1. ہوم
  2. نعت
  3. علی رضا احمد
  4. میری آنکھوں میں مدینے کی جھلک ہے باقی
Ali Raza Ahmed

میری آنکھوں میں مدینے کی جھلک ہے باقی

میری آنکھوں میں مدینے کی جھلک ہے باقی
میری ہر سانس میں روضے کی مہک ہے باقی

آج ہم جالیوں کے پاس چلے آئے مگر
حال دل کیسے بیاں ہو کہ ججھک ہے باقی

اشک سارے ہی تو تاباں ہیں مری پلکوں پر
تم روانی رکھو بس ایک پلک ہے باقی

لفظ اجلے ہیں مرے نورِ ہدیٰ کے دم سے
بہتی آنکھوں میں ابھی کیف و چمک ہے باقی

باس پھولوں کی سفر خلد کا مجھ کو جو لگے
وہ مدینے سے مرے دل کے تلک ہے باقی

میرے احساس کی خوشبو نے کہا خود مجھ سے
دل میں طیبہ کی زیارت کی کسک ہے باقی

ان کے روضے کے تصور سے ہی باغِ دل کے
سارے گوشوں میں وہی ایک جھلک ہے باقی

مجھے معلوم نہیں شہرِ نبی سے کیوں کر
میرے وجدان میں طائر کی چہک ہے باقی

ذکر طیبہ ہی سے روشن ہوئے ہیں لفظ سبھی
نعت کے مصرعوں میں وہ دم و دمک ہے باقی

کیا تری مدحِ نبی حمدِ خدا بھی احمدؔ
ہر جا محفوظ تو ہے وہ یا فلک ہے باقی