وہ ایک ننھا سا بھیڑ کا بچہ تھا۔ نہ اس کے پاس طاقت تھی۔ نہ پنجے۔ نہ دانت۔ اگر پنجے ہوتے بھی تو شاید وہ صرف اپنی ہی بے بسی کو نوچ سکتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا جرم صرف یہ تھا کہ وہ زندہ رہنا چاہتا تھا۔ وہ صبح سے شام تک جنگل کے کنارے بھٹکتا رہتا۔ کبھی کسی سایہ دار درخت کے نیچے رک جاتا۔ کبھی کسی خشک ندی کے کنارے بیٹھ کر دور تک پھیلے راستوں کو دیکھتا۔ اسے یقین تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی ایسا راستہ ضرور ہوگا جہاں سے گزر کر وہ سکون تک پہنچ جائے گا۔ وہ ممیا رہا تھا۔ شاید کسی کو اپنی آواز سنانا چاہتا تھا۔ مگر جنگل میں بھیڑوں کی آواز کون سنتا ہے۔ وہاں تو صرف بھیڑیوں کی دھاڑ کو قانون سمجھا جاتا تھا۔
ایک دن اس نے پہلا راستہ اختیار کیا۔ چند قدم ہی چلا تھا کہ ایک بھیڑیے نے پوچھا۔ کہاں جا رہے ہو؟ بھیڑ کے بچے نے خوف زدہ آواز میں کہا۔ کہ صرف گزرنا چاہتا ہوں۔ بھیڑیے نے راستہ روک لیا۔ یہ راستہ تمہارے لیے نہیں ہے۔ کیونکہ راستے بھی طاقتوروں کے ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے راستے پر گیا۔ وہاں بھی ایک بھیڑیا تھا۔ تیسرے راستے پر تیسرا، چوتھے راستے پر چوتھا۔ ہر راستہ کسی نہ کسی کے نام لکھا تھا۔ ہر موڑ پر ایک پنجہ انتظار کر رہا تھا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے جسم پر ایک نیا زخم بڑھتا جا رہا تھا۔
کافی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ مسئلہ اس کے قدموں میں نہیں تھا۔ مسئلہ شاید پورے جنگل میں تھا۔ وہ ایک پتھر کے پاس بیٹھ گیا اور آہستہ سے بولا۔ اگر میں نے کوئی جرم نہیں کیا تو پھر میری سزا اتنی لمبی کیوں ہے۔ قریب ہی ایک بوڑھا بھیڑیا بیٹھا تھا۔ وہ ہنس پڑا۔ تم ابھی بچے ہو۔ تمہیں جنگل کے اصول معلوم نہیں۔ یہاں شکار کو پہلے کمزور کیا جاتا ہے۔ پھر اسے سمجھایا جاتا ہے کہ وہ خود کمزور پیدا ہوا تھا۔ بوڑھے بھیڑیے نے اسے دھکا دیا۔ زخمی جسم زمین پر آ گرا۔ اس نے سہارا لینے کے لیے اپنی بیساکھی تلاش کی مگر وہ بھیڑیے کے پنجے میں تھی۔
یہ واپس کر دو۔ بھیڑ کے بچے نے احتجاج کیا۔ بوڑھا بھیڑیا مسکرایا۔ جنگل میں سب سے پہلے سہارے چھینے جاتے ہیں۔ جس کے پاس سہارا نہ ہو، وہ کبھی دور تک نہیں جا سکتا۔ پھر اسے ہر سفر کے لیے ہمارے دروازے پر آنا پڑتا ہے۔ قریب کھڑا لگڑبگھا ہنسا۔ کبھی یہ سہارا تعلیم کے نام پر ہوتا ہے، کبھی کام کے نام پر، کبھی امید کے نام پر۔ ہم بس پر کاٹ دیتے ہیں، پھر پرواز نہ کرنے پر حیران ہوتے ہیں۔ بھیڑ کا بچہ خاموش رہا۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ جنگل میں صرف زخم نہیں دیے جاتے، کچھ زخموں کو معمول بھی بنا دیا جاتا ہے۔
کچھ دن گزرے تو جنگل کے بیچوں بیچ ایک بڑا میلہ سجایا گیا۔ درختوں پر جھنڈے لٹکائے گئے۔ ڈھول بجنے لگے۔ اعلان ہوا کہ آج محنتی اور خوش قسمت جانوروں میں انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔ بھیڑیں، ہرن، خرگوش اور دوسرے جانور اپنی محنت اور خواب لیے قطاروں میں کھڑے ہو گئے۔ کسی کے ہاتھوں پر محنت کے نشان تھے۔ کسی کی آنکھوں میں برسوں کی امید۔ بھیڑ کا بچہ بھی وہاں پہنچا۔ جسم زخموں سے بھرا تھا، مگر دل میں ایک چھوٹی سی امید باقی تھی۔ اس نے سوچا: شاید آج جنگل مجھے دیکھ لے گا۔ انعامات کا وقت آیا۔ نام پکارے جانے لگے۔ مگر انعام ان کے حصے میں آئے جو بھیڑیوں کے قریب تھے۔ لومڑیوں کے دوست تھے۔ یا جن کے پنجے پہلے ہی مضبوط تھے۔ بھیڑ کے بچے نے پوچھا۔ یہ کیسی تقسیم ہے بوڑھا بھیڑیا مسکرایا۔ یہ تقسیم نہیں، قسمت ہے۔ مگر قسمت ہمیشہ ایک ہی طرف کیوں کھڑی ہوتی ہے۔
بوڑھے بھیڑیے نے جواب نہیں دیا۔ اسی لمحے بندر اونچی جگہ پر کھڑا ہوا اور اعلان کیا۔ آج انصاف قائم ہوگیا۔ سب کو ان کا حق مل گیا۔ تالیاں بجنے لگیں۔ جنگل میں خوشی کا شور پھیل گیا۔ مگر بھیڑ کا بچہ اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ کبھی کبھی سب سے بڑا شور بھی سب سے گہری خاموشی کو چھپا لیتا ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ بھیڑ کا بچہ بڑا ہونے لگا۔ مگر جنگل کے اصول نہیں بدلے۔ اس کی روٹی کبھی موسم لے جاتا، کبھی کسی کا حکم، کبھی کسی کا پنجہ۔ اس کے خواب پہلے تقسیم ہوئے۔ پھر مدھم اور پھر خاموش۔
ایک دن اس نے بوڑھے بھیڑیے سے پوچھا۔ کیا کبھی یہ جنگل بدل سکتا ہے۔ بوڑھا بھیڑیا بولا۔ جنگل ہمیشہ بدلتا ہے۔ کبھی درخت بدلتے ہیں۔ کبھی موسم اور کبھی شکار بدل جاتا ہے۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ سب سے خطرناک پنجہ وہ ہے جو کسی کو یہ یقین دلا دے کہ وہ ہمیشہ زخمی رہنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔
شام آہستہ آہستہ جنگل پر اتر رہی تھی مگر جنگل کے بیچوں بیچ آج پھر جشن تھا۔ بھیڑیے ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ لگڑبگھے قہقہے لگا رہے تھے اور بندر اعلان کر رہا تھا۔ تالیاں بجتی رہیں مگر ایک کونے میں بھیڑ کا بچہ خاموش بیٹھا تھا۔ اس نے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
وہ ہاتھ جو کبھی کسی درخت کی چھاؤں پکڑنا چاہتے تھے، کبھی کسی دروازے پر دستک دینا چاہتے تھے۔ اب وہاں کچھ نہیں تھا۔ ہوا چلی تو میدان میں پڑا ایک کاغذ اس کے قدموں کے پاس آ گرا۔ اس پر لکھا تھا۔
جنگل میں سب برابر ہیں۔
وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔ پھر کاغذ واپس زمین پر رکھ دیا۔ کیونکہ بعض اوقات الفاظ بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کے سائے بہت اندھیرے۔ رات گہری ہوئی۔ دور کہیں ایک اور بھیڑ کا بچہ ممیا رہا تھا۔ وہی آواز۔ وہی خوف۔ وہی امید۔
اور جنگل میں ایک بار پھر بھیڑیوں کی دھاڑ گونجی۔ صبح جب سورج نکلا تو جنگل ویسا ہی تھا۔ راستے وہی تھے۔ تختیاں وہی تھیں۔
قانون وہی تھا۔ بس ایک فرق تھا۔ ایک اور بھیڑ کے بچے نے یہ سیکھ لیا تھا کہ جنگل میں زندہ رہنے کے لیے صرف سانس لینا کافی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ بھی یاد رکھنا پڑتا ہے کہ وہ بھیڑ ہے، شکار نہیں اور شاید کسی دن جنگل کو بھی یہ یاد آ جائے۔