1. ہوم
  2. غزل
  3. سید علی قاسم
  4. کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے
Syed Ali Qasim

کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے

کس سہولت سے مری جان بدل سکتا ہے
آدمی عشق کے دوران بدل سکتا ہے

جس بھروسے پہ تو آئی ہے محل سے باہر
شاہزادی ترا دربان بدل سکتا ہے

وہ جسے چاہے اسے اپنے برابر کر لے
اس کی مرضی ہے وہ میزان بدل سکتا ہے

اس کی باتوں پہ بھروسہ نہیں کرنا کہ وہ شخص
ہر ملاقات پہ پہچان بدل سکتا ہے

باغ میں تجھ سے یوں روزانہ اکیلے ملنا
مجھ کو ڈر ہے مرا ایمان بدل سکتا ہے

رات پڑتے ہی چراغوں کو جلانے والو
صبح ہوتے ہی یہ رجحان بدل سکتا ہے