1. ہوم
  2. کالمز
  3. ملک عجب اعوان
  4. بیروزگاری اور نوجوانوں کی مایوسی

بیروزگاری اور نوجوانوں کی مایوسی

بیروزگاری ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جو ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، خاص طور پر اگر بات کی جائے نوجوان نسل کی تو پاکستان میں بیروزگاری بہت زیادہ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے نوجوان مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یونیورسٹیز سے ڈگریاں کے کر نکلتے ہیں اور اچھے گریڈز حاصل کرتے ہیں اور والدین لاکھوں روپے لگا کر اپنے بچوں کو اس قابل بناتے ہیں تا کہ وہ اچھی نوکری حاصل کر سکیں اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کریں۔

جب وہ نوکری کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی اچھی نوکری حاصل نہیں کر پاتے اور اگر مل بھی جائے تو معمولی سی تنخواہ ملتی ہے جس سے وہ با مشکل گزارہ کرتے ہیں اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ زیادہ تر نوجوان سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر سرکاری نوکری صرف رشوت اور سفارش کی بنیاد پر ملتی ہے اور سرکاری اداروں میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ نوجوان ہزار کوشش کے باوجود کوئی اچھی نوکری حاصل نہیں کر پاتے اور خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں اور بعض نوجوان نشے کے عادی ہو جاتے ہیں اور بعض چوری ڈکیتی جیسے غلط کاموں میں لگ جاتے ہیں اور اپنی زندگی تباہی کر دیتے ہیں۔

اسی مایوسی کے عالم میں ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان اپنے اچھے مستقبل کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں کیونکہ پاکستان میں کوئی اچھے روزگار کے مواقع موجود نہیں ہیں۔

رواں سال 2025 میں پانچ لاکھ سے زائد نوجوان اپنے اچھے مستقبل کے لیے ملک چھوڑ چکے ہیں جن میں اکثریت انجینئر اور ڈاکٹر ہیں۔ حکومت بھی پاکستان میں بیروزگاری میں کمی لانے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کر رہی۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے اب سرکاری نوکریوں پر پابندی بھی لگائی جا رہی ہے اور جو سرکاری اداروں میں بھرتیاں ہوں گی وہ بھی کنٹریکٹ پر ہوں گی۔

نوجوانوں کو چاہیے کہ آپ کوئی بھی ڈگری کر رہے ہیں چاہے کسی بھی فیلڈ میں ہو، آپ اس کے ساتھ ساتھ کوئی اسکلز بھی سیکھیں اور صرف ڈگری پر فوکس نہ کریں۔ کیونکہ گر آپ کے پاس ڈگری کے ساتھ انھی اسکلز بھی ہونگی تو آپ کو بہت فائدہ ہوگا آگے چل کر۔

حکومت کو بھی سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بیروزگاری کو ختم کرنے کے لیے اور حکومت کو چاہیے کر وہ نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرے تا کی نوجوان اس سے کوئی اپنا سٹارٹ آپ شروع کریں اور سرکاری اداروں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو انٹرنشپ دے تا کہ نوجوان کام کر سکیں۔

نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ آپ ہمت مت ہاریں اور کوشش کرتے رہیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ بیروزگاری میں کمی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے تا کہ پڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک جانے کی بجائے پاکستان میں رہ کر کام کریں تا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔