1. ہوم
  2. مزاحیات
  3. علی رضا احمد
  4. کلامِ شیریں

کلامِ شیریں

یہ اتنا جو کھِل کھِلا رہا ہوں
میں دودھ میں کچھ ملا رہا ہوں

میں کچھ نیا کرنے جا رہا ہوں
میں تھانے سے دل چرا رہا ہوں

ملانے تجھ سے میں ان کو لایا
نگاہیں تجھ سے ملا رہا ہوں

سفید پوشی ہے اپنا شیوہ
سو اپنی انکم چھپا رہا ہوں

جو پاس ہے سب نکال دیجے
یہ ڈاکؤں کو بتا رہا ہوں

ہے چانس پر"بُکیو" اپنی کرکٹ
میں بال پر سو لگا رہا ہوں

وہ لے اڑا کوئی بیٹ اُن کا
میں وکٹیں گھر لے کے جا رہا ہوں

ہے بیچ منڈی کے اپنی ہَٹّی
میں اپنی قیمت لگا رہا ہوں

وہ اپنے غصے کو پی رہے ہیں
میں منہ سے بوتل لگا رہا ہوں

دو چار کھائیں ہیں جھوٹی قسمیں
کسی کا حق تھوڑی کھا رہا ہوں

نہ اب ضرورت ہے چیخنے کی
میں پوپ گانے سنا رہا ہوں

یہ خامشی بے سبب نہیں ہے
میں سرقہ غزلیں سنا رہا ہوں؟

رضا یہ کس کا خیال آیا
میں درد سے مسکرا رہا ہوں