1. ہوم
  2. کالمز
  3. ملک عجب اعوان
  4. پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کی انٹری

پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کی انٹری

پی ایس ایل کو دس سال مکمل ہو چکے ہیں اور اب پی سی بی نے دو نئی ٹیموں کی شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے اور دو نئی ٹیمیں آچکی ہیں۔ دو دن پہلے 08 دسمبر کو اسلام آباد میں دو نئی ٹیموں کی بولی لگائی گئی جس میں ٹوٹل دس گروپس نے حصہ لیا جس میں FKS گروپ، OZ ڈویلپرز، مشہور نیٹورک کمپنی جاز اور سولر کمپنی انویریکس اور دیگر نے حصہ لیا۔

ساتویں ٹیم کے لیے بنیادی قیمت 110 کروڑ مقرر کی گئی۔ جب بولی کا آغاز ہوا تو inverex نے 112 کروڑ سے آغاز کیا اور بولی آخر کار 175 کروڑ پر رکی اور آخر میں ایف کے ایس گروپ اور i2c گروپ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوار جس میں i2c گروپ نے 170 کروڑ بولی لگائی جس کے مقابلے میں ایف کے ایس گروپ نے 175 کروڑ روپے بولی لگا کر ٹیم نمبر سات کو خرید لیا اور چھ شہروں میں سے حیدرآباد کا انتخاب کیا کیونکہ اس کے مالک فواد سرور کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور وہ امریکہ میں مقیم ہیں۔ حیدرآباد والوں کو بھی اپنی ٹیم مل گئی جس سے حیدرآباد کے شائقین کافی پرجوش اور خوش ہیں۔

دوسرے راؤنڈ میں ٹیم نمبر آٹھ کی بولی لگائی گئی جس کی بنیادی قیمت 170 کروڑ مقرر تھی جس کی خریداری کے لیے دو گروپس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا اور oZ گروپ نے 175 کروڑ کی بولی لگائی جس کے نتیجے میں i2c گروپ نے 182 کروڑ کی بولی لگائی اور پوری کوشش کی کہ وہ ٹیم نمبر آٹھ کو خرید لیں لیکن OZ گروپ نے آخرکار 185کروڑ کی بولی لگا کر آٹھویں ٹیم کو خرید لیا اور چھ شہروں میں سے سیالکوٹ کا انتخاب کیا اور یوں سیالکوٹ پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم بن گئی۔ بولی کا عمل نہایت ہی شفاف اور شاندار رہا۔

کچھ ہفتے پہلے پی سی بی نے امریکہ اور لندن میں پی ایس ایل کا روڈ شو کیا جو کہ کامیاب رہا اور غیر ملکی سرمایہ داروں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی اور آخر کار دو بڑے گروپس نے پی ایس ایل کی دو ٹیموں کو دس سال کے لیے خرید لیا۔

پی ایس ایل کے سیزن 11 میں اب آٹھ ٹیمیں ایکشن میں نظر آئیں گی۔ دو نئی ٹیموں کے آنے سے اب زیادہ کھلاڑیوں کو موقع ملے گا جو پہلے سلیکٹ نہیں ہو پاتے تھے اور جو ینگ کھلاڑی بینچ پر بیٹھتے تھے ان کو اب نئی ٹیم میں کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دو نئی ٹیمیں سیالکوٹ اور حیدرآباد کیسے کام کرتی ہیں اور کونسے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف پر ان کی نظر ہوگی اور وہ کیسی ٹیم تیار کرتے ہیں۔ بولی سے پہلے سب کا یہی کہنا تھا کہ فیصل آباد کی ٹیم شامل ہوگی کیونکہ انکا اپنا سٹیڈیم بھی ہے لیکن سیالکوٹ کا انتخاب کیا گیا مالک حمزہ مجید کی طرف سے۔

دو نئی ٹیموں کے آنے سے اب زیادہ لوکل کھلاڑیوں کو موقع ملے گا۔

امید ہے کہ اس سال کا پی ایس ایل سیزن پچھلے سیزنز کی طرف کامیاب اور شاندار رہے گا۔ اس کامیاب بولی پر پی سی بی اور محسن نقوی مبارک باد کے مستحق ہیں اور پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے غیر ملکی سرمایہ کار ڈھونڈے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی ٹیم اس سال کا پی ایس ایل سیزن اپنے نام کرتی ہے۔