دل کو اپنے فَقر سے آگاہ کر
بوریے پر بیٹھ خود کو شاہ کر
زندگی تیری گزر ہی جائے گی
اے مسافر آہ کر یا واہ کر
خاک بن مُرشد کے پاؤں کی کبھی
خود کو ایسے وقفِ عِز و جاہ کر
چاند تاروں تک بنا لیتا ہے راہ
اپنے دل میں بھی کبھی تو راہ کر
در پہ بس اپنے ہی رکھ لے مجھ کو اب
یوں نہ مجھ کو راندۂ درگاہ کر
چھین لے مجھ سے تکبّر کی جھلک
انکساری کو مرے ہمراہ کر
اس میں رتی بھر وفا کی بُو نہیں
دَہر کی احمد نہ اتنی چاہ کر