1. ہوم
  2. غزل
  3. علی رضا احمد
  4. سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیا
Ali Raza Ahmed

سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیا

سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیا
عجیب سحر تھا میں راستہ ہی بھول گیا

میں آشنا ہی نہ تھا دشتِ جذب و مستی سے
جو پائے ننگ مرا قافلہ ہی بھول گیا

بنایا سجدوں سے جب ایک گوہرِ نایاب
حریمِ کعبہ سے تب واسطہ ہی بھول گیا

کسی کی دید کا کچھ ایسا لرزہ طاری تھا
که احترام کا ہر قاعدہ ہی بھول گیا

کہا تھا ساقی نے احمد کہ آج شام آنا
جو شام آئی تو میں میکدہ ہی بھول گیا