1. ہوم
  2. غزل
  3. سید علی قاسم
  4. بہتے دریاؤں کا دکھ دیکھا بیابانی نے
Syed Ali Qasim

بہتے دریاؤں کا دکھ دیکھا بیابانی نے

بہتے دریاؤں کا دکھ دیکھا بیابانی نے
ریت کا کتنا ہی نقصان کیا پانی نے

ایک اجلی سی یہ چادر ہی تو بس ہوتی تھی
اسے احرام کیا چاک گریبانی نے

میں تجھے بھولنا آسان سمجھتا تھا مگر
بڑی مشکل میں رکھا ہے مجھے آسانی نے

خود کو اک عرصے سے محسوس نہیں ہوتا میں
ترے پامال کو یوں کھایا ہے ویرانی نے

ہر سہولت سے اسی واسطے منہ موڑ لیا
سیر رکھا ہے مجھے بے سر و سامانی نے

آخرِ کار عصا پر ہی وہ موقوف رہے
ساتھ جب چھوڑ دیا تختِ سلیمانی نے