1. ہوم
  2. غزل
  3. سید علی قاسم
  4. نصیب بگڑے تو کاتب ازل کے دیکھتے ہیں
Syed Ali Qasim

نصیب بگڑے تو کاتب ازل کے دیکھتے ہیں

نصیب بگڑے تو کاتب ازل کے دیکھتے ہیں
تری تلاش میں رستے بدل کے دیکھتے ہیں

گلاب ہم کو میسر کبھی بھی تھے ہی نہیں
سو تیری انگلیاں آنکھوں پہ مل کے دیکھتے ہیں

ہمیں یہ خطرہ ہے آنکھیں نکل نہ آئیں کہیں
سو سورجوں کو ہم ایسے سنبھل کے دیکھتے ہیں

چلو خدا کے لئے آج ساقی کے در پر
چلو کہ ہم بھی ذرا سا بہل کے دیکھتے ہیں

وہ میرے ساتھ چلے تو یہ دنیا والے سبھی
حسد جھلکتا ہے، ایسے مچل کے دیکھتے ہیں

گمان ہوتا ہے خود بھی وہیں پہ رہ گئے ہوں
تمہارے شہر سے جب بھی نکل کے دیکھتے ہیں

گلوں کو دیکھا ہے میں نے بہار میں اکثر
تمہارے حسن کے سانچے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں