1. ہوم
  2. غزل
  3. سید علی قاسم
  4. مجھ پہ جب یاد تری طاری بہت ہوتی ہے
Syed Ali Qasim

مجھ پہ جب یاد تری طاری بہت ہوتی ہے

مجھ پہ جب یاد تری طاری بہت ہوتی ہے
رات پھر جاں پہ مری بھاری بہت ہوتی ہے

اپنے ہاتھوں سے مرے دل کو نہ تعمیر کرو
رات اکثر یہاں مسماری بہت ہوتی ہے

دل کسی طور نہیں سونپتی وہ زر کے عوض
اک طوائف میں بھی خودداری بہت ہوتی ہے

پسِ پردہ مرے حاکم، اے محافظ یہ بتا
کیوں ترے خون میں غداری بہت ہوتی ہے

تُو نہیں ہے تَو ہر اک لمحے میں نہ جانے کیوں
سانس لیتے ہوئے دشواری بہت ہوتی ہے

سرِ مقتل بھی سنا ہے کہ شفا بانٹتا ہے
شہر میں جس کی عزاداری بہت ہوتی ہے