رندوں کے اگر ہاتھ میں ہی جام نہیں ہے
میخانے میں پھر ساقی ترا کام نہیں ہے
پڑ جائے گا اک دن ترے مہ خانے پہ تالا
عشاق کا گر در پہ ہی ہنگام نہیں ہے
گزرے جو شب ہجراں تری یاد سے خالی
ایسی تو کوئی یار مری شام نہیں ہے
میں قرض پہ پی لوں گا تو پلوئے اگر تو
دینے کو تجھے ساقی کوئی دام نہیں ہے
نسبت ہے مری قیس سے، ہو حفظِ مراتب
عاشق یہ بڑا خاص ہے کچھ عام نہیں ہے
چپ چاپ پیے جاتا ہوں پیالہ میں چپ کا
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آلام نہیں ہے
میں بیچ کے آیا تھا یہاں شہر میں زیور
کیسے میں کہوں ماں کو یہاں کام نہیں ہے
ہر در پہ گیا پر نہ ملا مجھ کو کہیں سکھ
بن دیکھے تجھے دل کو بھی آرام نہیں ہے
ہم سا بھی کوئی دوجا نہیں شہر میں خرم
کہہ دے اسے کوئی کہ وہ گلفام نہیں ہے