میری آنکھوں میں مدینے کی جھلک ہے باقی
میری ہر سانس میں روضے کی مہک ہے باقی
آج ہم جالیوں کے پاس چلے آئے مگر
حال دل کیسے بیاں ہو کہ ججھک ہے باقی
اشک سارے ہی تو تاباں ہیں مری پلکوں پر
تم روانی رکھو بس ایک پلک ہے باقی
لفظ اجلے ہیں مرے نورِ ہدیٰ کے دم سے
بہتی آنکھوں میں ابھی کیف و چمک ہے باقی
باس پھولوں کی سفر خلد کا مجھ کو جو لگے
وہ مدینے سے مرے دل کے تلک ہے باقی
میرے احساس کی خوشبو نے کہا خود مجھ سے
دل میں طیبہ کی زیارت کی کسک ہے باقی
ان کے روضے کے تصور سے ہی باغِ دل کے
سارے گوشوں میں وہی ایک جھلک ہے باقی
مجھے معلوم نہیں شہرِ نبی سے کیوں کر
میرے وجدان میں طائر کی چہک ہے باقی
ذکر طیبہ ہی سے روشن ہوئے ہیں لفظ سبھی
نعت کے مصرعوں میں وہ دم و دمک ہے باقی
کیا تری مدحِ نبی حمدِ خدا بھی احمدؔ
ہر جا محفوظ تو ہے وہ یا فلک ہے باقی