لاہور صرف باغوں، دروازوں، بازاروں اور شاعروں کا شہر نہیں رہا، بلکہ اس کی تاریخ میں کچھ ایسے گوشے بھی موجود ہیں جو شہر کی تہذیبی زندگی کے تاریک اور پیچیدہ پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہی میں ہیرا منڈی اور ٹبی گلی کا نام نمایاں ہے۔
ایک زمانے میں ہیرا منڈی برصغیر کے بڑے بازارِ حسن میں شمار ہوتی تھی، جہاں رقص، موسیقی، گائیکی اور جسم فروشی کا ایک پورا نظام موجود تھا۔ مغلیہ دور میں اس علاقے کا تعلق فنونِ لطیفہ سے بھی رہا، جہاں طوائفیں صرف جسم فروش نہیں بلکہ موسیقی، شاعری اور آدابِ محفل کی تربیت یافتہ خواتین بھی سمجھی جاتی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی سماجی حیثیت بدلتی گئی اور فنون کی جگہ کاروبارِ جسم نے زیادہ نمایاں مقام حاصل کر لیا۔
ہیرا منڈی کے قریب واقع ٹبی گلی بھی برسوں تک اپنے قحبہ خانوں کی وجہ سے مشہور رہی۔ اس تنگ سی گلی میں کئی کوٹھے آباد تھے، جہاں مختلف طبقوں کے لوگ آتے جاتے تھے۔ انہی کوٹھوں میں ایک بہاری بائی کا قحبہ خانہ بھی تھا۔
بہاری بائی خود تقریباً چالیس برس کی عورت تھی۔ اس نے اپنے قحبہ خانے کے لیے چند لڑکیاں رکھی ہوئی تھیں جو اس پیشے سے وابستہ تھیں۔ ان میں سے دو اس کی اپنی بیٹیاں بھی تھیں۔ ان بچیوں کا باپ کون تھا، یہ راز بہاری بائی کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا۔ ایسے ماحول میں رشتے، شناختیں اور ماضی اکثر دھندلا جاتے ہیں اور انسان اپنی اصل کہانی چھپانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
لیکن بہاری بائی کے دل میں ایک خواہش ایسی تھی جو اس کے کاروبار اور حالات سے بالکل مختلف تھی۔ وہ ایک بیٹے کی خواہش رکھتی تھی۔ ایسا بیٹا جو بڑا ہو کر اپنی بہنوں کے سائے میں پلنے کے بجائے ایک باعزت زندگی گزارے، کوئی شریفانہ کام کرے اور اس خاندان کو اس دائرے سے باہر نکال سکے جس میں وہ نسل در نسل پھنستا جا رہا تھا۔
بہاری بائی کے قحبہ خانے کا دلال شیدا کنجر تھا۔ شیدے کی کہانی بھی عجیب تھی۔ ایک وقت تھا جب وہ خود بہاری بائی کا مستقل گاہک ہوا کرتا تھا۔ اس کی محفلوں، عیش و عشرت اور بہاری کی کشش نے آہستہ آہستہ اس کی جمع پونجی ختم کر دی۔ جب دولت ختم ہوئی تو گاہک اور میزبان کا رشتہ بھی بدل گیا۔ آخرکار شیدے نے اسی جگہ مستقل ٹھکانہ بنا لیا جہاں کبھی وہ گاہک بن کر آیا کرتا تھا۔
بہاری بائی نے اس کی زبان، چالاکی اور لوگوں کو اپنی باتوں میں الجھانے کی صلاحیت کو پہچان لیا۔ چنانچہ اس نے اسے اپنا دلال مقرر کر لیا۔ شیدا چرب زبان آدمی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کس گاہک سے کیسے بات کرنی ہے، کس کو تعریف کے ذریعے قابو کرنا ہے اور کس کو خواب دکھا کر کوٹھے تک لانا ہے۔ اس کا اصل ہنر یہی تھا کہ وہ لوگوں کی خواہشوں کو پہچان کر انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔
یوں بہاری بائی کا قحبہ خانہ صرف چند کمروں کا مکان نہیں تھا بلکہ اپنے اندر کئی انسانی کہانیاں، محرومیاں، خواہشیں، مجبوریاں اور تضاد سمیٹے ہوئے تھا۔ لاہور کے ایسے مقامات کی تاریخ دراصل صرف بازاروں کی تاریخ نہیں بلکہ ان انسانوں کی داستان بھی ہے جو حالات کے ہاتھوں مختلف کردار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔
بہاری بائی اپنی بیٹیوں کی موجودگی میں خود دھندہ نہیں کرتی تھی۔ اسے یہ بات گوارا نہیں تھی کہ جن لڑکیوں کو وہ اپنی اولاد سمجھتی ہے، ان کے سامنے وہ خود اسی پیشے کا حصہ بنے۔ لیکن دل کی ایک خواہش ایسی تھی جسے وہ برسوں سے دبا کر بیٹھی تھی۔ اسے ایک بیٹے کی شدید آرزو تھی اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے کسی مرد کا ساتھ ضروری تھا۔
ایک دن اس نے یہ بات اپنے دلال شیدے کنجر سے کہہ دی۔ شیدا اتنا سادہ لوح نہ تھا کہ اشارہ نہ سمجھ پاتا۔ وہ فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ جب سے وہ بہاری بائی کا دلال بنا تھا، اس کے اور بہاری کے درمیان پرانا تعلق کہیں پسِ پردہ چلا گیا تھا۔ کبھی جس عورت کے کوٹھے کا وہ مستقل گاہک ہوا کرتا تھا، اب اسی کا ملازم بن کر رہ گیا تھا۔ مگر دل کے رشتے، خاص طور پر ایسے رشتے، عہدے اور حیثیت کے بدلنے سے ہمیشہ ختم نہیں ہوتے۔
ایک رات اتفاق ایسا ہوا کہ بہاری کی چاروں لڑکیاں روزگار کے سلسلے میں ایک دولت مند شخص اور اس کے دوستوں کی محفل سجانے اس کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ شیدا انہیں وہاں چھوڑ کر واپس آ گیا۔ برسوں پرانی قربت، دبی ہوئی خواہشوں اور ماضی کی یادوں نے اپنا اثر دکھایا اور بہاری بائی ایک بار پھر شیدے کے قریب آ گئی۔
کچھ عرصے بعد بہاری کے جسم پر آنے والی تبدیلیاں سب کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں۔ جب لڑکیوں نے اس کے بڑھتے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر طنز کے تیر چلانے شروع کیے تو بہاری نے خاموش رہنے کے بجائے صاف جواب دیا۔
اس نے کہا کہ وہ بھی ایک عورت ہے، اس کی بھی خواہشات ہیں، اس کا بھی دل ہے اور اس کی زندگی صرف دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نہیں ہے۔ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔
بہاری کی بات میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس پورے چکلے کا نظام اسی کے سہارے چل رہا ہے۔ لڑکیاں بھی جانتی تھیں کہ بہاری کے بغیر ان کے پاس نہ چھت ہے، نہ روزگار، نہ تحفظ۔ اس لیے انہوں نے طنز کو نگل لیا اور خاموشی اختیار کر لی۔
اس خاموشی میں صرف بہاری کا اختیار نہیں تھا، بلکہ اس نظام کی وہ تلخ حقیقت بھی چھپی تھی جہاں رشتے، مفادات اور مجبوریاں ایک دوسرے میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ درست اور غلط کی لکیر بھی دھندلی ہو جاتی ہے۔
نو ماہ بعد بہاری بائی کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی۔ اس دن قحبہ خانے میں عجیب سی خوشی کا سماں تھا۔ جس بیٹے کی خواہش بہاری نے برسوں دل میں چھپا کر رکھی تھی، وہ آخرکار اس کی گود میں تھا۔ مٹھائیاں بانٹی گئیں، مبارک بادیں دی گئیں اور کوٹھے کی فضا میں ایک ایسی خوشی پھیل گئی جو وہاں کے معمول سے بالکل مختلف تھی۔
لڑکا غیرمعمولی طور پر خوب صورت تھا۔ اس کا رنگ سرخ و سفید تھا، اسی لیے لوگوں نے مذاق اور محبت کے ملے جلے انداز میں اس کا نام "فالودہ شوخا" رکھ دیا۔ وقت گزرتا گیا اور فالودہ بھی آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگا۔ وہ اسی ماحول میں پل رہا تھا جہاں ہر شخص کا ماضی راز تھا اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے کوئی نہ کوئی دکھ چھپا ہوتا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے فالودہ بارہ برس کا ہوگیا۔ ایک دن ایک دولت مند گاہک کی نظر اس پر پڑی۔ لڑکے کی معصومیت اور خوب صورتی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس نے بہاری بائی سے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے اس کے قدموں تلے زمین کھینچ لی۔
وہ گاہک بہاری کی بیٹیوں کا جسم خریدنے نہیں آیا تھا، بلکہ اب اس کی نظر اس کے بیٹے پر تھی۔
بہاری چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔ جس بیٹے کو اس نے اس امید پر جنم دیا تھا کہ وہ اس خاندان کو اس دلدل سے باہر نکالے گا، آج اسی دلدل کی نظر اس پر تھی۔ اس کے پاس نہ غصے کے الفاظ تھے، نہ جواب۔
اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ وہ اس معاملے پر سوچے گی۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ جانتی تھی کہ یہ فیصلہ صرف ایک گاہک کو جواب دینے کا نہیں تھا، بلکہ اس پوری دنیا سے ٹکرانے کا تھا جس میں وہ خود برسوں سے قید تھی۔
بہاری بائی نے اس پریشان کن معاملے کا ذکر شیدے کنجر سے کیا۔ شیدا اگرچہ اسی گندی دنیا کا حصہ تھا، مگر وہ حالات کو بھانپنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس نے بہاری کی بات خاموشی سے سنی اور پھر ایک تلخ حقیقت اس کے سامنے رکھ دی۔
اس نے کہا، "بہاری، ہمیں اپنے دھندے کی حقیقت بھولنی نہیں چاہیے۔ یہ کیچڑ ہے اور ہم اسی کیچڑ میں کھڑے ہیں۔ تم نے ہمیشہ خواب دیکھا کہ تمہارا بیٹا اس دنیا سے باہر نکلے گا، بڑا آدمی بنے گا، مگر شاید یہ خواب دیکھنے کا وقت گزر چکا ہے"۔
شیدے نے اسے یہ بھی سمجھایا کہ سامنے والا کوئی معمولی گاہک نہیں۔ وہ دولت مند ہونے کے ساتھ ساتھ اثر و رسوخ رکھنے والا آدمی ہے۔ اگر اسے ناراض کیا گیا تو اس کے ایک اشارے پر قحبہ خانہ بند ہو سکتا ہے، کاروبار ختم ہو سکتا ہے اور وہ سب لوگ جو بہاری کے سہارے زندہ ہیں، سڑک پر آ سکتے ہیں۔
دوسری طرف وہ امیر گاہک بھی اپنی بات منوانے کے لیے خوابوں کا ایک جال بن رہا تھا۔ وہ بہاری کو یقین دلاتا کہ فالودےکی قسمت بدل سکتی ہے۔ وہ اسے ایک کامیاب اداکار بنا دے گا، کیونکہ وہ ملک کی سب سے بڑی ڈرامہ پروڈکشن کمپنی کا مالک ہے۔ اس کے بقول فالودے کی خوب صورتی اور معصوم چہرہ اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔
بہاری ایک عجیب کشمکش میں پھنس گئی تھی۔ ایک طرف ماں کا دل تھا جو اپنے بیٹے کو بچانا چاہتا تھا، دوسری طرف وہ خوف تھا جو برسوں کی محرومیوں اور مجبوریوں نے اس کے اندر بسا دیا تھا۔ آخرکار طاقت، دولت اور حالات کے دباؤ نے اسے شکست دے دی۔
بہاری نے ہتھیار ڈال دیے۔
ایک بھاری رقم کے عوض وہ دولت مند گاہک فالودہ شوخا کو اپنے ساتھ لے گیا۔ بہاری کے ہاتھ میں دولت تو آ گئی، مگر اس لمحے شاید اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے صرف اپنا بیٹا نہیں بیچا، بلکہ وہ خواب بھی بیچ دیا تھا جس کے لیے اس نے اسے دنیا میں لانے کی دعا کی تھی۔
فالودے کی زندگی کا یہ نیا باب اس کے لیے کسی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ ایک بھیانک حقیقت ثابت ہوا۔ جس شخص نے اسے روشن مستقبل کے سبز باغ دکھائے تھے، اسی کے گھر میں پہلی ہی رات اس معصوم لڑکے کی دنیا بدل گئی۔ وہ ایک ایسی آزمائش سے گزرا جس کے لیے نہ اس کی عمر تیار تھی، نہ اس کا ذہن۔
فالودہ خوف، بے بسی اور خاموشی کے درمیان پستا رہا۔ اس کے پاس نہ کسی سے شکایت کرنے کا راستہ تھا، نہ واپس جانے کی کوئی جگہ۔ وقت گزرتا گیا اور انسان کی ایک عجیب عادت ہے کہ وہ کبھی کبھی ان حالات کا بھی عادی ہو جاتا ہے جن کا تصور بھی ابتدا میں ناقابلِ برداشت لگتا ہے۔ فالودہ بھی آہستہ آہستہ اس ماحول کا حصہ بنتا چلا گیا۔
لیکن اس امیر آدمی نے اپنے وعدے کا ایک حصہ پورا کیا۔ اس نے فالودے میں چھپی ایک اور صلاحیت کو پہچان لیا۔ فالودہ فطری طور پر ایک فنکار تھا۔ اس کے اندر مزاح، حاضر جوابی اور لوگوں کو محظوظ کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت موجود تھی۔ اس کی شخصیت میں وہ عناصر تھے جو اسٹیج پر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے تھے۔
چنانچہ اسے ڈراموں میں ایسے کردار دیے جانے لگے جن میں مزاح، بھانڈ پن اور مخصوص ثقافتی کردار شامل تھے۔ فالودے نے ان کرداروں کو ایسی مہارت سے نبھایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ انہی کرداروں کی پہچان بن گیا۔ لوگ اس کے انداز، مکالموں اور اداکاری کے دیوانے ہونے لگے۔
شہرت کی یہ خبر جلد ہی ٹبی گلی تک پہنچ گئی۔ وہاں کے لوگ، جو کبھی اسے ایک عام بچے کے طور پر جانتے تھے، اب اسے کامیاب فنکار کے طور پر دیکھنے لگے۔ فالودہ اپنی گلی کا ہیرو بن چکا تھا۔ گلی کے لڑکے اس کے گرد جمع ہونے لگے، اس کی تعریفیں کرتے اور اس سے قریب ہونے کی کوشش کرتے۔
فالودے نے بھی اپنی شہرت کے اثر میں چند ایسے لڑکوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا جو ڈراموں میں مختلف مزاحیہ یا مخصوص کردار ادا کرتے تھے۔ یوں ٹبی گلی کا ایک لڑکا، جسے کبھی حالات نے نگل لیا تھا، اب اسی دنیا میں ایک نمایاں نام بن چکا تھا جس سے وہ کبھی نکلنے کا خواب دیکھا کرتا تھا۔
چند برسوں میں فالودہ شوخا ملک کا سب سے مہنگا کامیڈین، بھانڈ اور جگت باز بن چکا تھا۔ اس کی مانگ اتنی بڑھ گئی تھی کہ بڑے بڑے ڈرامہ ساز اور پروڈیوسر اسے اپنے پروگراموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھنے لگے تھے۔
لیکن شہرت کے ساتھ ایک اور چیز بھی آ گئی تھی۔۔ غرور!
فالودے کو اپنی مقبولیت کا ایسا نشہ چڑھا کہ وہ آہستہ آہستہ یہ بھولنے لگا کہ ہر محفل ٹبی گلی کا کوٹھا نہیں ہوتی اور ہر شخص اس کی جگت برداشت کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ اب وہ کسی کو نہیں بخشتا تھا۔ بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب، فنکار ہو یا تماشائی، جسے موقع ملتا اس پر پھبتی کس دیتا۔
اسے لگتا تھا کہ یہی اس کی کامیابی کا راز ہے، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس کی زبان بہت سے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بننے لگی تھی۔ شو بزنس کی دنیا بدل چکی تھی۔ یہاں ایسے لوگ بھی آتے تھے جن کا تعلق معزز خاندانوں سے تھا، جنہوں نے عزت، تعلیم اور محنت کے ذریعے اپنا مقام بنایا تھا۔ وہ فالودے کی جگتوں کو محض مذاق نہیں بلکہ بدتمیزی سمجھنے لگے تھے۔
رفتہ رفتہ اس کی شکایات اس کے مالک تک بھی پہنچنے لگیں۔ لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ہر شخص کو تماشہ نہ سمجھو، مگر فالودہ اپنی دنیا میں مگن تھا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ مالک سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہا۔ اس کے لیے فالودہ صرف ایک کامیاب فنکار نہیں تھا، بلکہ ایک ذاتی کمزوری بھی بن چکا تھا۔ فالودہ اس کی راتوں کی راحت تھا، اس لیے اس کی غلطیاں بھی اسے خوبیاں نظر آتی تھیں۔
یوں ایک ایسا شخص جس نے محرومیوں سے نکل کر شہرت حاصل کی تھی، آہستہ آہستہ اسی شہرت کا قیدی بنتا جا رہا تھا۔
ایک دن فالودے نے ایسی حرکت کر دی جس نے نہ صرف اسے اس کی اصل حقیقت یاد دلا دی بلکہ اس کے پورے کیریئر کا رخ بھی بدل دیا۔
ایک ڈرامے کی شوٹنگ جاری تھی۔ سیٹ پر معمول کی گہما گہمی تھی کہ فالودے کی نظر ایک بزرگ شخص پر پڑی جو ایک سید زادے تھے۔ ان کے چہرے پر وقار تھا، سر اور داڑھی کے بال مکمل سفید ہو چکے تھے۔ فالودے نے حسبِ عادت اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان پر جگتیں شروع کر دیں۔
ابتدا میں بزرگ مسکرا کر بات ٹالتے رہے۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نوجوان فنکار محض مذاق کر رہا ہے اور کچھ دیر بعد خود رک جائے گا۔ مگر فالودہ اپنی شہرت اور مقبولیت کے نشے میں یہ بھول چکا تھا کہ مزاح اور بے ادبی کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔
وہ مزید بے باک ہوتا چلا گیا۔ اس نے بزرگ کی سفید داڑھی کو مذاق کا موضوع بنا لیا اور آخرکار حد سے آگے بڑھتے ہوئے ان کی داڑھی کو نوچنے لگا۔
سیٹ پر موجود لوگوں نے اسے روکنے کے بجائے تماشہ سمجھا۔ کچھ لوگ ہنسنے لگے، کچھ نے تالیاں بجائیں اور کچھ نے خاموش رہ کر اس حرکت کو ہونے دیا۔ کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ جس شخص کا مذاق بنایا جا رہا ہے، وہ صرف ایک کردار نہیں بلکہ ایک انسان ہے، جس کی عزت اور وقار بھی ہے۔
فالودہ شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی لوگ اس کی جگت پر داد دیں گے، مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ بعض اوقات ایک چھوٹی سی حرکت برسوں کی بنائی ہوئی شہرت کو لمحوں میں خاک میں ملا دیتی ہے۔
فالودے کی اس حرکت کی ویڈیو اس کے حاسد دوستوں نے انٹرنیٹ پر شیئر کر دی۔ پھر کیا تھا، جیسے جنگل میں آگ پھیلتی ہے، ویسے ہی یہ خبر بھی چاروں طرف پھیل گئی۔ چند ہی گھنٹوں میں فالودہ عوامی غصے کا نشانہ بن چکا تھا۔
لیکن فالودہ یہ بھول گیا تھا کہ جس بزرگ کے ساتھ اس نے بدتمیزی کی تھی، وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کا لکھاری اور اداکار تھا۔ اس کے بھی ہزاروں چاہنے والے تھے۔ جب انہیں اپنے محبوب فنکار کی بے توقیری کا علم ہوا تو وہ سب اس کے دفاع میں سامنے آ گئے اور فالودے کا گھیراؤ کر لیا۔
فالودے سے جلنے والے اس کے ساتھیوں نے بھی اس موقع کو غنیمت جانا۔ انہوں نے سب سے پہلے اس پر حملہ کیا اور اسے مارنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر بزرگ کے مشتعل پرستار بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے بھی فالودے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
چونکہ بہت سے لوگ فالودے کے ماضی اور اس کی اصل شہرت سے واقف تھے، اس لیے ہجوم کا غصہ تمام حدیں پار کر گیا۔ بعض درندہ صفت لوگوں نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی بھی کی۔ اس کے بعد اس کا منہ کالا کیا گیا اور اسے گدھے پر بٹھا کر پورے شہر میں پھرایا گیا۔
فالودے کی یہ حالت اور عوامی اشتعال دیکھ کر اس کے مالک نے فوراً اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ جس شخص کو کبھی وہ اپنی کامیابی کی ضمانت سمجھتا تھا، آج وہی اس کے لیے بوجھ بن چکا تھا۔ فالودہ پل بھر میں آسمان سے زمین پر آ گرا۔
مالک نے فالودے کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اس واقعے کی رپورٹ پولیس میں کی تو وہ نہ صرف اس کی ماں کا قحبہ خانہ لمحوں میں بند کرا دے گا بلکہ اس کی بہنوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ دوسری طرف بہاری بائی اور شیدے نے بھی فالودے کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔
یہاں تک کہ دونوں نے فالودے کی ایک ویڈیو بھی بنوائی جس میں اس نے بزرگ فنکار سے غیرمشروط معافی مانگی۔
اس واقعے کے بعد کسی نے بھی فالودے کو گھاس تک نہ ڈالی۔ جس شہرت نے اسے غرور دیا تھا، وہی شہرت اس کے زوال کا سبب بن گئی۔ آخرکار فالودہ دوبارہ ٹبی گلی واپس آ گیا۔ اب وہ نہ کامیڈین تھا، نہ اداکار، نہ ہیرو۔ وہ اپنی ماں اور اپنی بہنوں کا دلال بن چکا تھا۔
یوں ایک ایسا لڑکا جسے بہاری بائی نے اس امید پر دنیا میں لایا تھا کہ وہ اس خاندان کی قسمت بدل دے گا، آخرکار اسی نظام کا حصہ بن گیا جس سے اسے بچانے کے لیے اس کی ماں نے کبھی خواب دیکھے تھے۔