1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے
Khurram Sohail

رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے

رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے
میخانے میں پھر ساقی ترا کام نہیں ہے

پڑ جائے گا اک دن ترے مہ خانے پہ تالا
عشاق کا گر در پہ ہی ہنگام نہیں ہے

گزرے جو شب ہجراں تری یاد سے خالی
ایسی تو کوئی یار مری شام نہیں ہے

میں قرض پہ پی لوں گا تو پلوئے اگر تو
دینے کو تجھے ساقی کوئی دام نہیں ہے

نسبت ہے مری قیس سے، ہو حفظِ مراتب
عاشق یہ بڑا خاص ہے کچھ عام نہیں ہے

چپ چاپ پیے جاتا ہوں پیالہ میں چپ کا
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آلام نہیں ہے

میں بیچ کے آیا تھا یہاں شہر میں زیور
کیسے میں کہوں ماں کو یہاں کام نہیں ہے

ہر در پہ گیا پر نہ ملا مجھ کو کہیں سکھ
بن دیکھے تجھے دل کو بھی آرام نہیں ہے

ہم سا بھی کوئی دوجا نہیں شہر میں خرم
کہہ دے اسے کوئی کہ وہ گلفام نہیں ہے