کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے
آدمی عشق کے دوران بدل سکتا ہے
جس بھروسے پہ تو آئی ہے محل سے باہر
شاہزادی ترا دربان بدل سکتا ہے
وہ جسے چاہے اسے اپنے برابر کر لے
اس کی مرضی ہے وہ میزان بدل سکتا ہے
اس کی باتوں پہ بھروسہ نہیں کرنا کہ وہ شخص
ہر ملاقات پہ پہچان بدل سکتا ہے
باغ میں تجھ سے یوں روزانہ اکیلے ملنا
مجھ کو ڈر ہے مرا ایمان بدل سکتا ہے
رات پڑتے ہی چراغوں کو جلانے والو
صبح ہوتے ہی یہ رجحان بدل سکتا ہے