میرے ساتھ بھی کئی بار ایسا ہوا۔ کوئی دوست کتاب یا وڈیو لے گیا۔ اول تو واپس ہی نہیں کریگا اور اگر کر بھی دی تو تباہ حال میں"۔ کتابوں پر لکیریں، صفحے پھٹے ہوئے اور فلم کا پرنٹ تباہ۔ کوئی بات نہیں یہیں دیکھ لینگے کسی دن"۔ شہباز نے کہا۔ وہ فلم دیکھنے تو آیا نہیں تھا۔ وہ تو اس حسن کی دیوی کی پوجا کرنے آیا تھا جو اسکے سامنے کھڑی تھی۔

"کسی دن نہیں۔ آپ آج ہی دیکھیں گے ہمارے ساتھ۔ بلکہ اسی وقت!" غزالہ حکم صادر کرتے بولی۔

شہباز کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ صورت حال کس طرف جا رہی ہے۔ وہ فلم دیکھنے کے موڈ میں ہر گز نہ تھا اور اسے فلم تنہائی میں ہی دیکھنے کا مزہ آتا تھا۔ وہ اچھے ڈائلاگ اور سینز ریورس کرکے بار بار دیکھنے کا عادی تھا۔ یہ سب کچھ اکیلے ہی ممکن تھا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ غزالہ نے کہا: "چلیں اپنا اپنا گلاس اٹھائیں اور تھیٹر روم میں فلم دیکھتے ہیں"۔

یہ سنتے ہی سب سے پہلے افضال کھڑا ہوا۔ اس نے اپنا اور شہباز کا گلاس پکڑا اور کہا: "چلیں اوپر چلتے ہیں"۔ اس دوران غزالہ سیڑھیوں پر تیسرا قدم رکھ چکی تھی۔ چند لمحوں بعد وہ تینوں تھیٹر روم میں تھے۔ بڑا سا خالی کمرہ تھا۔ سی ڈی پلیر، ملٹی میڈیا اور سفید سکرین، ساؤنڈ سسٹم۔۔ سب لوازمات کمرے میں موجود تھے۔ سامنے صوفے ایسے رکھے تھے جیسے سب کچھ ایک منی سنیما ہال ہو۔ غزالہ اور شہباز صوفے پر بیٹھ گئے۔ افضال نے سی ڈی لگائی اور لائٹس آف کر دیں۔ اسکے بعد وہ غزالہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ فلم شروع ہوگئی۔

"یہ تو آپکے گھر کا بیرونی منظر ہے!" شہباز کہتا ہے۔

"حضور آگے تو دیکھیے۔۔ " افضال نے کہا اور چند لمحوں بعد جو سین سکرین پر نمودا ہوا اسے دیکھ کر شہباز کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ یہ اسکی اور غزالہ کی خاص فلم تھی!

"یہ کیا بکواس ہے؟ آپ لوگ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں؟ مجھے پرواہ نہیں بدنامی کی۔ جسے بھیجنا چاہتے ہیں بھیج دیں یہ فلم۔۔ "

Relax baby relax. Take it easy!

غزالہ بولی۔

"تمہیں بلیک میل کرکے ہم نے کیا کرنا ہے؟ کونسا منصب ہے تمہارے پاس؟ ہمارے پاس تو ایسے طاقتور لوگوں کی فلمیں ہیں کہ تم دیکھنے کے باوجود یقین نہ کرو ان کے کرتوتوں پر! لیکن ہم نے آج تک کسی کو بلیک میل نہیں کیا۔ یہ محض ہماری ہابی ہے"۔ افضال بولا۔

"تم لوگ کیا چاہتے ہو! قیمت چاہتے ہو اسکی؟"

"تمہارے اکاونٹ میں جتنے پیسے اس وقت ہیں اس سے کہیں زیادہ میرے خانساماں کے کھاتے میں ہونگے۔ ہم نے پہلے ہی بتا دیا کہ ہم یہ سب کچھ بلیک میلنگ کی خاطر نہیں اپنے شوق کی تسکین کے لئے کرتے ہیں۔ شاید تمہیں ابھی یقین نہ آئے لیکن آہستہ آہستہ آ جائے گا"۔ افضال بہت پیار سے شہباز کو سمجھا رہا تھا لیکن اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔

"مجھے چلنا چاہیے۔ اس عزت افزائی کا شکریہ"۔ یہ کہتے شہباز کھڑا ہوگیا۔

"ایسے نہیں۔ اب تم ہمارے مرضی کے بغیر نہیں جا سکتے"۔ غزالہ نے پراعتماد لہجے میں کہا۔

"تو شروع کردی تم نے بلیک میلنگ!" شہباز نے کہا۔

Don't assume or you will confuse yourself!

میرے پیچھے آو۔ یہ کہہ کر غزالہ تھیڑ روم سے باہر نکل گئی۔ اسکے قدم اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھ رہے تھے۔ افضال شہباز کے پیچھے چل رہا تھا۔ غزالہ بیڈ روم میں پہنچ کر بستر پر بیٹھ گئی۔ افضال اسکے ساتھ چپک گیا۔

"میں نے تمہیں اس دن کہا تھا نا کہ افضال طاقتور مرد ہے۔ آج یہ اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرے گا تمہارے سامنے۔ تم صرف دیکھو گے۔ ہم ان لمحوں کو یادگار بنانا چاہتے تھے کسی اچھے اور مخلص دوست کے ساتھ۔ ہمیں اپنے سرکل میں سب سے زیادہ خلوص اور سادگی تم میں دکھائی دی۔ اس لئے اس اہم موقع پر تمہیں مدعو کیا اور تم ہمیں بلیک میلر سمجھتے ہو! اسے ایک بہت عظیم اعزاز سمجھو۔ یاد رکھو ہم مر جائینگے مگر اپنے دوستوں کی عزت پر آنچ نہیں آنے دینگے۔ یہ کہہ کر دونوں کھڑے ہو گئے۔ ایک اور نئی فلم کی شوٹنگ شروع ہوگئی۔

کمیرہ مین شہباز تھا۔ کیمرہ اس کی آنکھیں تھیں۔ شاید کوئی اور کیمرہ بھی ہو۔ پر شہباز کا فوکس اس وقت کہیں اور تھا۔ افضال بے شک ایک مضبوط مرد تھا۔ یہ اور بات کہ بے غیرت تھا۔ اس لمحے شہباز کے ذہن میں ایک بات آئی۔ افضال تو بے غیرت ٹہرا۔ تو وہ خود کیا تھا؟ وہ تو اس بے غیرتی کے سٹیج پر گیسٹ آف آنر تھا۔ یہ سوچتے سوچتے اسکی نظر غزالہ پر گئی۔ وہ اسے انگلی کے اشارے سے بلا رہی تھی۔ اس طرح غیرتمند اور بے غیرت ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے۔ جب حمام میں سب ننگے تو کیا غیرت کیا بے غیرتی!

وہ جیسے ہی غزالہ کے پاس پہنچا افضال نے ایک عجیب حرکت کی۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا یہ کہتے ہوئے: "پہلے آپ حضور!" شاید وہ لکھنو کا کوئی نواب تھا!

***

"تم ایسا کیوں کرتی ہو؟" لاونج میں غزالہ کے سامنے والے صوفے پر بیٹھے شہباز نے پوچھا۔ آج غزالہ پٹھانیوں والے لباس میں تھی۔ گھیرے دار شلوار قیمیض اور رنگ برنگی کڑاہی کا کام۔ آج وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ اس کے دل میں ایک خواہش نے جنم لیا۔۔ کاش وہ اسکی بیوی ہوتی!

"ایسا سوچنا بھی نہ!" غزالہ نے کہا اور وہ حیران ہوگیا۔ پہلے پہل تو اس نے سوچا کہ یہ سوال گندم اور جواب چنا والا معاملہ ہے۔ لیکن اس کی حیرانی میں مزید اضافہ ہوا جب غزالہ نے کہا: "میں تمہاری بیوی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ بیوی کے روپ میں تم مجھے ایک ہفتہ بھی برداشت نہ کر پاؤ گے"۔

"تمہیں کیسے معلوم میں یہ سوچ رہا تھا کہ کاش تم میری بیوی ہوتیں؟" تجسس کے مارے عاشق نے پوچھا۔

"میں لوگوں کا دماغ پڑھ لیتی ہوں۔ تم اس لباس میں اس عورت کو تلاش کر رہے ہو جو تمہاری نظر میں آئیڈیل ہے۔ ایک شرم و حیا والی دوشیزہ۔ ایک مشرقی لڑکی۔ جو خوبصورت بھی ہو اور ذہین بھی۔۔ "

"میں بالکل ایسا ہی سوچ رہا تھا!"

"لیکن میں تو مشرقی لڑکی ہر گز نہیں ہوں!"

"تم مغرب میں پیدا ہوئی تھیں کیا؟"

"وہ بھی نہیں!"

"پھر تم کیا ہو؟"

"ایک سراب! جس کا تم پیچھا کر رہے ہو۔ ایک دن ایسا آئے گا تم میرا پیچھا کرتے رہو گے۔ میرے قریب پہنچ جاؤ گے۔ پھر میں تم سے چند گز قدم دور چلی جاؤنگی۔ تم چند قدم آگے بڑھو گے یہ سوچتے کے اب تم مجھے اپنے قابو میں کر لو گے۔ پر جتنے قدم تم بڑھو گے میں اتنے ہی قدم تم سے دور ہوتی جاونگی۔ میرا پیچھا کرتے کرتے تم بھٹک جاؤ گے اور تم ایک ذہنی مریض بن جاؤ گے۔ پھر میں تمہارے پاس واپس آونگی اک مسیحا بن کر اور تم ٹھیک ہو جاو گے"۔

"تم پھر فلسفہ بول رہی ہو۔ اصل میں یہ فلسفہ بھی نہیں ہے۔ اسے اردو میں کہتے ہیں اوٹ پٹانگ باتیں کرنا۔ کوئی سر پیر نہیں تمہاری گفتگو کا!"

"اگر ایسا ہے تو تم اس احمق سے ملنے کیوں چلے آتے ہو؟ کسی سقراط یا حکیم لقمان سے کیوں نہیں ملتے؟"

شہباز کے پاس غزالہ کی اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔

" کیا تم مجھ سے پیار کرتے ہو؟"

"کرتا ہوں۔۔ پاگلوں کی طرح!"

"نہیں کرتے۔ تم میرے جسم کے لئے آتے ہو۔۔ "

"یہ زیادتی ہے۔ اگر میں تمہارے جسم کی خاطر آتا تو کبھی بھی اسے افضال کے ساتھ شئیر نہ کرتا!"

"تم مجھے اسکے ساتھ نہیں، وہ مجھے تمہارے ساتھ شئیر کرتا ہے۔ وہ دیتا ہے قربانی کیونکہ وہ مجھ سے سچا پیار کرتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ مجھے میرا جسم اپنی پسند کے مرد کے ساتھ شئیر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اکثر اوقات خود مجھے مہیا کرتا ہے۔ جیسے اس دن اس نے تمہیں یہاں بلایا۔ وہ مجھے روکتا نہیں۔ وہ مجھے اپنی ملکیت نہیں سمجھتا۔ جبکہ تم سب لوگ عورت کو اپنی جاگیر سمجھتے ہو۔ پیر کی جوتی، کنیز یا لونڈی سمجھتے ہو"۔ غزالہ نے چھبتے ہوئے انداز میں کہا۔

"اگر وہ تم سے پیار کرتا ہے اور تمہیں تمہارے طریقے سے خوش بھی رکھتا ہے، تو پھر وہ تم پر تشدد کیوں کرتا ہے؟"

"تمہیں کس نے کہا وہ مجھ پر تشدد کرتا ہے۔۔ "

"یا خدایا۔ تم اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کو کیسی دیدہ دلیری سے جھٹلا دیتی ہو۔ ہماری پہلی ملاقات کی وجہ گھریلو تشدد تھا جو افضال نے تم پر کیا تھا۔ تمہارے چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے۔۔ "

"وہ میک آپ تھا۔ کمال کا میک اپ۔ اچھا میرا چہرہ دیکھو۔۔ کیسا لگ رہا ہے اس وقت؟"

"بہت خوبصورت۔ تر و تازہ۔ ہشاش بشاش۔ شبنم کی طرح"۔

"گڈ۔ اب میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ"۔ یہ کہہ کر غزالہ ایک کمرے میں داخل ہوگئی۔ شہباز اس کے پیچھے ہو لیا۔ کمرے میں روشنی بہت مدہم تھی۔

"اب آرام سے صوفے پر بیٹھ جاؤ اور غور سے دیکھو میں کیا کرتی ہوں"۔ غزالہ نے کہا اور وہ ایک بہت بڑی سنگھار میز کے سامنے بیٹھ گئی۔ نہ جانے کتنی اشیاء تھیں وہاں بناؤ سنگھار کے لئے۔

"اب تم آنکھیں بند کر لو اور فون پر پندرہ منٹ کا ٹائمر لگا لو۔ جیسے ہی فون بجنا شروع ہو، تم آنکھیں کھول لینا۔ تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے اور حیران رہ جاو گے۔ میں اک نئے روپ میں تمہارے سامنے ہوں گی۔ لیکن وعدہ کرو چیٹ نہیں کرو گے۔ آنکھیں نہیں کھولو گے۔ اگر ایسا کیا تو ہم دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے"۔

"میں تمہیں کبھی بھی دھوکہ نہیں دونگا۔ میری بند آنکھوں میں بھی تمہاری خوبصورت تصویر ہوگی"۔ یہ کہہ کر شہباز نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ غزالہ کیا کرے گی اور کس روپ میں اپنے حسن کو اس پر ظاہر کرے۔ پندرہ منٹ بعد فون بجا۔ جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اس کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ کسی نے غزالہ کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ اس کا چہرہ مکمل مسخ ہو چکا تھا۔

"میں نے کہا تھا نہ کہ تم مجھ سے نہیں میرے بدن سے پیار کرتے ہو۔ گھبراؤ نہیں۔ یہ میک آپ کا کمال ہے۔ میں نے اس دن بھی میک آپ کیا ہوا تھا۔ لیکن وہ نیل ڈالنے کے لیئے تھا۔ افضال تو کیا دنیا کے کسی مرد میں اتنی جرات نہیں کہ مجھ پر ہاتھ اٹھا سکے"۔ غزالہ نے کہا اور اسکے سامنے اپنا میک آپ اتارنا شروع کر دیا۔ منٹوں بعد اس کا حسن واپس لوٹ چکا تھا۔

"میرا شوہر مجھ سے سچا پیار کرتا ہے۔ تم نہیں۔ اسے میری روح سے پیار ہے۔ میں اس گیٹ آپ میں بھی اس کے سامنے جاتی ہوں۔ لیکن اس کے پیار میں کوئی کمی نہیں آتی۔ تمہاری تو چیخیں نکل گئیں میری بدصورتی دیکھ کر۔ تم کیا جانو سچا پیار کیا ہے؟"

"کیا نام ہے تمہارے شوہر کا؟"

"افضال! معلوم تو ہے تمہیں!"

"لیکن وہ تمہارا شوہر نہیں۔۔ تمہارا سگا بھائی ہے"۔

"شوہر بھی تو ہے!"

"اسی لئے تمہیں دوسروں کے ساتھ شئیر کر تا ہے؟" شہباز نے طنز کرتے کہا۔

"تم اپنی بہن سے پیار کرتے ہو؟"

"اس طرح نہیں جس طرح افضال تم سے کرتا ہے۔ نارمل انداز میں کرتا ہوں جیسے ایک بہن بھائی کا پیار ہوتا ہے"۔

"کیا تم نے اپنی بہن کو کبھی ننگا دیکھا ہے؟"

"یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم؟"

"کیا تم اسکے ساتھ سوئے کبھی۔۔ بچپن یا لڑکپن میں؟"

Please shut up! Enough is enough!

شہباز نے چلا کر کہا۔

"تو پھر کیا جواب دوں تمہارے سوال کا؟

"کونسے سوال کا؟"

"تمہیں تو اپنا سوال تک یاد نہیں رہتا۔ وہی جو تم نے پوچھا تھا۔۔ "

"کونسا؟"

"یہ ہی کہ میں ایسا کیوں کرتی ہوں؟ جب تم آئے تھے تب کیا تھا نہ تم نے یہ سوال؟"

"ہاں۔ کیوں کرتی ہو ایسا؟"

"بتایا تو ہے تمہیں!"

"کب؟"

"گھر جا کر سوچنا جو میں نے کہا۔ تمہیں ہر بات کا جواب مل جائے گا۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔ تمہیں اب گھر واپس جانا چاہیے۔ کوئی منتظر ہوگا تمہارا۔ جب تم دروازہ بند کرو گے تو خوبخود لاک ہو جائے گا۔ گیٹ کھلا رکھنا۔ ورنہ گاڑی اندر لانے کے لئے افضال کو نیچے اترنا پڑے گا۔ میں نہیں چاہتی کہ اسے خواہ مخواہ زحمت ہو۔ خدا حافظ!"

"کوئی منتظر نہیں ہوتا میرا۔ میں اکیلا رہتا ہوں۔ میں بالکل تنہا ہوں۔ صرف تم میری ساتھی ہو"۔ شہباز نے وضاحت دیتے کہا۔ مگر غزالہ نے اسکی بات سنی ان سنی کر دی۔ انتہائی روکھے لہجے میں وہ صرف اتنا بولی: "خدا حافظ!" اور اسکے بعد اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئی۔

شہباز سے یہ بےرخی برداشت نہ ہوئی۔ وہ تیزی سے غزالہ کی جانب بڑھا۔ وہ اسے اپنی بانہوں میں جکڑ کر پیار کرنا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسکے جسم کے کسی بھی حصے کو چُھو سکتا غزالہ نے بجلی کی سرعت سے ایک لات گھما کر اسکے چہرے پر رسید کی۔ اگلی لمحے اسکی ناک سے خون کا فوارہ بہہ رہا تھا۔ "یہ عورت تو بروس لی کا فی میل ورژن ہے!" شہباز یہ سوچ رہا تھا۔

"میں نے تمہیں چند لمحوں قبل کہا بھی تھا کہ دنیا کا کوئی مرد میرے اوپر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔ آئندہ مجھ سے زور زبردستی نہیں کرنا۔ خدا حافظ!" غزالہ نے کہا اور اک شان بے نیازی سے اپنے بیڈروم میں داخل ہوگئی۔ یہ اک نئی ادا تھی جو شہباز کے دل میں گھر کر گئی۔ گھر پہنچتے پہنچتے یہ راز بھی اس پر منکشف ہو چکا تھا کہ غزالہ کیوں ایسا کرتی ہے۔۔ کیوں بہت سارے مردوں کے ساتھ سوتی ہے۔ وہ ایسا کرکے مردوں کی انا اور غیرت کی تذلیل کرتی ہے۔ وہ ناموس اور تقدس کے لبادے میں لپٹے ہوئے ہر فرعون کو یہ جتاتی ہے کہ دیکھو اپنا اصلی چہرہ۔ تم سے بڑا بےغیرت کوئی نہیں!

جاری ہے۔۔